لڑکی کا دعوی جھوٹا نکلا

رپورٹ: خالدہ شاہین رانا
بچپن میں سعودی عرب سے اغوا ہو کر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ٹانک میں لائے جانے کی دعویدار تین بچیوں کی 30 سالہ ماں، مسماة حفصہ کی جانب سے دائر کی گئی آئینی درخواست پر سپریم کورٹ کے حکم پر اس کی والدہ کے ساتھ کئے جانے والے ڈی این اے کی رپورٹ میں ثابت ہوگیا ہے کہ اس کا دعویٰ جھوٹا تھا، جس پر عدالت نے اس کی درخواست خارج کر دی ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازلاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کے روز مسماة حفصہ کی ڈی این اے کروانے سے متعلق درخواست کی سماعت کی تو ڈی پی او ٹانک، درخواست گزارحفصہ ،اس کی والدہ زاہدہ بی اور بھائی عبدالرحمان پیش ہوئے ۔

چیف جسٹس نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی ڈی این اے رپورٹ آ گئی ہے جوکہ زاہدہ بی بی کے ساتھ میچ کرگئی ہے اور آپ زاہدہ بی بی ہی کی بیٹی ہیں ۔ درخواست گزار کے بھائی عبدالرحمان نے کہا کہ اس نے پچھلے سات آٹھ سال سے ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے، ہمارے خلاف درخواستیں دے دے کر اس نے ہمیں جگہ جگہ بے عزت کروایا ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس کے خلاف مقدمہ درج کروائیں ۔

درخواست گزار نے بولنے کی کوشش کی تو فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سعودی عرب جانا چاہتی ہیں، اسی لئے آپ نے اپنے والد کو بھی وہاں پر جیل میں بھجوایا تھا اور وہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں وفات پا گیا تھا، آپ کا ڈی این اے اپنی والدہ کے ساتھ میچ کر گیا ہے اس کی بنیاد پر ہم آپ کی درخواست کو خارج کر رہے ہیں۔ بعد ازاں فاضل عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا ۔

یاد رہے کہ ‘سعودی عرب سے بچپن میں اغواکی گئی لڑکی کی شناخت اور اصلی ورثاء کی تلاش ”کے عنوان سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ایک اچھوتی آئینی درخواست میں مسماة حفصہ نے خود کو بچپن میں سعودی عرب سے اغواء کی گئی لڑکی قرار دیتے ہوئے عدالت سے اپنی والدہ ہونے کی دعویدار زاہدہ بی بی کے ساتھ اپنا ڈی این اے کروا کر حقیقت سامنے لانے اور اسے سعودی عرب بھجوانے کے حوالے سے حکم جاری کرنے کی ا ستدعا کی تھی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے