ہوش کے ناخن لیں

کراچی اپریشن کی کامیابی سے روشنیوں کے شہر کو درندوں سے نجات ملی تھی اور پاک فوج کو بے پناہ عزت ۔اس سے قبل اپریشن ضرب عضب میں شمالی وزیرستان کو انسانی درندوں سے پاک کیا گیا تھا بے شمار جوان رعنا اس اپریشن میں شہید ہوئے ۔ وہ فوجی جوان جنہیں مشرف دور میں وردی میں باہر نکلنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا تھا انہیں بچے سلوٹ کرنے لگے تھے ۔اپریشن رد الفساد نے گویا پاکستانیوں کو دہشت گردی سے نجات دلا دی تھی جس ملک کے شہروں میں ہر روز خود کش حملے ہوتے تھے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر بارود بھری گاڑیوں سے اڑا دئے جاتے تھے، وہاں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے پاس کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہی ۔یہ کس نے جادو کی چھڑی گھمائی ہے ایک سال صرف ایک سال میں پنجاب، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں پاک فوج کے متعلق نعرے لگنے لگے ہیں یہ فوج پاکستان کی ہے بھارت کی نہیں اس فوج نے دہشت گردوں سے نجات دلائی تھی ،خود کش حملوں کو ختم کیا تھا تو پھر یہ نعرے کیوں لگ رہے ہیں ،کہاں پر غلطی ہوئی ہے اور کیوں غلطیوں کو درست نہیں کیا جا رہا کیوں اسے اقدامات نہیں کئے جا رہے جس سے فوج کے متعلق غلط تاثر ختم ہو جائے ۔
ہماری ناقص رائے میں حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے ،شہباز شریف وزارت عظمیٰ سامنے نظر آنے کے باوجود ہاتھ نہیں آیا ،عجلت میں جو کچھ کیا جا رہا ہے اس سے نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے ،ایک حکمت عملی وقتی پسپائی کی بھی ہوتی ہے اور یہ پسپائی ضروری ہے دوسری صورت میں شکست ہو جائے گی ۔جیپ کے نشان پر الیکشن لڑنے والوں کی کامیابی کی کوئی امید نہین پنجاب میں خاص طور پر ایک رجحان بن چکا ہے جو مسلم لیگ ن کی حمایت کا رجحان ہے اگر انتخابی دھاندلی سے جیپ والے امیدواروں کو کامیاب کرانے کی کوشش کی گئی تو اس سے صورتحال مزید بدتر ہو جائے گی اور پنجاب میں اگر کوئی مذاحمتی تحریک شروع ہو گئی تو کسی صورت نہ ہی کسی ادارے اور نہ ہی ملک اور قوم کے حق میں ہوگی ،جہاں تک تحریک انصاف کی پنجاب میں مقبولیت کا تعلق ہے اس کی کچھ ہوا تو نواز شریف کی فراغت کے بعد ہونے والے این اے 120 ،چکوال اور لودھراں کے ضمنی الیکشن میں نکل گئی تھی اور باقی کسر پنجاب میں عمران خان کے انتخابی جلسوں میں نکل گئی ہے جھنگ ،فیصل آباد اور میانوالی کے انتخابی جلسوں میں اتنے لوگ بھی نہیں تھے جتنے کسی قومی اسمبلی کے آزاد امیدوار کی انتخابی ریلی میں ہوتے ہیں ۔تحریک انصاف بہت بڑا بوجھ بن چکی ہے اس بوجھ کو اتار پھینکے کا وقت آچکا ہے ۔بلاول بھٹو کے پنجاب میں انتخابی جلسوں پر زرا نظر ڈالیں پاکستان پیپلز پارٹی کے وہ ووٹر جو مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں تقسیم ہو گئے تھے وہ واپس آنے لگے ہیں ۔جس پاکستان پیپلز پارٹی کا پنجاب میں جنازہ نکالا گیا تھا وہ پیپلز پارٹی پنجاب میں دوبارہ سانس لیتی نظر آرہی ہے ۔
سیاستدان سیاست اقتدار کیلئے کرتا ہے جیلوں میں جانے کیلئے نہیں ۔تحریک انصاف کو کامیاب کرانے کی کوششوں کی کامیابی کی کوئی امید ہوتی تو شہباز شریف قابو میں آجاتا جو چیز سیاستدانوں کو نظر آ رہی ہے نہ جانے کسی اور کو کیوں نظر نہیں آرہی ،اگر کامیابی کی امید ہوتی تو زرداری فرار نہ ہوتا اور سینٹ الیکشن میں کی گئی مہربانی کو یاد رکھتا اور اگر کامیابی کی کوئی امید ہوتی تو نواز شریف اپنی بیٹی کے ساتھ گرفتاری کیلئے واپس پاکستان نہ آتا باہر بیٹھ کر نظام انصاف پر تبرے بھیجتا رہتا جیل کی بدبودار کوٹھری مین رہنا قبول نہ کرتا اب بھٹو پیدا نہیں ہوتے اب نواز شریف پیدا ہوتے ہیں جو حالات سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
تحریک انصاف پر ہاتھ رکھنے کی بہت زیادہ قیمت ادا کی گئی ہے۔ عدلیہ کے متعلق عوامی تاثر خراب ہوا ہے، میڈیا پر دباو کی وجہ سے عالمی سطح پر اداروں کے متعلق اچھا تاثر قائم نہیں ہوا اور ملکی معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے ۔ اسی طرح پاکستان کی افواج کے متعلق پنجاب میں بھی منفی تاثر پھیلنے کا عمل شروع ہو چکا ہے،اگر انتخابی نتایج کو مسترد کر دیا گیا اور کوئی احتجاجی تحریک شروع کر دی گئی تو یہ تاثر زیادہ خطرناک صورت اختیار کر جائے گا ۔اس وقت وقتی پسپائی ہی ملک اور اداروں کے بہترین مفاد میں ہے ۔ کوئی بھی ملک دشمن نہیں، مل بیٹھ کر معاملات طے کئے جا سکتے ہیں اگر ملک کے اندر سیاسی استحکام پیدا ہو جائے تو بیرونی دشمنوں سے دو دو ہاتھ کرنے میں آسانی ہو گی ۔

متعلقہ مضامین