چیف جسٹس اور ملک ریاض میں مکالمہ

سپریم کورٹ نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے بحریہ کا نام استعمال کرنے کے ازخود نوٹس کی سماعت کی ہے، عدالت نے لاہور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالت سے کہا ہے کہ اس معاملے پر زیر التوا درخواستیں 15 روز میں نمٹائیں ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے وکیل اعتزاز احسن پیش ہوئے اور بتایا کہ بحریہ کا نام استعمال کرنے پر دو مختلف درخواستیں ماتحت عدلیہ اور لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں ۔ سپریم کورٹ نے ماتحت عدلیہ اور ہائیکورٹ کو بحریہ نام استعمال کرنے کے معاملے کو 15 دن میں نمٹانے کی ہدایت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے پوچھا کہ ملک ریاض کہاں ہیں؟ ادھر آ جائیں آپ ڈیم کیلئے کیا کر رہے ہیں؟۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک ملک ریاض نے کہا کہ ہم سے جو کچھ ہوسکا ڈیمز کیلئے انشا اللہ ضرور کریں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم فنڈ میں اربوں روپے کی کوئی اچھی خاصی رقم دے دیں، ہم سب نے مل کر ڈیم تعمیر کرنے ہیں ۔ ملک ریاض کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ ڈھڈوچہ ڈیم کی سائیٹ ون پر تعمیر کے لئے میرے موکل راضی ہیں، 2015 میں بھی سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ بحریہ ٹائون یہ ڈیم بنا کر دے گا، پنجاب حکومت نے سٹے لیا ہوا ہے اور ڈیم بھی نہیں بنا رہی ۔ ملک ریاض نے کہا کہ اس ڈیم کی سائیٹ پر 20 فیصد زمین بحریہ ٹائون کی ہے، ھم ڈیم بنا کر دیں گے اس کے لئے عالمی سطح کی مانیٹرنگ کرائی جائے، فیس بھی ھم دیں گے لیکن ہمیں بیوروکریسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنا پروپوزل تحریری طور پر عدالت میں جمع کرائیں، اس پر پنجاب حکومت سے رائے طلب کر لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک ریاض آپ بیورکریسی کے لئے اچھے الفاظ استعمال کریں، اس بیوروکریسی کی وجہ سے آپ یہاں تک پہنچے ہیں ۔ ملک ریاض نے کہا کہ بیورو کریسی نہیں اللہ نے یہاں تک پہنچایا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ پانی کی قلت کم کرنےکے لئے چھوٹے بڑے ڈیمز اور جوہڑ بنانے پڑیں گے، عدالت کو ایک اور ڈیم پیپلی ڈیم کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ پیپلی ڈیم بن سکتا ہے ۔۔لیکن ایک وقت میں دو ڈیم نہیں بنائے جا سکتے ۔ پیپلی ڈیم کی تفصیلات بھی حکومت پنجاب سے طلب کر لی گئیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چاھتے ہیں ملک میں پانی کی قلت ختم ہو، داڈوچہ ڈیم تعمیر پر ملک ریاض اور پنجاب حکومت اپنی تجاویز تحریری طور پر دیں ۔ آئندہ سماعت تک نئی حکومت آ جائے گی پھر اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آئندہ سماعت پر ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور چیف سیکریٹری کو بھی عدالت نے طلب کر لیا، سماعت 29 اگست تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے