کیا فیصل عابدی کو ٹریپ کیا گیا؟

توہین عدالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ میں پیش ہو کر باہر نکلنے کے بعد شیعہ رہنما فیصل رضا عابدی کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر لیا گیا ۔ تھانہ سیکرٹریٹ نے اپنے ہی ایک اہلکار کی مدعیت میں فیصل عابدی پر گزشتہ رات مقدمہ درج کیا جس کا پولیس کے سوا کسی کو علم نہ تھا ۔

حیران کن امر یہ ہے کہ فیصل رضا عابدی کو جس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اس میں وہ پہلے ہی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ضمانت کرا چکے تھے مگر وہ درخواست سپریم کورٹ کے میڈیا ڈائریکٹر نے دی تھی ۔ فیصل رضاعابدی کے خلاف سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی توہین کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں تھانہ سیکرٹریٹ اور ایف آئی اے میں ہی دو مقدمات درج ہیں ۔
ذرائع نے بتایا کہ ایک انتہائی بااثر شخصیت کے حکم پر گزشتہ رات تھانہ سیکرٹریٹ کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی مدعیت میں فیصل رضا عابدی کے خلاف رات ساڑھے دس بجے مقدمہ درج کرایا گیا ۔ ایف آئی آر درج کرانے والے اہلکار شوکت محمود عباسی کے مطابق وہ اپنے موبائل پر ویڈیو دیکھ رہے تھے اور اس میں فیصل عابدی نے چیف جسٹس کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے جس پر میں نے یہ مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی ۔ ایف آئی آر درج کرانے والے اہلکار کے مطابق ویڈیو اور چیف جسٹس کی تضحیک کے بارے میں ان کو ایڈووکیٹ جنرل جہانگیری نے بھی بتایا ۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس مقدمے کے بارے میں کسی کو علم نہ تھا سوائے ان پولیس اہلکاروں کے، جو سپریم کورٹ کے اندر اور باہر فیصل عابدی کو گرفتار کرنے کیلئے تعینات کئے گئے تھے ۔ سپریم کورٹ نے فیصل عابدی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دو ماہ بعد سماعت کیلئے مقرر کی تھی اور ان کے وکیل عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب میں تھے ۔
عدالت کی راہداریوں میں فیصل عابدی کی گرفتاری کے بعد یہ سوال پوچھا جانے لگا کہ کیا مقدمے کو سماعت کیلئے مقرر کر کے راتوں رات مقدمہ درج کرایا گیا تاکہ گرفتاری یقینی بنائی جا سکے؟۔

پولیس نے فیصل رضا عابدی کو گرفتار کرکے تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کیا ۔ سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں بینچ فیصل رضا عابدی کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ فیصل رضا عابدی کیخلاف گزشتہ شب تھانہ سیکرٹریٹ میں نئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں ان پر اعلیٰ عدلیہ کیخلاف توہین آمیز بیانات دینے کا الزام ہے ۔

پیشی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل رضا عابدی نے کہا کہ عدالت پر اعتماد کرتا ہوں تاہم پی سی او ججز پر ہمیشہ اعتراض رہا ہے، کیس پر بات کرنے کا فائدہ نہیں کیونکہ میڈیا نے نشر نہیں کرنا، جسٹس تصدق جیلانی اور جمالی پر کبھی اعتراض نہیں کیا ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے