ناصر جمشید پر دس سال پابندی

پاکستان میں کرکٹر ناصر جمشید پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر دس سال کی پابندی عائد کردی ہے اور پابندی کے بعد بھی کرکٹ کی کسی بھی انتظامی نوعیت کی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے ۔  یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ٹریبونل نے سنایا ہے ۔

اینٹی کرپشن ٹریبونل نے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ ناصر جمشید کا نام ان لوگوں کی فہرست میں بھی شامل کیا جائے جن سے کرکٹرز کو دور رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے ۔ ناصرجمشید کو گذشتہ سال دیگر کرکٹرز کے ساتھ معطل کردیا گیا تھا اور بعد ازاں ان پر فرد جرم عائد کردی گئی تھی ۔

یاد رہے کہ ناصرجمشید کا نام گذشتہ سال پاکستان سپر لیگ کے موقع پر سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں سامنے آیا تھا۔ اس سکینڈل میں ملوث تین کرکٹرز شرجیل خان خالد لطیف اور شاہ زیب حسن پر پہلے ہی پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں ۔ ناصر جمشید انگلینڈ میں مقیم ہیں اور انھوں نے کسی بھی مرحلے پر پاکستان آکر ٹریبونل کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا تاہم وہ سکائپ کے ذریعے ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے تھے ۔

28 سالہ ناصرجمشید نے پاکستان کی طرف سے دو ٹیسٹ، 48 ون ڈے اور 18 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلے ہیں ۔ آخری بار انھوں نے 2015 کے عالمی کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ناصر جمشید اس کے مرکزی کردار تھے اور انہی کی وساطت سے خالد لطیف اور شرجیل خان نے ایک شخص یوسف سے دبئی کے ایک چائے خانے میں ملاقات کی تھی جس میں مبینہ طور پر سپاٹ فکسنگ کی تفصیلات طے پائی تھیں ۔

 

متعلقہ مضامین