چیزوں کو سمیٹ لیں

اظہر سید

آرمی چیف کے بیان کی وضاحت آگئی ہے انہوں نے دشمن قوتوں کو شکست دینے کی بات دہشت گردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہی تھی ۔ایک وضاحت ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے بھی آنا چاہے قران پاک کی آیت "بے شک عزت اور ذلت اللہ دیتا ہے "اس کا پس منظر سیاسی نہیں تھا اور نہ ہی میاں نواز شریف کو مخاطب کیا گیا تھا ۔انتخابات ہو چلے اور عمران خان کامیاب ہو گئے ۔انتخابات میں عدلیہ کا کردار کیا تھا اور نیب ایسے ادارے کو کس طرح استعمال کیا گیا ۔2018 کے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن نے آذادانہ کردار ادا کیا یا طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر برہنہ رقص، یہ تمام سوالات تاریخ کے سپرد کرنے ہونگے اور درپیش چیلنجز کا سامنا مشترکہ قومی عزم سے کرنا ہو گا۔آرمی چیف کے بیان کی وضاحت بہت خوش آئند ہے اسی جذبہ کو لے کر اب چیزیں سمیٹ لینا چاہئیں ۔
پناما کیس سے جو ڈرامہ شروع ہوا اس کا ڈراپ سین ہو چکا ہے، جو جھوٹ بولا گیا وہ فصل بھی کٹ گئی ہے ۔تحریک انصاف کے سربراہ کی وزارت عظمی کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنا ہونگی اگر اس قوم کا ایک حصہ انہیں تبدیلی کا استعارہ اور کرپشن سے پاک پاکستان کے خواب کی تعبیر سمجھتا ہے تو انہیں موقع ملنا چاہے ۔70 سال گزر گئے ابھی بھی منزل نہیں آئی ایک موقع اگر کسی نئے کھلاڑی کو دیا گیا ہے تو نتایج کا انتظار کرنا چاہے۔
میاں نواز شریف اس ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں جس قدر قومی راز ان کے سینے میں دفن ہیں شائد ہی کسی اور پاکستانی کے سینے میں چھپے ہوں ۔آرمی چیف کی تعیناتی نواز شریف نے کی تھی اور جن حالات میں کی تھی جنرل باجوہ کو وہ بھولنا نہیں چاہے ۔نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے عین دو روز قبل ایک ویڈیو پیغام کے زریعے انکی تعیناتی روکنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن میاں نواز شریف نے اپنے فیصلے میں تبدیلی نہیں کی تھی۔جنرل باجوہ کو علم ہے مولانا ساجد میر کے بیان کا پس منظر کیا تھا اور کونسی قوتیں اس کے پیچھے تھیں ۔میاں نواز شریف غصے میں ہیں اور ہسپتال کی بجائے واپس جیل جانے پر اصرار کر ریے ہیں ۔سابق وزیراعظم کے دل کے پیچیدہ اپریشن ہو چکے ہیں ۔68 سالہ سیاستدان شوگر کا مریض ہے ۔پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے سی پیک تک انکی حب الوطنی کا ان تمام قوتوں کو پتہ ہے جنہیں پتہ ہونا چاہے۔
سویلین بالادستی کی خواہش اتنا بڑا جرم نہیں کہ سزا دینے کیلئے ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا جائے۔پاکستان کی عدلیہ متنازعہ ہو چکی یہ بہت خطرناک صورتحال ہے ،جو کام لینا تھا لے لیا ۔الیکشن کمیشن متنازع ہو چکا اور قومی احتساب کا ادارہ بھی متنازع ہو چکا ۔کام ہو چکا ہے میاں نواز شریف کی فراغت ہی نہیں ہوئی ان کی جماعت کو الیکشن میں شکست بھی ہو چکی ۔جب تمام اہداف حاصل ہو چکے تو جس جذبہ سے دشمن قوتوں کے بیان کی وضاحت کی گئی اسی جذبے سے دوسرے درکار اقدامات بھی کئے جائیں ۔تمام اداروں خاص طور پر عدلیہ کو آئین اور قانون کے دائرہ کار میں لایا جائے ۔سوموٹو کی تلوار کے منہہ کو اختیارات کا جو خون لگ گیا ہے اسے روکا نہ گیا تو دو ماہ بعد عمران خان کی حکومت بھی اس کے سامنے سسکتی نظر آئے گی۔نیب کو لگام نہ ڈالی گئی تو کل عمران خان بھی نیب میں بطور وزیراعظم پیشیاں بھگتے نظر آئیں گے ۔اگر پاکستان کو تبدیل کرنا ہے تو نئی حکومت کو موقع ملنا چاہے یہ نہ ہو تبدیلی لانے والا عدالتوں میں اپنی ناجائز بیٹی کا جواب دیتا پھرے ۔عوام نے فیصلہ دے دیا ہے اگر نئی حکومت بھی دھوکہ ہوا تو عوام خود اس کا خاتمہ کر دیں گے۔
سیاسی جماعتوں نے الیکشن دھاندلیوں کے خلاف احتجاج کی راہ نہیں اپنائی ۔جس طرح سوات ،مانسہرہ ،مری اور دیگر علاقوں میں احتجاج کا آغاز ہوا تھا سیاستدان چاہتے تو جلتی پر تیل ڈال سکتے تھے لیکن سیاستدانوں نے حالات کی نزاکت کا خیال کیا ۔افواج پاکستان عوام اور سیاستدان سب ایک زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں ۔میاں نواز شریف کا احترام کیا جائے ۔نجی چینلز پر جو چماٹ بٹھائے ہوئے ہیں انہیں لگام دی جائے، اپریشن نواز شریف مکمل ہو چکا ہے، کم از کم اب تو ڈیل این آر او اور موڈی کے یار کا پراپیگنڈہ بند کرایا جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے