مجھے دفن ہونے کا حق دو

ایک معصوم کی درد کتھا

ابراھیم کنبھر

کھانے کا حق، پینے کا حق،جڑنے کا حق، پڑھنے کا حق، انصاف کا حق، یہ سب بنیادی حقوق ہیں اور ہمارے وطن عزیز کا آئین ان تمام حقوق کی گارنٹی دیتا ہے یہ بات الگ ہے کہ پاکستانی شھری آئے دن بنیادی حقوق نہ ملنے کے خلاف راستوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہوتے ہیں۔یہ تو ہیں بنیاد حق   لیکن آپ نے کبھی  قبر کا حق  سنا ھے کہ مجھے اپنی قبر لوٹا دو مجھے میرا قبرستان دے دو  ؟ اگر میں یہ کہہ دوں کہ دنیا کے کسے کونے میں فلاں ملک فلاں گاؤں فلاں شہر مرنے کے بعد قبر میں لحد اتارنے کا حق نہ ملنے پر لوگ احتجاج کر رہے ہیں اور ان میں سے کسی نے  احتجاجن خودکشی کرلی تو یہ بات کون مانے گا؟اگر میں یہ کہہ دوں کے اپنی پشتوں کی قبروں پر قبضہ گیری کے خلاف ایک  ننھے منے بچے نے گلے میں پھندہ ڈال کر خوکشی کر لی تو کسے اور کیونکر اعتبار آئے؟

میں اس کو اور بھی سادہ زبان میں اس طرح بیان کردوں کہ ایک سولہ برس کے بچے نے اپنے ابائی قبرستان پر بااثر لوگوں کی طرف سے قبضہ کرنے کے خلاف احتجاج کرنے کے بعد یہ کہہ کر خودکشی کرلی کہ شاید اس کے بعد بااثروں کے خلاف کوئی کارروائی ہو جائے۔۔۔کیا یہ بات ہضم کرنے جیسی ہے؟  لوگ گھروں، پلاٹوں،بنگلوں پر قبضےکے خلاف احتجاج کرتے ہیں، ملکیت پر قبضہ ہونے پر خون خرابے ہوجاتے ہیں لیکن میں آپ کو سندھ کے ایسے چھوٹےشھر میں لے چلتا ہوں جہاں ایک بچے نے قبرستان پر بااثروں کے قبضہ کے خلاف خودکشی کر لی۔اس کا نام نریندڑ راٹھوڑ تھا جو ابائی قبرستان پر قبضہ خلاف وہ اپنے والدین اور برادری کے ساتھ احتجاج کر رہا تھا لیکن اس احتجاج  کی کسی نے کوئی پرواہ نہیں کی،وہ بچہ تھا اپنے والد، چچا، ماموں اور دوسرے عزیزوں کے ساتھ احتجاج کرتا تھا، افسروں کو عرضیاں لکھتا تھا،نعرے لگاتا تھا، لیکن کسی کے پاس وقت نہیں تھا کہ کبھی اس احتجاج پر کوئی توجہ دے،سندھ میں اب قبضہ کرنے کے لیے صرف  قبرستانوں کی ہی زمین رہ گئی ہے، بڑے  شھر کراچی کے آس پاس برسوں سے آباد مقامی لوگوں کے قبرستاں  کو  تو بحریہ ٹاؤن اور زرداری گروپ نے  ملی بگھت کرکے بیچ دئیے لیکن اب چھوٹے شھروں کے قبرستان پر بااثر اور ان کے کام داروں نے قبضہ کرنا شروع کردیا ہے، ایسا ہی ایک قبرستان نصرپور شھر ہے جو حیدرآباد کے مضافات میں ہے،ھندوو برادری کے اس قبرستان میں شمشان گھاٹ اور اس سے جڑی چالیس ایکڑ زمین ہے برسوں سے شھر اور آس پاس کے ہندوو اس قبرستان میں مردوں کی چتا جلاتے ہیں،اس زمین پر مقامی زمین داروں نے قبضہ کیا ہوا ہے،یہ قبضہ گیری کے خلاف ایک تحریک تھی جس میں انٹرمیڈیٹ کلاس کے نریندڑ راٹھوڑ نے بڑھ چڑہ کر حصہ لیا،اس تحریک میں آس پاس کے کچھ اور لوگ بھی شامل ہوگئے لیکن زمین داروں اور بااثر لوگوں کا اتنا اثر تھا کہ کوئی بھی ہندووں کے قبرستان،شمشان گھاٹ اور اس سے ملحقہ زمین پر قبضہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔یہ تین دن پرانی بات ھے ایک رات  نریندر کے کمرے سے اس کی پنکھے سے لٹکی لاش ملی اور ساتھ ہی ایک رقعہ بھی جسے سوسائڈل نوٹ کہا جا رہا ہے۔

سندھی میں لکھے اس خط کے آخر میں انگریزی زبان میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ پاکستان بڑا اچھا ملک ہے لیکن اس میں کرپشن بہت ھے۔ نریندڑ راٹھوڑ کے خط کا متن یہ ہے کہ دیکھو، ھر کام کرنے کے لیئے کوئی نہ کوئی قربانی دینی پڑتی ہے۔ میں آج اپنی جان کی قربانی دیتا ہوں اور اللہ کرے گا کہ میری قربانی مرے مقصد کے لیئے سودمند ہوگی۔ جیساکہ ھمارے قبرستان کا مسئلہ چل رہا ہے اور کوئی بہی ابہی تک ھمیں کوئی ریسپانس نہیں دے رہا سو میں ایک ایسی دنیا میں جینا نہیں چاہتا جس میں انصاف نہ ھو، اور میں اپنے پاکستانی لوگوں کو ایک شکایت دیتا ہوں کہ ھمارے قبرستان پہ قبضہ ھمیں قاضی عدیل نے بہت تکلیف دی ہے، اور میں ایسے ملک میں جینا نھیں چاھتا۔دراصل، پاکستان بہت اچھا ہے اور پاکستان کے بچارے مسلمان بہی بہت اچھے ھیں۔ میرے دوستوں نے مجھ سے کبہی میرے ھندو ھونے کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس بہت پئسہ ھے، وہ ظالم ھیں، ظلم کرتے ہیں اور پئسے کی بنیاد پر سب کو اپنے دباوء میں کیئے بیٹھے ہیں۔یہ میرا بیان ساری اخباروں میں دینا اور بتانا کہ ھمارے ایک نوجوان نے تنگ آکر اپنی جان دے دی۔پاکستان ایک بہت بھترین ملک ھے لیکن اس کو کرپٹ لوگوں نے تباہ و برباد کردیا ہے، اور اللہ کرے میرے اس بیان دینے کے بعد انصاف ملے اور قبرستان مل جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے