معجزوں کے منتظر

پاکستان کے مسائل یقینا ہمہ جہتی اور بہت گھمبیر ہیں۔ انہیں اچھی طرح سمجھ کر اپنی حکومت کی ترجیحات اور اہداف کے تعین کے لئے وزیر اعظم عمران خان صاحب وزیروں، مشیروں اور صلاح کاروں کے اجلاس پر اجلاس منعقد کئے چلے جارہے ہیں۔ نہایت خلوص اور محنت سے ہمہ جہتی مسائل کے حل کے لئے تیار ہوئی حکمت عملی کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے نتائج دکھانے کو وقت درکار ہے۔ ہم مگر اپنی سرشت میں ایک بے صبر قوم ہیں۔ عمران خان صاحب کو ویسے بھی ”چور اور لٹیرے“ سیاستدانوں کے مقابلے میں ایک کرشماتی مسیحا تصور کیا جاتا ہے اور مسیحاﺅں سے حکمت عملی نہیں معجزوں کی توقع ہوتی ہے۔
عمران خان صاحب کا بنیادی کمال اپنی کرشماتی شخصیت کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کے دئیے چندے سے لاہور میں کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لئے ایک جدید ترین ہسپتال کے قیام کی صورت نظر آیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب سے ان کے مداحین ایسے بے تحاشہ معجزوں کے طلب گار ہیں۔ عمران خان صاحب مگر راتوں رات ہر بے گھر کو مکان اور بے روزگار کو نوکری فراہم نہیں کرسکتے۔ بجلی اور گیس کی ارزاں نرخوں پر دستیابی بھی ممکن نہیں۔ گردشی قرضوں کے سبب بلکہ ان میں ناقابل برداشت دِکھتا اضافہ کرنا پڑے گا۔ یہ نہ ہوا تو لوڈشیڈنگ کے گھنٹے 2012/13کے مہینوں کی طرح طویل تر ہونا شروع ہوجائیں گے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے بغیر گھنٹے جس مایوسی اور غصے کو ہوا دیں گے ان کا مداوا صرف ان حقائق کی تشہیر کے ذریعے ممکن نہیں جو وزیر اعظم عمران خان کی سادہ زندگی اور ان کی حکومت کی جانب سے اپنائی کفائت شعاری کو اجاگر کرتے ہیں۔
عمران خان صاحب کے لئے لہذا بہت ضروری ہے کہ اپنی کرشماتی شخصیت کا بھرم قائم رکھیں۔ ہمیں امید دلاتے رہیں کہ وہ معجزے برپا کرنے کو ہمہ وقت تیار ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے ان کی جانب سے بیرون ملک مقیم افراد سے چندے کی فریاد اس ضمن میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔
میں اس بحث میں الجھنے کو ہرگز تیار نہیں کہ صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے دئیے چندے سے دیامر بھاشا ڈیم جیسا Mega Project تعمیر کیا جاسکتا ہے یا نہیں ۔ آج کی سیاست بنیادی طورپر میڈیا میں رونق کی محتاج ہے ۔ خان صاحب سے ویسے بھی ہماری حکمران اشرافیہ اور ریاست کے دائمی اداروں کی توقع یہ رہی ہے کہ وہ ایک Grand Sales Person کی صورت پاکستان کا کیس اندرون ملک ہی نہیں بین الاقوامی دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کریں۔ برسوں سے وطنِ عزیز میں پانی کی خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی قلت جو آئندہ برسوں میں خشک سالی اور قحط کی صورت بھی اختیار کرسکتی ہے، عمران خان صاحب کو اس حوالے سے ایک مناسب پلیٹ فارم مہیا کرنے کا جواز بن گئی ہے۔
نہایت خلوص سے لیکن مجھے اصرار کرنا ہے کہ فقط ٹی وی سکرین پر ایک مختصر خطاب کے ذریعے عمران خان صاحب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے مناسب رقوم فراہم کرنے پر آمادہ نہیں کر پائیں گے۔ انہیں Motivateکرنے کی خاطر خان صاحب کو فوری طورپر ا مریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں کے طوفانی دورے کرنا ہوں گے۔شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے بعد وہاں موجود سہولتوں کو برقرار رکھنے کے لئے خان صاحب ہمیشہ ایسے دوروں پر مجبور رہے ہیں۔ ان سے مفر ممکن نہیں۔
یہ بات درست ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی وطنِ عزیز میں ٹھہرے لوگوں سے کہیں زیادہ جذباتی اور پرجوش ہیں۔ غیروں کے سامنے پاکستان کا مان رکھنے کا سوال اٹھے تو کسی بھی انتہا کو چھونے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ انسان مگر فطرتاََ تھوڑی بہت نمائش اور صلے کا طلب گار بھی رہتا ہے۔ وہ دائیں ہاتھ سے دیتے ہوئے بائیں ہاتھ کو اس کے بارے میں بے خبر رکھنے کو آمادہ نہیں ہوتا۔ ستائش اور نمائش سے بے نیاز فیاضی صوفیاءکا شعار ہوا کرتی ہے۔ ”گمنام مجاہد“ معمول کی بات نہیں استثناءہوا کرتے ہیں۔
وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان صاحب نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ غیر ملکی دوروں سے گریز کریں گے۔ اس کالم کے ذریعے میں نے بہت خلوص سے یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ہمارے کپتان کے لئے چین کے چیئرمین ماﺅ کی طرح اپنی دھرتی پر ہی ٹکے رہتے ہوئے Deliver کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کی کرشماتی شخصیت کی عالمی اُفق پر جلوہ نمائی بھی درکار ہے۔دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم نے میری دانست میں انہیں اس ضمن میں مناسب Opening (راستہ) فراہم کردیا ہے۔
اس ماہ کے آخری ہفتے میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہونا ہے۔ ان دنوں امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا چیئرمین بھی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اپنے ملک کی اس حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ایک اجلاس کی بذاتِ خود صدارت کرنا چاہ رہا ہے۔ شاید وہ اس سے قبل یا فوری بعداقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب بھی کرے۔
امریکی صدر کے معاونین کی اکثریت اس کی اس ضمن میں خواہش اور ارادوں سے بہت گھبرائی ہوئی ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ ان اداروں سے خطاب کے ذریعے ٹرمپ اپنے مخصوص انداز میں ایران کو اس کے ایٹمی پروگرام اور شام جیسے ممالک میں جاری کردار کی وجہ سے غیر سفارتی انداز میں لتاڑے اور للکارے گا۔ ٹرمپ بالآخر جو بھی کرے اس سے متوقع کردار کی وجہ سے پورے عالمی میڈیا کی توجہ اس ماہ کے اواخر میں نیویارک کی جانب مبذول رہے گی۔
ہمارے وزیر اعظم کو عالمی میڈیا کی اس توجہ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے لئے تیار ہونا چاہیے۔ ٹرمپ نے 2017کے اگست سے پاکستان کے خلاف بھی بدزبانی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس کی بدزبانی کا امریکہ ہی کی زمین پر کھڑے ہوکر عالمی میڈیا کی بھرپور موجودگی میں جواب دیا جائے۔
ٹرمپ کی بدزبانی کے مقابلے میں اپنے ملک کا کیس مناسب انداز میں پیش کرنے کے بعد ہمارے وزیر اعظم نیویارک، ہوسٹن اور شکاگو جیسے شہروں میں پاکستانیوں کے اجتماعات سے خطاب بھی کرسکتے ہیں۔ ان اجتماعات میں امریکی روایت کے مطابق شرکت کے لئے Per Plate ہر مہمان کے لئے خاطر خواہ قیمت تعین کی جاسکتی ہے۔ وزیر اعظم کو اپنے درمیان پاکر پاکستانی جذباتی ہوتے ہوئے ہماری توقعات سے کہیں زیادہ رقوم فراہم کرسکتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے سلفیوں وغیرہ کے ذریعے ان کی Contributions ریکارڈ کا حصہ بھی بن جائیں گی۔ سوشل میڈیا پر ڈیم کی تعمیر کے لئے جاری ہوئی چندہ مہم بہت جاندارہوجائے گی۔ امریکہ سے وطن لوٹتے ہوئے عمران خان صاحب برطانیہ کے کم از کم 3 بڑے شہروں میں بھی ایسی تقاریب کے مہمانِ خصوصی بن کر وہاں مقیم پاکستانیوں کے جذبات گرماسکتے ہیں۔ جو موقعہ میسر آیا ہے اس کا بھرپور استعمال انتہائی ضروری ہو چکا ہے ۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین