نواز شریف کی اسپتال یاترا کی کہانی

سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل اور اسپتال میں میڈیا سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور انتظامیہ نے سب کو دھوکے میں رکھا ۔

عمر برنی

قید کے سولہویں روز مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف کی اڈیالہ جیل میں طبیعت بگڑ گئی۔ ایک شاہانہ زندگی گزارنے والے شخص کو جب قید و بند کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑے تو طبیعت کا بگڑنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ نواز شریف دل کے مریض ہیں اور حال ہی میں ان کا لندن کے ایک پرائیویٹ کلینک میں بائی پاس بھی ہوا تھا۔ جبکہ ان کی عمر بھی اڑسٹھ سال ہے۔ پمز کی میڈیکل ٹیم کی جانب سے نواز شریف کا معائنہ کیا گیا ، اس موقع پر نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی موجود تھے جن کی تجویز پر ان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ نواز شریف اسپتال منتقل ہونے کو تیار نہ تھے اور اصرار کر رہے تھے کہ ان کا علاج جیل میں ہی کیا جائے۔ ایک طرف انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے اقدامات کو حتمی شکل دی جا رہی تھی تو دوسری جانب سابق وزیراعظم کو اسپتال منتقل ہونے کیلئے منانے کی کوششیں بھی جاری تھیں۔ انتظامیہ نے ہار مانی اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور مریم نواز کو میدان میں اتارا گیا۔ آخر کار نواز شریف نے اپنی بیٹی اور داماد سے طویل ملاقات کے بعد اسپتال منتقل ہونے کی حامی بھر ہی لی۔

ابتدائی طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہورہی تھی کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو کس اسپتال منتقل کیا جائے گا، یہ اطلاعات بھی زبان زدعام تھیں کہ شاید نواز شریف کو راولپنڈی کارڈیالوجی سینٹر منتقل کیا جائے تاہم انتظامیہ کی جانب سے پمز اسپتال کا چناؤ کیا گیا۔ پمز اسپتال کے کارڈیالوجی سینٹر کے صفائی ستھرائی کے انتظامات کیے جا رہے تھے، پرائیویٹ وارڈ کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔ پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی جبکہ اسپیشل برانچ کے اہلکار بھی سکیورٹی پر مامور تھے، وفاقی پولیس کے اعلیٰ حکام وقتاً فوقتاً پمز کا دورہ کرتے اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے۔ لیکن پمز انتظامیہ ابھی تک یہ بتانے سے قاصر تھی کہ کیا واقعی نواز شریف کو پمز اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ ایسے میں میڈیا کی کچھ ٹیموں کو پمز جبکہ کچھ کو راولپنڈی کارڈیالوجی سینٹر تعینات کیا گیا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سخت سکیورٹی میں اسپتال کیلئے اڈیالہ جیل سے روانہ کیا گیا۔ ان کے قافلے میں بکتر بند گاڑی بھی موجود تھی تاہم نواز شریف قافلے میں شامل ایمبیولینس میں سنوار تھے۔ اتوار کی رات تقریباً 9 بجے پمز اسپتال کے کارڈیالوجی سینٹر کی پرائیویٹ وارڈ میں ایک دم سے سکیورٹی بڑھا دی گئی۔ پولیس اہلکار پرائیویٹ وارڈ کے داخلی راستے پر حفاظتی حصار بنا کر کھڑے ہوگئے۔ سارا میڈیا بھی ان کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے کچھ کارکنان بھی موجود تھے جو نواز شریف کی پمز اسپتال آمد کی بھنک لگتے ہی فوراً پہنچے تھے۔ تمام تر انتظامات مکمل تھے، ہر آنکھ کو نواز شریف کی ایمبیولینس کا انتظار تھا۔ پولیس کے اعلیٰ حکام بھی وہیں موجود تھے۔ کارڈیالوجی سینٹر کے پرائیویٹ وارڈ کا داخلی راستہ کھچا کھچ بھر چکا تھا۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔ اچانک ہی۔۔

