عدالت نے اندھا دھند انصاف کیا، جسٹس کھوسہ

سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے الزام میں سزا یافتہ تین ملزموں کو سات سال بعد بری کر دیا ہے ۔ اپیلوں کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ہائی کورٹ کا بہت اونچا لیول ہوتا ہے لیکن ہائی کورٹ کے ایسے فیصلوں کو کیسے اہمیت دیں ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جس جرم کی سزا دس سال اس کی چودہ سال سنا دی، ہائی کورٹ نے بھی بغیر دیکھے ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر مہر لگا دی ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اندھا دھند انصاف کیا، انصاف اندھا ہوتا ہے لیکن اندھا دھند نہیں ہوتا، وقوعہ میں بارہ لوگ جل کر خاکستر ہو گئے تھے اور پھر انوسٹی گیشن، ٹرائل، اور فیصلوں نے سب کچھ خاکستر کر دیا ۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ استغاثہ ملزموں کیخلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، ملزموں رحمت اللہ، مراد علی اور عبدالرحمن کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے ۔

سپریم کورٹ نے ملزمان کیخلاف سزائے موت اور عمر قید سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ۔ ملزمان پر بلوچستان کے علاقے سبی میں 2011میں بس پر فائرنگ کا الزام تھا، فائرنگ سے بس میں سوار بارہ مسافر جاں بحق ہوے تھے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے