مشرف مفرور نہیں مگر بیمار ہیں

سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ چلانے والی خصوصی عدالت نے ملزم کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے پر ان کے وکیل سے تحریری جواب طلب کیا ہے ۔ عدالت نے پوچھا ہے کہ بتایا جائے کیا پرویز مشرف اسکائپ کے ذریعے بیان دینا چاہتے ہیں؟ ۔

تین رکنی خصوصی عدالت کی سربراہی جسٹس یاور علی نے کی ۔ ان کے ساتھ جسٹس طاہرہ صفدر اور جسٹس نذر اکبر بھی شامل تھے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق پرویز مشرف کی جانب سے آج نئے وکیل پیش ہوئے ۔ سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ پہلے اس مقدمے میں فروغ نسیم اور ان کی ٹیم مشرف کے دفاع میں پیش ہو رہی تھی اب میں وکالت کروں گا ۔

وکیل نے کہا کہ مشرف مفرور نہیں، ان کو پیش نہ ہونے وجہ طبی ہے اور ان کی بیماری پیچیدہ ہے، اب سیکورٹی وجوہات پیچھے رہ گئی ہیں، ان کی عمر 75 برس ہے ۔ وکیل کہنا تھا کہ بیماری کی طبی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی ، تاہم جنہوں نے یہ مقدمہ بنایا انہوں نے ہی بعد میں ملک سے جانے کی اجازت کی ۔

پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق ملزم کے بیان عدالت میں ہی ریکارڈ کیا جا سکتا ہے ۔ جسٹس یاور علی نے پوچھا کہ کیا ملزم اسکائپ کے ذریعے بیان دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے کہا کہ اس کا جواب مشرف سے پوچھ کر ہی بتا سکتا ہوں، اس کیس میں اپنے دفاع میں سینکڑوں گواہ پیش کرنا چاہیں گے، کیس کو آگے بڑھانے کیلئے قانون کو دیکھنا ہوگا ۔

استغاثہ کے وکیل نصیرالدین نے کہا کہ پرویز مشرف کے نئے وکیل پہلے اپنا وکالت نامہ جمع کر کے عدالت سے پیش ہونے کے اجازت لیں بعد میں قانونی نکات پر دلائل دیں ۔ استغاثہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں اسکائپ کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے پر اعتراض ہو سکتا ہے، ملزم قانون سے مفرور ہے اسے سہولت فراہم نہیں کی جا سکتی ۔

عدالت نے پرویز مشرف کے نئے وکیل کو اجازت دی تو انہوں نے استدعا کی کہ دو تین ہفتے کا وقت دیا جائے تاکہ مقدمے کی فائلیں پڑھ کر آگاہی حاصل کر سکوں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق خصوصی عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے مشرف کے وکیل کو اسکائپ کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے پر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ۔ عدالت نے استغاثہ کو بھی اپنے اعتراضات تحریری طور پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت پندرہ اکتوبر تک ملتوی کر دی ۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر اس کیس کو روزانہ کی بنیاد پر  سننے کا فیصلہ ہوا تھا تاہم آج اس کو ایک ہفتے کیلئے ملتوی کیا گیا ۔ کیس کی سماعت کرنے کیلئے ایک جج کوئٹہ، ایک کراچی اور ایک لاہور سے آتے ہیں ۔

یاد رہے کہ سنگین غداری کا یہ مقدمہ دسمبر سنہ دو ہزار تیرہ سے زیر التوا ہے اور اس کی سماعت کرنے والے کئی ججز تبدیل ہو چکے ہیں ۔ عدالت کے موجودہ سربراہ جسٹس یاور علی بھی اکیس اکتوبر کو ریٹائرڈ ہونے والے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے