گیارہ سو ارب کا حساب

محمد اشفاق

صوابدیدی فنڈز کو ختم کرنا کابینہ کا شاندار فیصلہ ہے جس کی داد دینا بنتا ہے۔ جن دوستوں کے خیال میں نواز شریف بہت پہلے یہ کام کر گزرے، انہیں غلط فہمی ہے۔ انہوں نے ایسا اعلان ضرور کیا تھا، اس پہ عمل کبھی نہیں ہوا۔ امید ہے اس بار ہوگا۔

یہ دعویٰ کہ اکیاون ارب روزانہ کی بچت ہو رہی ہے، شرمناک اور مضحکہ خیز ہے۔ آپ پاکستان کے کل وفاقی بجٹ کو سال پر تقسیم کریں تو روزانہ دستیاب فنڈ تیرہ ارب سے کچھ زیادہ بنتا ہے۔

پنجاب میں بننے والی میٹروز کا آڈٹ اصولی طور پر درست بات ہے، اس میں قطعی کوئی قباحت نہ ہوتی اگر یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کرتی اور عثمان بزدار اس فیصلے کا اعلان۔ جہاں تک میں جانتا ہوں یہ میٹروز پنجاب حکومت کے پراجیکٹس ہیں، صرف اسلام آباد سیکشن کی ذمہ دار سی ڈی اے ہے۔ وفاقی حکومت کس قانون یا ضابطے کے تحت صوبائی پراجیکٹ کا آڈٹ کرنے جا رہی ہے؟ اس سے میں لاعلم ہوں، راہنمائی کی جائے۔ اس فیصلے کو مزید متنازعہ کرنے کیلئے پشاور میٹرو کا ذکر گول کر دیا گیا۔ اگر وفاقی حکومت واقعی استحقاق رکھتی ہے صوبائی پراجیکٹس کے آڈٹ کا تو اس ادھورے منصوبے کو اس سے مستثنیٰ کیوں ٹھہرایا گیا؟ ان دو باتوں کی وجہ سے اچھا بھلا فیصلہ اب محض بغض کا شاخسانہ سمجھا جائے گا۔ یہ سپیشل آڈٹ اسی طرح ہے جیسے ہمارے چیف جسٹس نے بے شرمی کے سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے، جسٹس اعجاز الاحسن جنہوں نے اورنج لائن میٹرو کا محفوظ فیصلہ آٹھ ماہ بعد سنایا تھا، کو بغل میں بٹھائے ہوئے فرمایا کہ منصوبے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

ذاتی طور پر میں احتساب کے نعروں کو اب کوئی وقعت نہیں دیتا کیونکہ ان کی سمت ہمیشہ غلط رہی ہے- موجودہ مالی سال میں سب کھاتے داروں اور حقداروں کو ان کا حق رسید کرنے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس ساڑھے چار سو ارب روپیہ بچتا ہے، جس میں اس نے سب کچھ چلانا ہوتا ہے۔ ہر متعلقہ محکمے کا اپنا اندرونی آڈٹ کا نظام ہے، اس سے اوپر آڈیٹر جنرل آف پاکستان، اس سے اوپر احتساب بیورو، اس سے اوپر حزب اختلاف اور ان سب سے اوپر ہماری ضرورت سے زیادہ فعال عدلیہ، ضرورت سے زیادہ سیانا مین سٹریم میڈیا اور ضرورت سے زیادہ جذباتی سوشل میڈیا پایا جاتا ہے- ان سب کے ہوتے اگر حکومت دس بیس ارب کھا جاتی ہے تو اس فنکاری کی داد دینا چاہئے۔

دوسری جانب اسی وفاقی بجٹ میں گیارہ سو ارب روپے دفاع کیلئے مختص ہوتے ہیں۔ تین سطروں میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اس میں تینوں مسلح افواج کا کتنا حصہ ہے اور بس۔

یہ پیسہ کتنی اہمانداری سے خرچ ہو رہا ہے اور کہاں کہاں؟ ہم نہیں جانتے۔

انٹرنل آڈٹ سسٹم کتنا مضبوط، آزاد اور سخت ہے؟ ہم نہیں جانتے۔

دفاعی سودوں کیلئے پروکیورمنٹ رولز کیا ہیں؟ ان کا طریقہ کار کیا ہے؟ وہ کس حد تک شفاف ہیں؟ ہم نہیں جانتے۔

ان میں سے کتنے ارب کس کس کمانڈر کو صوابدیدی فنڈز کے تحت دستیاب ہوتے ہیں؟ ہم نہیں جانتے۔

ہمارے جرنیل کتنے ایماندار ہیں؟ یہ ہم تھوڑا بہت تین چار مارشل لاء بھگت کر، سرکاری محکمے فوجی جرنیلوں کے سپرد کر کے، اور ایم ای ایس، ایف ڈبلیو او اور این ایل سی جیسے اداروں کو دیکھ کر جان چکے ہیں۔

جب کوئی حکومت ہمیں عوام کے ان گیارہ سو ارب روپوں کا حساب لے کر دے گی تو اسے اپنی نیک نیتی، حب الوطنی، کفایت شعاری اور ایمانداری کو جھوٹے دعووں، جھوٹے وعدوں، فوٹو شاپ تبدیلیوں اور کاسمیٹک سٹیپس کے ذریعے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

متعلقہ مضامین