پیپلز پارٹی، قبریں اور مجاور

پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ جماعت ذولفقار علی بھٹو کے بعد عملا قدامت پرستی سے دوچار ہے۔ اس جماعت میں صرف ذوالفقار علی بھٹو اور اس کے کارکن اپنے عہد میں جئے۔ نتیجہ یہ کہ بھٹو صاحب اس ملک کے لئے جو کرکے گئے وہ آج بھی ٹھوس حوالہ ہے۔ اس کے بعد کے ادوار میں ستم یہ ہوا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں یہ جماعت محترمہ کے عہد میں داخل نہ ہو سکی بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہی اٹک کر رہ گئی۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ محترمہ اپنے باپ سے زیادہ بڑی لیڈر تھیں کیونکہ ان کے والد اپنے تمامتر لیجنڈری قد کاٹھ کے باجود ایک جذباتی شخص تھے اور سیاست میں جذباتیت کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جس کا بھٹو صاحب کو سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برخلاف محترمہ جذباتیت سے پاک تھیں۔ وہ ایک مدبر خاتون تھیں۔ اپنا ایمج انہوں نے لبرل کا قائم کر رکھا تھا لیکن وہ اپنے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے علی الرغم جا کر افغان طالبان بھی تخلیق کر لیتی تھیں۔ کبھی مناسب وقت پر بتاؤں گا کہ اپنے دوسرے دور حکومت میں انہوں نے عرب مجاہدین کو جبر سے بچانے کے لئے مصری وزیر دفاع فیلڈ مارشل حسین طنطاوی کے ساتھ کیا کیا تھا۔ اور یہ میں ہی آپ کو بتاؤں گا کیونکہ پیپلزپارٹی کے نام نہاد دانشوروں کو تو محترمہ کی سیاست کا یہ پہلو عوام کو دکھانے میں شرم آتی ہے۔ میں محترمہ کا ذکر بہت ہی احترام سے اسی لئے تو کرتا ہوں کہ وہ اپنے عہد میں ہم مجاہدین کی حقیقی سرپرست تھیں۔ محترمہ کےساتھ ظلم یہ ہوگیا کہ اپنے والد کے دور کے "انکلز” کو فارغ کرنے کے باوجود ان کی جماعت کی جواں سال قیادت محترمہ کے عہد میں داخل ہی نہ ہوسکی۔ جس کا بھی منہ کھلتا "شہید زوالفقار علی بھٹو ” سے بات شروع کرتا۔ نتیجہ یہ کہ بی بی اپنے قد کاٹھ کے مطابق پرفارم ہی نہ کرپائیں۔ یہی تماشا آج بھی چل رہا ہے۔ زمانہ بلاول کا آگیا تو پیپلزپارٹی بلاول کے بجائے محترمہ کے دور میں کھڑی ہے۔ جس کا بھی منہ کھلتا ہے "شہید بی بی” سے ہی بات شروع کرتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اب بلاول کا پورا دورِ قیادت اس بینظیر دور کا اسیر رہے گا جب بلاول ایک بچہ ہوا کرتا تھا۔ ایک دن مؤرخ یہ پوچھے گا کہ "بلاول بڑا کب ہوگا ؟” اور بلاول کے بڑا نہ ہوپانے میں بلاول کا کوئی قصور نہ ہوگا۔ قصور تو اس بدبخت کا ہے جس نے پہلی بار "آج بھی بھٹو زندہ ہے” کا نعرہ بلند کیا تھا۔ بھٹو مرے گا نہیں تو بلاول خاک بڑا ہوگا ؟

سوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کو پچھلے زمانوں میں کون رکھ رہا ہے ؟ کیا اس کی قیادت ؟ نہیں ! تو پھر ؟ اس کے وہ صاحب قلم دانشور یہ واردات کر رہے ہیں جو بینظیر کے پورے عہد میں ذوالفقار علی بھٹو کے فضائل لکھتے رہے اور جب بلاول کا دور آیا تو وہ بینظیر بھٹو کے فضائل بیان کرنے بیٹھ گئے ہیں۔ یہ دانشور نہیں پیپلز پارٹی کی مرحوم قیادت کی قبروں کے مجاور ہیں جو روز اپنے قلم سے ان قبروں پر اگربتیاں سلگا کر اپنی دو وقت کی روٹی کھری کرنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ اسی مرض نے ہمارے مذہبی طبقے کو تاحیات قدامت پرستی سے دوچار کر رکھا ہے جو ہمیشہ اپنے مرحوم اکابر کے دور میں جیتے رہتے ہیں۔ جوں ہی ان سے ان کے اپنے عہد کی بات کی جائے تو کس کے ایک فتوی رسید کر دیتے ہیں۔ بعینہ پیپلزپارٹی کا انجام بھی سامنے ہے۔

میں شرطیہ کہتا ہوں کہ آپ اس جماعت کے ورکرز سے لے کر قیادت تک کسی بھی مجلس میں اس غرض سے چلے جائے کہ میں اگلے دو گھنٹے تک اس جماعت کے مستقبل کے منصوبے جاننے کی کوشش کروں گا۔ آپ کے بیٹھنے کے دو منٹ کے اندر اندر محترمہ بینظیر بھٹو کا ذکر چل پڑے گا اور یہ ذکر تب تک برقرار رہے گا جب تک آپ اس جماعت کے مستقبل کے منصوبے جاننے سے تائب ہو کر اٹھ نہ جائیں۔ لیجئے اب وہ جانئے جو آپ کو چونکا دے۔ آپ کو پتہ ہے نون لیگ کی خوش بختی کیا ہے ؟ اس جماعت کی خوش بختی یہ ہے کہ اس کی قیادت ابھی مرحوم نہیں ہوئی۔ ان کے پاس مجاوروں کے لئے ابھی کوئی قبر موجود نہیں۔ فرق دیکھئے کہ مرحومین کے دور میں جینے والی پیپلزپارٹی کا سندھ آج بھی وہی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور والا سندھ ہے۔ جبکہ پنجاب آج کے عہد کا پنجاب ہے۔ یہ سندھ سے پورے چالیس سال آگے چل رہا ہے تو صرف اس لئے کہ نون لیگ عہد حاضر میں جی رہی ہے۔ یہ کسی مرحوم کے زمانے میں نہیں کھڑی۔ اس کے پاس قبریں نہیں ہیں تو مجاور بھی نہیں ہیں۔ مجاور نہیں ہیں تو جماعت کسی گزرے ہوئے زمانے کے پاکنگ لاٹ میں بھی نہیں کھڑی !

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button