پانی اب مفت نہیں ملنا

سپریم کورٹ نے چکوال کٹاس راج مندر میں ہندوؤں کے مقدس چشمے کے خشک ہونے پر آ ئندہ منگل تک تفصلی رپورٹ طلب کی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ آج ہی کٹاس راج مندر کے دورے کریں گے، ہماری زمہ داری ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں ۔ عدالت نے حکومت کو متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کا تقرر کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کٹاس راج مندر تالاب خشک ہونے پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ کیا علاقے میں موجود سیمنٹ فیکٹریوں نے متبادل پانی کا انتظام کرنا لیا ہے؟ کیا پنجاب حکومت نے فیکٹریوں کے زیر استعمال پانی کا نرخ طے کیا ہے یانہیں؟ ۔ ڈی جی ماحولیات پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ فیکٹریوں کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ سیکرٹری بلدیات نے کہا کہ ڈی جی خان اور بیسٹ وے فیکٹریوں کیلئے پانی قیمت طے کر دی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ باقی سیمنٹ فیکٹریوں کیلئے ابھی تک ریٹ کیوں طے نہیں کیا؟ چیف جسٹس نے سیکرٹری بلدیات کو ہدایت کی رات 12 بجے تک کام کریں، پانی اب مفت نہیں ملنا، یہ سونے کی چیز بن گئی ہے، کسی خاص سیمنٹ فیکٹری کے خلاف کارروائی نہیں کرنی ۔ ہم نے سب سے برابر سلوک رکھنا ہے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ تمام سمینٹ فیکٹریوں کا معائنہ کرکے رپورٹ دی جاۓ ۔ عدالت عظمی نے سیکرٹری بلدیات سے کٹاس راج میں ہندوؤں کے مقدس چشمے کے خشک ہونے پر آیندہ منگل تک تفصلی رپورٹ طلب کرلی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ آج لاہور جاتے ہوئے کٹاس راج مندر کا دورہ کریں گے ۔ چیف جسٹس نے حکومت کو چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے تقرر کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ کسی معتبر بندے کو لگایا جائے ۔ سپریم کورٹ مین کیس کی مزید سماعت 18 ستمبر کو ہوگی ۔

متعلقہ مضامین