کراچی میں چیف جسٹس کی سرگرمیاں

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ویک اینڈ پر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں عدالت لگائی ۔ جمعہ اور ہفتہ کے روز انہوں نے کئی مقدمات میں احکامات جاری کئے ۔ چیف جسٹس سے سندھ کے وزیراعلی مراد علی شاہ نے بھی ملاقات کی ہے۔

چیف جسