مستقبل کے ساتھ کھلواڑ

کسی ملک کے لئے سیاسی عدم استحکام سے بڑھ کر کوئی مہلک مرض نہیں ہو سکتا۔ یہ مرض لاحق ہو جائے تو ہر طرح کے وائرس حملہ آور ہونے لگتے ہیں اور یہ حملے ملک کی چولیں ہلا دیتے ہیں۔ کار و بار پر بے یقینی کا وائرس حملہ کرکے پہلے سے موجود سرمائے کو ڈبونے لگتا ہے جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مزید سرمایہ کاری بھی رک جاتی ہے۔ سرمایہ کار کروڑوں اور اربوں کی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ بے یقینی کی صورتحال میں اتنا بڑا سرمایہ لگانا سرمائے کو آگ میں جھونکنے کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہوتا ہے کہ چھوٹے سرمایہ کاروں کی کل جمع پونجی ڈوب جاتی ہے جس سے ان کے دل نفرت اور انتقام کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔ سیاسی انتشار کا وائرس عوامی سطح پر سرایت کرکے فسادات اور جلاؤ گھیراؤ کی صورتحال پیدا کر دیتا ہے جسے بروقت کنٹرول نہ کیا جا سکے تو یہی انتشار خانہ جنگی میں تبدیل ہو کر ملک کو پچاس پچاس اور سو سو سال پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ خانہ جنگی کے یہ بد ترین نظائر آج کی دنیا میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ شام اس کی تازہ مثال ہے۔ وہاں سیاسی عدم استحکام انتشار میں تبدیل ہوا اور انتشار خانہ جنگی میں بدل گیا۔ اس ملک کے بچوں کی لاشیں سمندر اگل رہے ہیں اور اس کے لاکھوں شہری در بدر ہو کر خیرات کی روٹی صرف اس لئے کھا رہے ہیں کہ کچھ لوگوں کو ’’تبدیلی‘‘ رونما کرنے کا شوق چڑھا تھا۔ عدم تحفظ کا وائرس تعلیمی اداروں کو ویران کر دیتا ہے اور ایک پوری نسل ضائع ہونے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ موقع پرستی کا وائرس ذخیرہ اندوزی کی وبا پھیلا دیتا ہے جس سے پورے ملک میں غذائی اجناس کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ قانون کی عملداری کو لگنے والا وائرس پہلے اسے کمزور اور پھر ختم کر ڈالتا ہے۔ یہیں سے گوداموں، دکانوں اور حتی کہ گھروں کو لوٹنے کا عمل شروع جاتا ہے۔ جب اندرونی طور پر زندگی کا ہر شعبہ اس تباہ کن صورتحال کی لپیٹ میں آجاتا ہے تو پھر بیرونی دشمن کاری وار کے اس سنہرے موقع کو ضائع نہیں کرتا۔ پھر وہ ہوتا ہے جس سے ہر حال میں خدا کی پناہ مانگنی چاہئے۔

اب ذرا اس بات کا جائزہ لیجئے کہ بیان کردہ خطرات کے امکانات ہمارے ہاں کتنے ہیں۔ بیرونی طور پر چار میں سے تین پڑوسیوں سے ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں۔ بھارت نے لائن آف کنٹرول کو گرم کر رکھا ہے، افغانستان گزشتہ ہفتے ہی کوئٹہ میں دو اعلی پولیس افسران کو بم دھماکوں میں شہید کر چکا اور ایرانی فوج کے سربراہ کی دھمکی اور ڈرون کا معاملہ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ تناؤ کی اس صورتحال میں ملک کے اندر پچپن ارب ڈالرز والے سی پیک کی تعمیر جاری ہے جس کے دشمن ہمارے پڑوس سے دور بھی کئی پائے جاتے ہیں۔ دہشت گردی اب تک ستر ہزار کے لگ بھگ انسانی جانیں لے چکی اور اس وقت ہم اس کے خلاف ایک مؤثر جنگ لڑ رہے ہیں۔ فا ٹا اور خیبر پختون خوا میں آزادی کی کوئی تحریک تو نہ تھی لیکن وہاں سے ملکی تاریخ کی بد ترین دہشت گردی نے ہمیں بہت گہرے زخم ضرور لگائے ہیں۔ بلوچستان میں تو سیدھی سیدھی جنگ آزادی لڑی جا رہی ہے اور اس جنگ کو ہمارے پڑوسیوں کی پوری پوری سرپرستی میسر ہے۔ کراچی سے وطن دشمن نعرے گونجے اور یہ گونج پوری دنیا نے سنی۔ اگر غور کیا جائے تو دہشت گردی کو لگام ہی تب ملنے لگی جب موجودہ حکومت بر سر اقتدار آئی۔ دہشت گردی کے خلاف ہمہ جہت قسم کے فوجی آپریشنز شروع ہوئے۔ حکومت مخالف عناصر اسے صرف فوج کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ کیا پیپلز پارٹی کے دور میں فوجی آپریشن حرام تھے ؟ یہ آپریشنز حکومت، فوج اور عوام کی مشترکہ قومی کاوش ہے اور یہ موجودہ وزیر اعظم کے حکم نامے کے تحت ہی ہو رہے ہیں۔ عسکری امور کا تجربہ رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ مضبوط سیاسی نظام اور قومی اتفاق رائے کے بغیر نہ جنگ جیتی جا سکتی ہے اور نہ ہی کوئی آپریشن کامیاب ہو سکتا ہے۔ نواز شریف کو گالی شوق سے دیجئے لیکن کیا ہے کوئی جو اس بات سے انکار کر سکے کہ سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لئے نواز شریف نے بھر پور موقع ہونے کے باوجود کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے دی ؟ کوئی جھٹلا سکتا ہے اس حقیقت کو کہ بھر پور مواقع ہونے کے باوجود نواز شریف نے آزاد کشمیر کی پیپلز پارٹی حکومت کو عدم اعتماد کے ووٹ سے گرانے نہیں دیا ؟ کوئی کرسکتا ہے غلط ثابت کہ بھر مواقع ہونے کے باوجود نواز شریف نے بلوچستان میں ان مرکز گریز بلوچ و پشتون قوم پرستوں کو اقتدار دیا جنہیں اس سے قبل صرف غداری کے سرٹیفکیٹ ملا کرتے تھے ؟ کیا یہ سچ نہیں کہ مرکز میں ضرورت نہ ہونے کے باوجود نواز شریف نے اس مولانا فضل الرحمن کو اقتدار میں شریک کیا جو وزیرستان کے دروازے پر رہتا ہے اور جو وہاں کی سب سے طاقتور سیاسی آواز ہے۔ یہ ان سیاسی اکائیوں سے جوڑے گئے اقتدار کا کرشمہ ہے کہ ہمارے فوجی آپریشنز کامیاب ہوئے۔ اگر یہ ڈھانچہ نہ ہوتا تو فوجی آپریشنز رسک ہوتے۔ وہی رسک جس کی وجہ سے یہ پیپلز پارٹی کے دور میں نہ ہو سکے۔

مت بھولیں کہ جب مذہب کے نام اور جہاد کے مقدس عنوان تلے دہشت گرد ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا فریب دے کر مذہبی نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کی دعوت دے رہے تھے تو یہ فضل الرحمن کی جے یو آئی اور سراج الحق کی جماعت اسلامی تھی جس نے اپنے لاکھوں ورکرز کو پر امن سیاسی جد و جہد سے جوڑے رکھ کر انہیں خود کش بمبار بننے سے روکا۔ آج فضل الرحمن مرکز اور سراج الحق صوبائی اقتدار میں ہیں تو ان کے کار کن خوش ہیں کہ پر امن سیاسی جد و جہد سے ہمارا اقتدار میں جتنا حصہ بنتا تھا وہ ہمیں ملا لھذا پر امن سیاسی جد و جہد ہی بہتر راستہ ہے اور ہم اس میدان میں مزید محنت کرکے مزید حصہ بھی وصول کر سکتے ہیں۔ پہلی بار محمود خان اچکزئی کی پشتون خوا ملی عوامی پارٹی اقتدار میں ہے اور اس جماعت کے ورکرز کا یہ شکوہ ختم ہوا ہے کہ ان کے لئے اس ملک میں صرف غداری کے سرٹیفکیٹ ہیں۔ صرف یہ شکوہ ہی ختم نہیں ہوا بلکہ اب ان کا پر امن سیاسی جد و جہد پر اعتماد بھی پختہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس بلوچ بیلٹ میں آزاد بلوچستان کی باتیں ہو رہی تھیں وہیں سے میر حاصل خان بزنجو کی نیشنل پارٹی بلوچستان پر حکومت کر کے بلوچ عوام کو وطن سے جڑے رہنے اور پر امن سیاسی جد و جہد کی تلقین کر رہی ہے اور ان کا اقتدار میں ہونا بلوچ قوم پرستوں کے لئے امید کی ایک کرن ہے۔ یہ ڈھانچہ اس پنجاب کے وزیر اعظم نے ترتیب دیا ہے جسے خیبر پختون خوا اور بلوچستان سے ہمیشہ گالیاں کھانی پڑی ہیں۔ اس صورتحال میں پہلی بار ایک ایسی حکومت پر یلغار جاری ہے جس نے چار سال میں بہت کچھ ڈیلیور کیا ہے اور اس کی اس چار سالہ کار کردگی پر نہ کوئی سوالیہ نشان ہے اور نہ ہی اس کا کوئی سکینڈل سامنے آیا ہے۔ بات صرف اتنی نہیں کہ اس پیدا کردہ بحران سے مسلم لیگ کو نقصان ہوگا۔ اس سے ملک کو نقصان ہوگا۔ فضل الرحمن ، محمود خان اچکزئی اور میر حاصل خان بزنجو کے کارکن ان سے پوچھیں گے کہ کیا آپ اب بھی پر امن سیاسی جد و جہد پر یقین رکھتے ہیں ؟ وہ کونسا قصور ہے جس کی سیاسی نظام کو سزا دی گئی ؟ ظاہر ہے کہ ان قائدین کے لئے یہ مشکل صورتحال ہوگی۔ وہ اس کا جواب نہیں دے سکیں گے۔ ان کے لئے اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنا مشکل ہو جائے گا اور یقین کامل رکھئے کہ ان جماعتوں کے کارکنوں کا غصہ ملک کے دو اہم اداروں پر ہی اترے گا۔ کیا یہ ملک اس صورتحال کا متحمل ہو سکتا ہے ؟ کیا سیاسی جد و جہد پر اعتماد تباہ نہیں ہوگا ؟ کیا یہ پر تشدد سیاسی انتشار کا دروازہ نہیں کھولے گا ؟ اور خاکم بدہن یہ خانہ جنگی کے دروازے پر دستک نہ ہوگی ؟ اور کیا یہ حرکت افغانستان میں ہمارے خلاف تیزی سے مضبوط ہوتی داعش کا کام مزید آسان نہ کردے گی ؟ آپ نواز شریف کے اقتدار کے ساتھ نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں !

(پچھلے سال 18 جولائی کو لکھا گیا کالم جو آج کی تاریخ میں مزید اہم ہو گیا ہے، فاروقی)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے