احتساب عدالت میں نواز شریف کا انتظار

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کے وکیل خواجہ حارث کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بغیر بتائے نہ آنے پر وارنٹ بھی جاری کئے جا سکتے ہیں ۔ بعد ازاں عدالت نے نواز شريف کے استثنا کي درخواست منظور کرکے سماعت 4 اکتوبر تک  ملتوی کر دی ۔

احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی ۔ جج نے نوازشريف کے پيش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کيا، اور کہا کہ ایسے تھوڑی ہوتا ہے، ملزم اپنی مرضی سے آئے۔ خواجہ حارث کے معاون وکیل نے بتایا کہ خواجہ حارث کی طبیعت خراب ہے ۔ ملزم اور اس کے وکیل کی عدم موجودگی پر سماعت میں وقفہ کیا گیا ۔

وقفے کے بعد نیب کے پراسیکیوٹر نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی ۔ جج ارشد ملک نےکہا کہ کيا سارا دن انتظار کرتا رہوں گا؟ آپ لوگ چاہتے کیا ہیں؟ وارنٹ کے آرڈر لکھوا دیتا ہوں، آپ لوگ پھر چیلنج کرتے رہنا۔

خواجہ حارث ایڈووکیٹ کے معاون وکیل نے کہا طبعيت خراب ہونے کی وجہ سےخواجہ صاحب کل بھی پیش نہیں ہو سکیں گے ۔ جج ارشد ملک نےکہا کہ خواجہ حارث کو کیسے پتہ کہ وہ دو دن بیمار رہیں گے؟ عدالت کو بتایا گیا فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ ریفرنس کی الگ الگ تاریخوں سے کنفیوژن ہوئی۔ معاون وکیل منور دوگل کی درخواست پر عدالت نے نوازشریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کر لی ۔

فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت 4 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے