ڈیم فول

اظہر سید
کتنے آرام سے احمق بنا رہے ہیں اور کتنے دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہیں۔120 روپیہ کا ڈالر ہے اور 18 ارب ڈالر بھاشا ڈیم کیلئے درکار ہیں ۔ کہتے ہیں چندے سے ڈیم بنائیں گے۔تین ماہ شور کرتے گزر گئے 10 کروڑ ڈالر بھی جمع نہیں ہوئے ۔آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی جس کے خلاف شروع تھی اس کا تو پاسپورٹ بہانے سے بحال کر دیا جس نے بھاشا ڈیم کیلئے بجٹ میں 100 ارب روپیہ رکھے تھے اس کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا ہے۔
یہ بہت سچے ہیں کہتے تھے 300 ارب روپیہ کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے ۔اسٹیٹ بینک بھی اپنا تمام مالیاتی ادارے بھی اپنے نیب عدالتیں تمام سرکاری ادارے اپنے حکومت اپنی کیوں نہیں ثابت کرتے کہاں ہے 300 ارب روپیہ کی منی لانڈرنگ ؟ پانچ سال قوم کو گمراہ کرتے رہے۔سائبر سیلوں سے نوجوانوں کو ورغلاتے رہے ۔ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار بھگا دئے دس ارب روپیہ کی منی لانڈرنگ کے شواہد ہی پیش کر دو ۔جنہوں نے جھوٹ بولا قوم کو ہیجان میں مبتلا کیا ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کون کرے گا۔
یہ جھوٹ نہیں بولتے مدینہ کی مثالی ریاست میں کوئی جھوٹ نہیں بولتا ۔سانحہ ماڈل ٹاون کی تحقیقات پر پردہ ڈالنے والوں کی حکومت تو ختم ہو گئی ۔اب کس نے ہاتھ روکا ہے ایک افسر پر گلا پھاڑ کر الزام عائد کرتے تھے اسے تو پنجاب کی صوبائی حکومت میں پہلے سے بھی بڑا عہدہ دے دیا تو پھر قاتل کون تھے ۔ایک اسٹیبلشی سٹیپنی کینڈا سے آئے روز آتی تھی سانحہ ماڈل ٹاون کے۔ملزمان کی گرفتاری کے مطالبات کرتی تھے ۔قاتلوں کو پھانسی دینے کے دعوے کرتی تھی۔اب تو سیاسی کزن کی حکومت ہے کہاں چھپ گئی ہے ۔ جن افسران پر سانحہ ماڈل ٹاون کے الزامات لگائے جاتے تھے انہیں برطرف اور معطل کیوں نہیں کیا جا رہا یہ گرفتار کیوں نہیں کئے جا رہے؟ الزامات غلط تھے جھوٹ بولا جا رہا تھا یا پھر ٹاسک مکمل ہو گئی ہے۔
بڑے بڑے دعوے کرتے تھے ہماری حکومت آجائے 800 ارب روپیہ کے ٹیکس جمع کر کے دکھائیں گے ۔حکومت آگئی ہے کہاں ہیں آٹھ سو ارب روپیہ کے ٹیکس ۔نئے ٹیکس دہندگان تو کیا تلاش کرنے تھے پہلے سے ڈوبے مرے ٹیکس دہندگان کو نچوڑنے چل پڑے ہیں ۔
بہت شور مچایا تھا ہمیں بھی ایک موقع دو بیرون ملک مقیم پاکستانی دو سو ارب ڈالر پاکستان بھیجیں گے کہاں ہیں یہ دو سو ارب ڈالر وہ تو ہزار ڈالر کا ڈیم چندہ نہیں دے رہے انہوں نے تو دس ملین ڈالر بھی ڈیم فنڈ میں چندہ نہیں دیا تو کیا سارے دعوے فراڈ تھے۔
کہتے تھے کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا دوبئی لیکس کی تمام معلومات موجود ہیں کیوں انکے خلاف کاروائی شروع نہیں کی جا رہی ۔وزیراعظم کی بہن کے نام دوبئی میں قیمتی پراپرٹی کے الزام کی کم از کم تحقیقات کا اعلان ہی کر دیں لوگوں کو یقین آجائے مدینہ کی مثالی ریاست کا ۔بڑی مثالیں دی جاتی تھی عدل و انصاف کی کہاں چھپ گیا ہے عدل کہاں گم گیا انصاف۔
مغربی ملکوں کے وزرا اعظم کی سائیکل پر دفتر جانے کی مثالیں دیتے زبان سوکھ جاتی تھی یہاں تو کتے بھی ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہیں کہاں گئی کفائت شعاری ۔
انہوں نے رائے ونڈ کو وزیراعظم ہاوس کا درجہ دیا تھا چور تھے کرپٹ تھے بدعنوان تھے آپ نے کیوں لاہوری گھر کو وہی درجہ دینے کی اجازت دی ہے۔
کہتے تھے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے نہیں لیں گے بھیک نہیں مانگے گے ۔کبھی سعودیوں کے تر لے منتیں کرتے ہیں موخر ادائیگیوں پر تیل دے دو کبھی آئی ایم ایف سے نئے پروگرام کی بات چیت شروع کرتے ہیں کیوں ۔
شور مچاتے تھے لاکھوں نوکریاں دیں گے کہاں ہیں یہ نوکریاں ۔یہاں تو پہلے سے روزگاروں کو فارغ کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں کیوں ۔کہتے تھے تمام بڑی کاریں نیلام کر دیں گے یہاں تو کھٹارا گاڑیوں کی نیلامی ہوئی ہے یا چند درجن پرانی قیمتی گاڑیاں تمام حکومتی اداروں میں تو کوئی قیمتی گاڑیاں نیلام نہیں ہو رہیں کیوں ۔
سی پیک کو کون متنازعہ بنا رہا ہے ۔چینی وزیرخارجہ کا سرد مہری سے استقبال ریاستی پالیسی کے تحت تھا یا چند درجن لوگ ملکی مفادات کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔سی پیک جیسے اہم معاملہ پر کوئی بھر پور فیصلہ کیوں سامنے نہیں آرہا ۔قوم کو اصل بات کیوں نہیں بتائی جا رہی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے