حنیف عباسی کی سزا

اظہر سید

الیکشن سے تین دن پہلے حنیف عباسی کی سزا نے انتخابات کی رہی سہی ساکھ (کریڈبیلٹی) کا بھی کباڑا کر دیا ہے اور جسٹس شوکت صدیقی کے الزامات کو بھی تقویت دی ہے ۔انسداد منشیات عدالت میں اے این ایف دو سال تک تاریخیں لیتی رہی اور کیس لٹکاتی رہی حنیف عباسی کے وکلا ہمیشہ ٹرائل شروع کرنے کی درخواست کرتے تھے۔حنیف عباسی کی سزا شیخ رشید یا تحریک انصاف کیلئے ہی نقصان کا باعث نہیں بنے گی بلکہ میاں نواز شریف کے خلاف انتقامی کاروائی اور ووٹ کو عزت دو کے موقف کو بھی تقویت دے گی۔حنیف عباسی نا اہل ہو چکے ہیں ان کے کورنگ امیدوار کے کاغذات نامزدگی بھی ٹیکنیکی بنیادوں پر مسترد ہو چکے ہیں اور بظاہر شیخ رشید کیلئے راستہ صاف ہو گیا ہے ،تاہم اس فیصلے سے راولپنڈی میں مسلم لیگ ن کے کارکنان میں غم و غصہ کے جو جذبات پیدا ہوئے ہیں مسلم لیگ ن اگر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دے تو شیخ رشید کی امیدوں پر پانی پھر جائے گا۔
حنیف عباسی کیس کا فیصلہ اس لحاظ سے بھی انوکھا ہے کہ انہیں منشیات کے اسمگلر کی زیادہ سے زیادہ قانونی سزا سنائی گئی ہے جبکہ ایفڈرین منشیات نہیں بلکہ منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک جزو ہے ۔حیرت انگیز بات یہ ہے اے این ایف نے کوئی اسمگلر بطور گواہ بھی پیش نہیں کیا جسے ایفڈرین فروخت کی گئی ہو ۔
کیس کی باقی تمام ملزمان کی بریت اس سے بھی انوکھی بات ہے کہ شخص مجرم قرار دیا جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سزا کا حقدار بھی لیکن کیس میں باقی کسی ملزم کو سزا نہیں ملتی ۔مجرم نے جو کوٹہ لیا وہ منشیات کی تیاری کیلئے کسی کو تو فروخت کیا تو جنہیں فروخت کیا وہ کہاں پر ہیں ؟ یہ بہت سنجیدہ سوالات ہیں جنہوں نے اس کیس کی ساکھ پر متعدد سوالات کھڑے کر دئے ہیں ۔یہ مقدمہ پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں ہمیشہ سوالیہ نشان رہے گا مقدمہ کا فیصلہ الیکشن سے تین دن پہلے کرنے کیلئے ہائی کورٹ کے احکامات خود اپنی جگہ الگ سے قانونی حلقوں میں زیر بحث رہیں گے اور معاملے کے سیاسی پہلووں کی طرف اشارے کریں گے۔ حالیہ ماضی میں عدالتوں میں جس طرح سیاسی معاملات پر توہین عدالت وغیرہ پر نا اہلی کی تلوار استمال ہوئی ہے وہ اپنی جگہ خود ایک بڑا سوال ہے اور ان سے جسٹس صدیقی کے الزامات کو اہمیت ملتی ہے کہ عدالتوں کو کہیں سیاسی مقاصد کیلئے تو استمال نہیں کیا جا رہا ۔

متعلقہ مضامین