اصغر خان فیصلے پر عمل بند کمرے میں

سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس فیصلے پر عمل درآمد کی رپورٹ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پیش کی ہے جبکہ وزارت دفاع نے بھی عدالت کو اپنے جواب سے آگاہ کیا ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عمل درآمد کیس سماعت کی تو وزارت دفاع کا تحریری جواب سر بہ مہر رپورٹ کی شکل میں پیش کیا گیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے جواب پڑھ لیا ہے، وزارت دفاع کے تحریری جواب سے ہم مطمئن ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سویلین کی کے خلاف تحقیقات کی کیا پیش رفت ہے؟ ۔ ایف آئی اے کے ڈی جی بشیر میمن نے جواب دیا کہ پیش رفت رپورٹ جمع کرائی ہے ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت سے کہا کہ کچھ معلومات ایسی ہیں جو بند کمرے میں بتانا چاہتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چیمبر میں آ کر تفصیلات بتا دیں، عوامی اعتماد بڑی اہم بات ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اصغر خان کیس میں ایک بہت بڑے ادارے اور بڑے بڑے سیاست دانوں کے نام آئے، کوئی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے جنرل راحیل کی سعودی اتحاد میں شمولیت کیلئے کابینہ سے منظوری کا کہا تھا، اس حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے، ہر چیز کا ایک قاعدہ ہونا چاہیے ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سیکرٹری صاحب نے منظوری کیلئے معاملہ کابینہ کو بجھوا دیا ہے ۔

عدالت نے ہدایت کی کہ اصغر خان کیس فیصلے پر عمل درآمد معاملے کو چیمبر میں دیکھا جائے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے