پیپلز پارٹی اور ملک ریاض کا کیا تعلق ہے؟ چیف جسٹس

بحریہ ٹاون کراچی کی زمین ملیر ڈویلپمنٹ کو واپس کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ریاض ملک کا پیپلز پارٹی کے اوپر کے لوگوں سے کیا تعلق ہے، اس نے لاہور میں گھر کس کو بنا کر دیا ۔ چیف جسٹس نے ریاض ٹھیکیدار کے وکیل علی ظفر سے کہا کہ اپنے مؤکل سے پوچھ کر یہ بتائیں، اگر ہم اس کنکشن/تعلق کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچے اور بدنیتی ثابت ہوئی کہ سرکاری زمین اس طرح دی گئی تو کیا ہوگا ۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ مجھے اس تعلق کے بارے میں علم نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے پر نظرثانی کیلئے اپنائے گئے نکات کیا ہیں، وہ بتائیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سماعت کے دوران ایک موقع پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ جس وقت بحریہ ٹاؤن کو کراچی میں زمین دی گئی سندھ میں کس کی حکومت تھی؟ ۔ علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں تھی جس پر چیف جسٹس نے مذکورہ بالا ریمارکس دیئے ۔

ملک ریاض اور سندھ حکومت کے وکیلوں کی جانب سے قانونی موشگافیوں کا سہارا لیا گیا اور عدالت سے کہا گیا کہ ہزاروں لوگوں نے سرمایہ کاری کر لی ہے اور گھر بنا لئے ہیں ۔ وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ بنجر زمین آباد کر لی ہے اور اب اس کی مالیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس پر جواب میں کہا کہ کیا دنیا کی کسی عدالت میں ایسی دلیل دی جاسکتی ہے کام غیر قانونی ہے مگر بہت اعلیٰ ہے، کیا غیر قانونی اراضی پر محل بنا کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسے قائم رہنے دیا جائے، اور اگر اصل غریب مالک کو واپس کرنا ہے تو وہ محل کی قمیت ادا کرے، غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا محل بھی زمین کے اصل مالک کی ملکیت ہے ۔

ملک ریاض نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ بحریہ ٹاؤن نے عوام کو فائیو سٹار والی سہولیات دیں، بحریہ ٹاؤن نے عوام کو وہ سہولیات دیں جو وقت کے وزیراعظم اور صدر کو بھی حاصل نہیں، میں عدالت سے درخواست کرتا ہوں وہ جا کر خود سہولیات کا جائزہ لیں ۔

چیف جسٹس نے ملک ریاض سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں تو بحریہ ٹاؤن کے قریب سے گزرنا بھی نہیں چاہتا، لوگ کہیں گے شاہد کوئی پلاٹ لے لیا ہوگا، ایسے تو رابن ہڈ نے بھی بہت اچھے کام کئے تھے، ہم بحریہ ٹاؤن کراچی پراجیکٹ کی نگرانی کیلئے نگرانی خود کر سکتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آج مارکیٹ میں پراپرٹی کی قیمت کروڑوں روپے ہے، ایم ڈی اے کو زمین کا تبادلہ کرتے وقت ذہن میں یہ رکھنا چاہئے تھا، کیا ڈویلپر کو دیتے وقت کوئی اوپن بولی دی گئی ۔ علی ظفر نے کہا کہ اس مرحلہ تک پہنچنے کے لیے سات آٹھ سال کا پراسس اپنایا گیا ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ایم ڈی اے کا مقصد عوام کا فائدہ دینا تھا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایم ڈی اے نے مرکزی زمین دی اور بحریہ نے تبادلے میں وہ زمین دی جو سندھ کے دوسرے کونے میں ہے، کیا اس عمل کو نیک نیتی کہا جا سکتا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیدھی بات ہے جو قیمت عدالت مقرر کرے کیا وہ ادا کریں گے، سو بلین نہیں کئی ہزار بلین روپے بنیں گے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ بربادی کی ان کے کیس نیب کو بھجیں گے، جتنے زیادہ قانون کھولیں گے اپ دھنستے جائیں گے، حکومت کی اپنی زمین کوڑیوں کے بھاؤ دے دی گئی، کیا یہ اراضی چھ ارب کی تھی جو اتنے پیسوں میں دی گئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اتنا کھاؤ جتنا ہضم کر لو، کسی کی اجارہ داری نہیں ہوگی یہ قوم کا پیسہ ہے ۔

چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ اپنے موکل سے مشاورت کرنی ہے تو کر لو، آپ کے موکل کو ادائیگی کرنا پڑے گی۔ ملک ریاض نے کہا کہ میرے ساتھ بنچ نے کمنٹمنٹ کی تھی کہ بحریہ ٹاؤن کا دورہ کریں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بنچ نے آپ کے ساتھ کوئی کمٹمنٹ نہیں کی، میں بحریہ ٹاؤن کے سامنے سے بھی نہیں گزرنا چاہتا ۔ ملک ریاض نے کہا کہ آپ وزٹ کر لیں میرا کام دیکھ لیں، خود نہیں جانا چاہتے تو کسی کو بھیج دیں ۔

سندھ حکومت اور محکمہ مال سندھ کے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ میں نے تفصیلی دلائل دینے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت عدالتی فیصلہ سے متاثرہ کیسے ہو سکتی ہے، کیا سندھ حکومت کسی تیسرے فریق کا مقدمہ لڑ رہی ہے ۔ سندھ حکومت کے وکیل نے کہا کہ نیب نے سندھ کے افسران کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا سندھ حکومت کو اپنی زمین کو واپس نہیں چاہیے؟ ۔ وکیل نے کہا کہ سندھ حکومت نے زمین قانون کے مطابق بحریہ ٹاؤن الاٹ کی، نیب کو آزادانہ تحقیقات کرنے دیں، متاثرہ فریق اور سندھ کے محکمہ مال کے افسران کو انفرادی طور پر پیش ہونا چاہیے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس سندھ حکومت کو عدالتی فیصلے سے فائدہ ہوا ہے، سندھ حکومت کو ڈیویلپڈ زمین واپس مل گئی یے، عدالتی فیصلے سے سندھ حکومت کی ککھ کی زمین لکھ کی ہو گئی ہے ۔ سندھ حکومت کے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ عدالتی فیصلہ کا ملبہ زمین الاٹ کرنے والے افسران پر گرے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جس نے غلط کام کیا ہے وہ بھگتے گا، نظر ثانی کے مقدمے کا دائرہ اختیار محدود ہوتا ہے ۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کے ہر پیراگراف میں غلطیوں کی نشاندہی کروں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بحریہ ٹاون نے ایم ڈی اے سے زمین کنٹرول ایریا میں لی، بحریہ ٹاون نے بدلے میں ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی کو جو زمین دی وہ ایم ڈی اے کے کنٹرولڈ ایریا میں نہیں تھی، کیا ان حالات میں اراضی کا تبادلہ ہو سکتا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک ریاض کو باقی 15 سال کی زندگی کے لئے جتنے چاہئیے رکھ لیں، باقی تمام اثاثے ملک ریاض قوم کو دے دیں، بحریہ ٹاؤن کراچی کو سات ہزار ایکڑ زمین دی گئی مگر اس کے پاس کل رقبہ 15 ہزار ایکڑ سے زیادہ ہے، اگر کسی قسم کی بدنیتی اور گٹھ جوڑ ثابت ہو گیا تو سب کچھ بکھر جائے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ قوم کا پیسہ ہے، تین بلین ڈالرز دے دیں ۔ وکیل نے کہا کہ کیا ڈیم کی پوری قیمت ہم سے لینا چاہتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم کی تعمیر پر اس سے زیادہ خرچ آئے گا، کیس کی سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

 

متعلقہ مضامین