تحریک لبیک کی ریلی سے دھرنے کا خوف

ہالینڈ میں مسلمانوں کے پیغمبر کے خاکوں کے مقابلے کروانے کے اعلان کے خلاف تحریک لبیک نے جی ٹی روڈ پر دریائے جہلم کے دونوں پلوں پر دھرنا دیا ہے ۔ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے لاہور سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ جاری ہے جس کی قیادت علامہ خادم حسین رضوی کر رہے ہیں ۔

جہلم کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افسران نے مظاہرین کی قیادت سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن خادم رضوی نے ان افسران سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ مقامی صحافیوں کے مطابق تحریک لبیک کے کارکنوں نے دریائے جہلم کے دونوں پلوں کو کنٹینرز کھڑے کرکے بند کر دیا ہے ۔ کارکنوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک خادم حسین رضوی کوئی حکم جاری نہیں کریں گے اس وقت تک اس پل سے دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا ۔

سوشل میڈیا پر خادم رضوی کی جاری کردہ ویڈیو میں ان کا کہنا ہے کہ حکومت سے معمولی سا مطالبہ کیا ہے کہ ہالینڈ کے سفیر کو نکال کر اپنے سفیر کو واپس بلائیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تو کوئی مطالبہ ہی نہیں، اصل مطالبہ تو یہ ہے کہ ہالینڈ کے خلاف اعلان جنگ کیا جائے ۔

خادم رضوی کے قریبی لوگوں  نے دعوی کیا ہے کہ ریلی میں شامل مظاہرین کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے تاہم سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اس ریلی میں تین سے چار ہزار لوگ موجود ہیں ۔ تحریک کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا احتجاجی مارچ اگر اسلام آباد تک پہنچتا ہے تو وہاں کس مقام پر جا کر رکے گا ۔

راولپنڈی اسلام آباد کے شہری اس ریلی اور دھرنے کے اعلان سے ایک بار پھر خوف کا شکار ہو گئے ہیں ۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس اسی طرح کے ایک دھرنے سے جڑواں شہروں کے درمیان آمد و رفت بیس دن معطل رہی تھی ۔

 

متعلقہ مضامین