ایاز نیازی کو گرفتار نہ کیا جائے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو نیب کو این آئی سی ایل کرپشن کیس کے ملزم ایاز نیازی کی گرفتاری سے روک دیا ہے ۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ گرفتاری کیلئے وارنٹ کے بعد ملزم کو نوٹس دیا جائے تاکہ وہ ضمانت کرا سکے ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں این آئی سی ایل کرپشن کیس کی سماعت کی ۔ ایاز نیازی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے گھر رات بھی نیب کے لوگ آئے تھے، ہراساں کیا جا رہا ہے، تفتیش میں مکمل تعاون کر رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جسے پکڑنا تھا وہ ملک سے باہر بھاگ گیا، ہمیں پتہ ہے کیسے سیاسی حمایت سے لوگوں کو باہر بھیج دیا جاتا ہے، جو ملزم پاکستان میں بچتا ہے اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب دوران تحقیقات کیوں لوگوں کو اٹھا کر لے جاتا ہے، نیب تحقیقات کے نام پر لوگوں کو لٹکائے رکھتا ہے، جن کو پکڑنا ہوتا ہے ان کو پکڑتے نہیں،نیب کیسے لوگوں کو باہر جانے کے راستے بتاتا ہے اس کے بارے میں بھی ہمیں معلوم ہے، ہمارے پاس ساری معلومات ہیں، جو شخص گرفت میں آتا ہے نیب اسے رگڑ دیتا ہے ۔ نیب کے وکیل نے کہا کہ ایاز خان نیازی کے خلاف دو انکوئریاں زیر التوا ہیں، ان کو گرفتار نہ کرنے کی یقین دہانی نہیں کرا سکتے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکم جاری کر دیتے ہیں ۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو نیب کو این آئی سی ایل کرپشن کیس کے ملزم ایاز نیازی کی گرفتاری سے روک دیا ہے ۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ گرفتاری کیلئے وارنٹ کے بعد ملزم کو نوٹس دیا جائے تاکہ وہ ضمانت کرا سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے