گوبر

مطیع اللہ جان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ۲۵ جولائی ۲۰۱۸ کے انتخابات میں دھاندلی کے سنگین الزامات لگے تھے۔ کہا گیا تھا کہ ووٹوں کی گنتی کے وقت سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں کو سکیورٹی اہلکاروں نے پولنگ اسٹیشنوں سے باہر نکال دیا اور ووٹوں کی گنتی کی ذمہ داری کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر کچھ سکیورٹی اہلکاروں نے اپنے ہاتھ لے لی تھی۔ پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج والے فارم پینتالیس پر پولنگ ایجنٹوں کے دستخط نہیں کرائے گئے، سکیورٹی اہلکاروں نے پریذائیڈنگ افسران کی معاونت کے بغیر ان پر اپنا رعب و دبدبہ جمایا اور نادرا کا ’ایجاد کردہ‘ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (یعنی پولنگ اسٹیشنوں سے الیکشن کمیشن تک نتائج کی انٹرنیٹ کے ذریعے فوری اور براہ راست ترسیل کا نظام) ناکام ہو گیا۔ یہ وہ "سائنسی ایجاد” تھی جس کے تحت نادرا کے آئین سٹائینوں نے۸۳ ہزار پولنگ اسٹیشنوں کے پریزائڈنگ افسران کو فارم پینتالیس کی موبائل فون سے لی گئی تصاویر کو انٹرنیٹ کے ذریعے الیکشن کمیشن بھجوانے کی سہولت فراہم کی تھی۔ اس قدیم زمانے میں ایک الزام سیاسی انجینئرنگ کا بھی لگا تھا جس کے تحت خلائی مخلوق نے وزیراعظم کو نااہل کروایا، اسے حکمران جماعت کی صدارت سے فارغ کیا اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کو گرا کر سینیٹ کے انتخابات میں بھی ایسی مدھانی گھمائی کہ ایوان بالا کی لسی کی بالائی یعنی چیئرمین شپ بھی ہتھیا لی۔

مذکورہ تمام باتوں پر آج چھائے سناٹے سے یوں لگتا ہے کہ یہ سارے واقعات جیسے پچھلی صدی کا قصہ ہوں۔ ایسا کیوں نہ ہو آخر پچھلی صدی میں پاکستان بننے کے بعد سے اس ملک کے ساتھ حکمران جرنیلوں اور انکے غلام سیاستدانوں نے یہی کچھ تو کیا ہے۔ فوجی آمروں کے ظلم اور سیاستدانوں کی آہ و بکا کے بعد جب بھی عوام نے جمہوریت کی اذان پر صفیں سیدھی کیں تو اُن کے سیاسی امام ابلیس حکمرانوں کے ساتھ چلتے بنے۔ آج بھی حالات کا پہیہ وہی چکر چلا رہا ہے ۔ ووٹ کو عزت دو کی تکبیر کے ساتھ ہی جمہوریت کے امام آمریت کے ابلیس کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی تیاری میں دکھائی دیتے ہیں۔ آج بھی آگ سے بنےاور آگ اگلنے والے ابلیس مٹی سے بنے جمہوریت کے بابا آدم کو سجدہ کرنے سے انکاری ہیں۔ پچھلی صدی میں جو کھیل شروع ہوا تھا وہ اب بھی جاری ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اصل ریفری کی سیٹیاں سنائی دیتی ہیں مگر اسکی شکل دکھائی نہیں دیتی۔ آج ایک بار پھر کچھ سیاستدان محمد خان جونیجو بننے کو تیار ہیں جس کے بعد انہی سیاستدانوں کی اگلی نسلیں اقتدار کا وہی کھیل کھیلیں گی جو گذشتہ تیس سال سے کھیلا جا رہا ہے۔ نئی نسل ہو گی، نیا خون ہو گا، نئی قیادت ہو گی ، نئی مصلحتیں ہوں گی اور اقتدار ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کو نہیں بلکہ ایک خاندان سے دوسرے خاندان کو منتقل ہو گا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ووٹ کو عزت کیسے ملے گی؟

کیا ووٹ کو عزت کسی ضمنی انتخابات کی چند سیٹیں جیت کر اور سیاسی جوڑ توڑ کے بعد کسی صوبے میں حکومت بنا کر حاصل ہو گی؟ یہ سب کچھ سب جماعتوں نے گزشتہ تیس سال کے دوران کر کے دیکھ لیا ھے۔ ووٹ کو عزت دلانے کا باعزت طریقہ یہ ہے کہ اقتدار کی سیاست کو لات مار کر عوامی عدالت میں جمہوریت کے اس مقدمے کی بھرپور پیروی کی جائے جس کی ایف آئی آر میں ووٹ کی عزت لوٹنے والوں کو باقاعدہ نامزد کیا جا چکا ہے؟ بات تحقیقاتی پارلیمانی یا عدالتی کمیشنوں سے بہت آگے نکل چکی ھے۔ کہاں گیا وہ پارلیمانی کمیشن جس نے حالیہ انتخابات میں سیاسی انجینئرنگ اور ووٹوں کی دھاندلی کی تحقیقات کرنی تھیں؟ کہاں گیا وہ وائٹ پیپر جس نے پولنگ والے دن اور اس سے پہلے ہونے والی سیاسی انجینئرنگ کے شواہد منظر عام پر لانے تھے؟ کہاں گئی وہ تحقیقات جن میں رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کی ناکامی کی وجوہات، اسکے ذمہ داران کا تعین اور اسکے انتخابی نتائج پر ہونے والے اثرات کا پتہ چلایا جانا تھا؟ اتنے طوفانوں سے آشنائی کے باوجود بھی ن لیگ کے بحر کی موجوں میں اِضطراب کیوں نہیں؟ ’اگر لہروں کو ہے دریا میں رہنا تو ان کو ہوگا اب چپ چاپ بہنا‘؟

اس ساری صورتحال میں نواز شریف کی سزاؤں کی محض معطلی نے دھاندلی کے اس طوفان میں ٹھہراؤ کیوں پیدا کر دیا ہے جس نے آمریت کے تن آور درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ دینے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ اسی طرح سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی بطور اپوزیشن لیڈر گرفتاری کیخلاف محض اراکین پارلیمنٹ کے احتجاج جیسی کاغذی کاروائی ہی کیوں کی گئی؟ جس وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے تئیں “ آمریت کا مقابلہ کارکردگی سے” والے فارمولے کا جو تجربہ کیا تھا کیا وہ ناکام نہیں ہو گیا؟ مصلحت، سمجھوتوں، ڈیلوں، معائدوں سے ووٹ کی مزید کتنی بےعزتی کروانا مقصود ھے؟ مسلم لیگ (ن) کو آخر کس بات کا انتظار ہے ؟ کسی نئے آرمی چیف کا جو قدرے رحم دل ہو یا نسبتاً ’زیادہ جمہوریت پسند’ یا ’فلاسفر‘ کہ جو آ کر شریف خاندان کے کسی سپوت کو انگلی سے پکڑ کر ایک بار پھر اقتدار کے سٹول پر بٹھا دے؟ (شائد آصف زرداری بھی اسی انتظار میں ھیں اگر انہیں کچھ وقت ملا تو)۔

کس بات کا انتظار ہے؟ کیا انتظار ہے کہ مہنگائی کی سونامی عوام کو سڑکوں پر لے آئے تو پھر (ن) لیگ اپنی سیاست کی کشتی اسٹیبلشمنٹ کے چپوؤں کی مدد سے عوامی غصے کی لہروں کو چیرتے ہوئے پار لگا دے؟ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور عوام کا کیا ھے ہر بار پرچی ڈالنے کو تیار ہو جاتی ھے۔ اس بار شاید یہ آخری دھوکہ ہو گا جو ووٹ کی عزت کے نام پر ووٹر کو دیا جا سکے گا کیونکہ اسکے بعد شاید نہ ووٹ ہو گا اور نہ ہی ووٹر۔

نواز شریف کو فوری طور پر اپنے نجی سوگ سے نکل کر قوم کے اس ستر سالہ سوگ میں شامل ہونا ہو گا جس کا ذکر وہ اپنی انتخابی تقاریر میں کرتے رہے ہیں۔ وگرنہ پھر عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ ووٹ کے محافظوں نے بھی ووٹ کی عزت پر سودے بازی شروع کر رکھی ھے۔ اور یہ کہ پچیس جولائی کے الیکشن میں عوام کا لاپتہ کیا گیا مینڈیٹ لاپتہ افراد کی طرح بھلا دیا گیا ھے۔ آمریت کی بدبو آہستہ آہستہ بھینس کے اس گوبر کی بدبو کی مانند ختم ہو رہی ہے جو اِک نئی نویلی دلہن کو کسی گوالے کے گھر میں پچاس دن پہلے محسوس ہوئی تھی اور جب وہ اس کی عادی ہو گئی تو بولی کہ اسکے آنے سے بدبو چلی گئی ھے۔

متعلقہ مضامین