اچانک ہی خبر آئی کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پرائیویٹ وارڈ کے بجائے مرکزی کارڈیالوجی سینٹر کے عقبی دروازے سے داخل بھی کردیا گیا۔ تمام صحافی ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔ سب کے چہروں پر مایوسی صاف ظاہر تھی۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو جب پتہ چلا کہ انتظامیہ نے میڈیا سمیت سب کو ماموں بنایا ہے تو انہوں نے اپنے قائد کے حق میں نعرے بازی شروع کردی ۔ ایسے میں ایک بابا جی آئے اور نواز مخالف نعرہ لگا ڈالا، بس پھر کیا تھا، لیگی کارکنوں نے بابا جی کو گھیر لیا ، یہ تو اچھا ہوا کہ اس وقت پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں موجود تھی ورنہ بابا جی کو بھی شاید اسپتال داخل کرنا پڑ جاتا۔ خیر، خوب ہلہ گلہ ہوا، نعرے بازی ہوئی، گالم گلوچ ہوئی اور آخر میں پولیس بابا جی کو گاڑی میں سوار کر کے کہیں دور لے گئی۔

نواز شریف تین روز اسپتال میں رہے، پمز کی کارڈیک وارڈ کو سب جیل کا درجہ دے دیا گیا تھا جہاں ڈاکٹرز کے بورڈ نے ان کا مکمل معائنہ کیا اور شوگر، قلب سمیت مختلف ٹیسٹ بھی کیے۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف بار بار اڈیالہ جیل واپس جانے کیلئے اصرار کرتے رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ ان کو فوراً اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے اور باقی علاج جیل میں ہی کیا جائے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ کچھ نام نہاد اینکر حضرات ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر دن رات ایک نئے این آر او کی جھوٹی خبریں پھیلانے میں مصروف تھے۔ نواز شریف نہیں چاہتے تھے کہ جس مقصد کیلئے وہ جیل گئے، اس کو ٹھیس پہنچے۔ تاریخ گواہ ہے کہ چاہے وہ فاطمہ جناح ہوں، یا ذوالفقار علی بھٹو، ووٹ کو جس نے بھی عزت دلانے کی کوشش کی، اس کی زندگی تباہ کردی گئی۔

نواز شریف کے پمز اسپتال میں قیام کے آخری دن ان کا حتمی معائنہ کیا گیا۔ مختلف ٹیسٹ کیے گئے، رپورٹس مثبت آنے پر انہیں اڈیالہ جیل واپس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تقریباً دن دو بجے خبر آئی کہ صدر مملکت ممنون حسین نواز شریف کی عیادت کیلئے پمز اسپتال آنا چاہتے ہیں۔ اس خبر نے میڈیا میں کھلبلی مچا دی۔ پمز کے گردونواح میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔ کارڈیالوجی سینٹر میں عام افراد کا داخلہ بند کردیا گیا۔ شام کو پروٹوکول کی گاڑیاں پمز اسپتال کے کارڈیالوجی سینٹر کے مرکزی دروازے پر آ کر رکیں، بتایا گیا کہ صدر مملکت تشریف لائے ہیں، لیکن کہانی کچھ اور ہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد خبر آئی کہ نوازشریف کا قافلہ اڈیالہ جیل کی طرف رواں دواں ہے۔ موقع پر موجود صحافی ایک بار پھر ششدر رہے گئے۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ صدر مملکت نے تو کبھی آنا ہی نہیں تھا، یہ تو صرف میڈیا کو دور رکھنے کی حکمت عملی تھی۔ نواز شریف اڈیالہ جیل پہنچ بھی گئے اور میڈیا ایک بار پھر دھوکہ کھا گیا۔

انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کی دھوکہ دہی نے اس بات کی تصدیق کردی کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، نواز شریف کا میڈیا سے آمنا سامنا نہیں ہونا چاہیے، نہ جانے وہ کیا کر بیٹھیں، نہ جانے وہ کیا کہہ بیٹھیں۔ مطلب کسی صورت میں بھی عوام نواز شریف کی ایک جھلک تک نہ دیکھ سکیں۔ سکیورٹی کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا وہ دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہ تھا۔ چند عناصر کو نواز شریف کی سکیورٹی سے زیادہ اپنی سکیورٹی مقصود تھی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم کا میڈیا کے روبرو ہونا ان کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ نواز شریف کی ضرورت سے زیادہ سکیورٹی نے یہ ثابت کردیا کہ وہ آج بھی نواز شریف سے خوف زدہ ہیں اور یہی خوف ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی مقبولیت کا پتہ دیتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے