کرپشن کے خلاف نیا قانون

اسلام آباد سے عابدعلی آرائیں

وفاقی حکومت نے ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے نیا  قانون لانے کا فیصلہ کر لیا ہے نئے قانون کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جو جلد پارلیمینٹ میں پیش کیا جائے گا ۔ نئے قانون کے مطابق ایک کمیشن قائم کیا جائے گا اور کوئی بھی شہری اس کمیشن کے سامنے بدعنوانی کی شکایت کرنے کا مجاز ہو گا، شکایت کنندہ کی شناخت صیغہ راز میں رکھی جائے گی ۔ کمیشن شکایت کی انکوائری کے بعد نیب ، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن  کے سامنے خود شکایت کنندہ بنے گا ملزمان سے بدعنوانی کی رقم کی برآمدگی کی صورت میں شکایت کنندہ کو رقم کا 20فیصد حصہ بطور انعام دیا جائے گا جبکہ جھوٹی شکایت کرنے والے کو بھی سزا سنائی جائے گی۔

جمعہ کو  پریس کانفرنس کے دوران  وفاقی وزیرِ قانون ڈاکٹر فروغ  نسیم کا کہنا تھا کہ کرپشن اور بدعنوانی سے متعلق نیا قانون لایا جا رہا ہے اور  تمام سیاسی  جماعتوں کو کرپشن کے خاتمے کیلئے قانون کی حمایت کرنی چاہیے اور اس اہم معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے تاہم وزیر قانون نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ نئے قانون کے تحت کرپٹ ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہوگا یا نہیں ۔

فروغ نسیم نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے عوام کا تعاون درکار ہے، تمام جماعتوں کو خوش دلی سے نیا قانون قبول کرنا چاہیے، ہم وسل بلور پروٹیکشن ایکٹ اسمبلی سے پاس کرانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کی کسی بھی شکایت کا غیر جانبدار کمیشن جائزہ لے گا،جس کے پاس دیوانی و فوجداری قوانین کے حوالے سے اختیارات ہونگے اور تمام اداروں سے معلومات لے سکے گا۔تین رکنی کمیشن میں ممبران کی تعدا د میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے ۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ 2017 میں خیبرپختون خوا میں وسل بلوئر قانون بنایا گیا تھا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے، جرائم کی روک تھام کیلئے یہ قانون پورے ملک میں لاگو کیا جارہا ہے جو ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا۔وزیرقانون نے بتایا کہ کرپشن کی کسی بھی شکایت کاغیرجانبدارانہ و آزاد کمیشن جائزہ لے کر تحقیقات کرے گا، جب کہ نیب، ایف آئی اے یا منی لانڈرنگ سے متعلق جو بھی جرم ہوگا وہ اس میں شامل ہوگا،  فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور ہر قسم کی کرپشن کو روکنے کی ضرورت ہے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کیخلاف قانون کے لئے مختلف تجاویز آ رہی ہیں، تجاویز کو مکمل مشاورت کے بعد شامل کیا جا رہا ہے۔وزیر قانون نے کہا کہ کرپشن سے متعلق نئے قانون پر کام جاری ہے جسے جلد پیش کر دیا جائے گا۔۔وفاقی وزیر قانون نے عوام سے اپیل کی کہ حکومت کی انسداد کرپشن مہم میں ساتھ دیں، کرپشن میں ملوث افراد سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے نام صیغہ راز میں رکھے جائیں گے۔
جب وزیر قانون سے سوال کیا گیا کہ کن اداروں یا افراد کو
اس قانون سے استثناء ہوگا تو ان کا کہنا تھا کہ نیب، ایف آئی اے اور انٹی کرپشن قوانین میں جن اداروں کو استثناء ہے ان کو قانون میں بھی استثناء حاصل ہو گا، ججز اور فوج کے حوالے سے سوال کرنے پر انہوں نے دوسرے رپورٹر کو سوال کرنے کا کہہ دیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے