سیاست دان بدعنوان

اظہر سید

یہ نعرہ اونچی آواز میں لگایا جاتا ہے ۔میڈیا اور عدالتیں جب آواز میں آواز ملائیں تو نعرے کی بلند آہنگ بازگشت سے عام عوام حب الوطنی کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔خوشنما نعرے سے جنرل ایوب خان جنرل ضیا اور جنرل مشرف نصف قومی زندگی بغیر ڈکار مارے ہضم کر گئے اور بدعنوانی کا الزام سیاستدانوں کے حصہ میں آیا ۔
اس بار عالمی اور مقامی حالات ساز گار نہیں براہ راست آنے کی بجائے نیا تجربہ کیا گیا ہے ۔اس نئے تجربہ میں یقینی کامیابی کیلئے درکار تمام اقدامات تو کر لئے گئے لیکن کامیابی کے بعد کیلئے کوئی پروگرام تشکیل نہیں دیا گیا۔نئی حکومت اقتدار میں آگئی ہے لیکن معاشی بحالی کا کوئی پروگرام نظر نہیں آ رہا۔ملک کے اندر ایک کارگل تو برپا کر دیا گیا ہے لیکن ردعمل کا اندازہ نہیں لگایا گیا۔جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں کارگل ناکامی کا ذمہ دار بھارت کے ضرورت سے زیادہ ردعمل کو قرار دیا تھا ۔کارگل آپریشن میں ناکامی کا ملبہ کوئی بھی اٹھانے کو تیار نہیں جنرل مشرف کے بعد بھی ادارہ نے اس آپریشن کی تحقیقات نہیں کرائیں کسی کو ذمہ دار قرار دینے کی بات تو بہت دور کی ہے۔ملک کے اندر بالکل کارگل ایسی صورتحال ہے ۔نہ ہاتھ باگ پر ہیں نہ پاوں رکاب میں گھوڑا ہے کہ بھاگتا ہی جا رہا ہے۔جو معاشی فیصلے کئے گئے ہیں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ لیکن وزیراطلاعات کے بقول یہ” تجویز ہے اور زیر غور ہے ” لیکن فیصلے کر لئے گئے ہیں ۔عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں لیکن یہاں خوف اور ردعمل کی وجہ سے پٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی یے ۔صرف اس فیصلے سے نئے حکمرانوں کے معاشی بحالی کے پروگرام جو کہیں نظر نہیں آرہا کا اندازہ لگایا جا سکتا یے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ایک ہزار ڈالر فی کس چندے کی براہ راست درخواست کی گئی ہے ۔ایل پی جی اور کھادوں کے ساتھ چینی کی قیمتیں نجی شعبہ نے بڑھا دی ہیں کسی حکومتی عہدیدار کسی عدالت نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ صنعتی بحالی برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات کا تاحال کوئی پروگرام پیش نہیں کیا گیا۔
فیصلے جو کئے گئے ہیں وزیراعظم ہاوس کی کاروں کی فروخت کا اشتہار ہے ۔روپیہ کی قدر میں جو کمی کی گئی تھی اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا مالی سال کے پہلے مہینے میں تجارتی خسارہ دو ارب ڈالر ہے یعنی 240 ارب روپیہ۔عوام کو اپوزیشن لیڈر کی طرح گمراہ کیا جا رہا ہے لوٹی دولت واپس لائیں گے۔کس طرح واپس لائیں گے کیا کسی ملک سے کوئی معاہدہ موجود ہے ؟ عرب امارات تک سے کرپشن اور ٹیکس چوری کے پیسوں کی واپسی کا معاہدہ موجود نہیں ۔
کیوں قوم کے ساتھ فراڈ کیا جا رہا ہے ۔ایف بی آر کے 300 ارب روپیہ کے ٹیکس چوری کے مقدمات تو عدالتوں میں سال ہا سال سے فیصلوں کے منتظر ہیں تازہ ترین فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کا ہے جہانگیر ترین کے 19 کروڑ روپیہ کے ٹیکس نوٹس پر شنوائی کا حکم جاری ہو چکا ہے ۔مافیا کی ملی بھگت سے یہ عمل طویل بنایا جاتا ہے پہلے سال ہا سال ٹیکس چوری کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت رہے گا فیصلہ خلاف آگیا تو فیصلہ کے خلاف اپیل کی جائے گی پھر اپیل کی شنوائی شروع ہو جائے گی یہاں فیصلہ ہوا تو سپریم کورٹ میں اپیل ہو جائے گی وہاں فیصلہ ہو گیا تو پھر لارجر بینچ میں اپیل ہو گی عمر خضر بھی کم ہے ٹیکس چوری کے مقدمات بڑھتے جا رہے ہیں یہاں قوم کو دھوکہ دیا جا رہا ہے بیرون ملک سے لوٹی دولت واپس لائیں گے۔
پہلے ملک میں تو ثابت کریں پھر دوسرے ملکوں میں جائیں اور ثابت کریں یہ ٹیکس چوری کا پیسہ ہے پاکستان کو واپس کریں ۔ادائیگیوں کے توازن کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے یہاں کوئی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے یا نہیں۔آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے تو کن شرائط پر ؟
ملک میں افراتفری ہے ۔سیاسی بے یقینی ہے ۔آپریشن نواز شریف کر تو لیا اب کچھ سمجھ نہیں آ رہا آگے کیا کرنا ہے ۔کرپشن کے خلاف پہلے سے جاری پروپیگنڈہ جاری رکھنا ہے یا پھر ملک میں سیاسی محاذ آرائی ختم کر کے قومی یکجہتی کے ذریعے سرمایہ کاری کا ماحول تیار کرنا ہے ۔کرپشن اور بدعنوانی ختم کرنے کیلئے اداروں کو آئیں اور قانون کے تحت اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے ۔جس عمارت کی بنیاد 300 ارب روپیہ کی منی لانڈرنگ مودی کا یار اور حلف نامہ میں تبدیلی کے پروپیگنڈہ کے ساتھ بے پناہ طاقت کے اظہار سے رکھی ہو وہ عمارت کبھی مستحکم نہیں ہوتی ۔جنرل ایوب،جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی کرپشن ختم کرنے کیلئے قائم کردہ عمارتوں کی تباہی اور بدحالی کی منہہ بولتی تصویریں سب کے سامنے ہیں خود ہی آنکھیں بند کر لیں تو اور بات ہے۔

متعلقہ مضامین