قرضوں سے چھٹکارا پانا ہوگا

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہمیں قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا، چترال کی سڑکیں خچروں کیلئے ہیں، ایسی سڑکیں بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔

ڈسٹرکٹ بار چترال سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پاکستان کے دشمن سازشیں کر رہے ہیں کیوںکہ وہ ہمیں طاقت سے ختم نہیں کرسکتے اس لئے سازش کے ذریعے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہربچہ ایک لاکھ 70 ہزار روپے قرض کے بوجھ تلے پیدا ہوتا ہے، ہمیں ان قرضوں کے چھٹکارے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چترال کی سڑکیں خچروں کے راستے ہیں، بیسویں صدی میں بھی یہ سڑکیں ناقابل برداشت ہیں، ناقص سڑکوں کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی ۔ چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال چترال کا بھی دورہ کیا اور مختلف وارڈ اور ایمرجنسی میں مریضوں سے ملے اورسہولیات کے بارے میں پوچھا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے