مشرف رسول کا تقرر کالعدم

سپریم کورٹ نے قومی ائرلائن پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مشرف رسول کے تقرر کو کالعدم قرار دیا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مختصر فیصلہ سنایا، تفصیلی وجوہات بعد میں تحریر کی جائیں گی ۔

سپریم کورٹ میں پی آئی اے خسارے اور چیف ایگزیکٹو تقرر خصوصی آڈٹ کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ مشرف رسول کی بطور سی ای او تعیناتی کا عمل مکمل طور پر غلط اور قواعد کے خلاف ہے، قواعد میں تقرر کیلئے مشیر ہوابازی کا کوئی کردار نہیں، تقرر کمیٹی میں اجنبی شخص سلیکشن کرے تو نتائج کیا ہوں گے اور جب بنیاد غلط ہو تو عمارت کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟ انہوں نے وکیل نعیم بخاری کے دلائل پر کہا کہ مشرف رسول کو اضافی نمبر دیکر بورڈ نے منظور کیا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ قواعد کے مطابق امیدواروں کی فہرست بنانا کا کام ہے، سیاست دان مہتاب عباسی کا کیا تجربہ ہے کہ پی آئی اے کو چلائیں؟ اچھے لوگ آئیں اداروں کو ٹھیک کریں ۔ پی آئی اے کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل میں کہا کہ  مشرف رسول کو قانون کے مطابق تعینات کیا گیا، سندھ ہائی کورٹ بھی تعیناتی کیس پر فیصلے سنانے کے قریب ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اختیار ہے کہ کیس خود سنے، سابق مشیر ہوا بازی مہتاب عباسی نے مشرف رسول کو تعینات کر کے نوازا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ سی ای او پی آئی اے کے تقرر عمل میں قواعد اور قانونی تقاضوں کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ مشیر ہوابازی نے مشرف رسول تقرر کے عمل میں مداخلت نہیں کی، مشرف رسول  سردار مہتاب عباسی کے ساتھ کام کرتے رہے اور انہوں نے ہی پی آئی اے کی بحالی کا منصوبہ دیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مشرف رسول کی بطور سی ای او کارکردگی قابل ستائش نہیں ہے ان سے اچھی کارکردگی تو پی آئی اے کے شعبہ ایچ آر کی ہے ۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد مشرف رسول کے بطور چیف ایگزیکٹو پی آئی اے تقرر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے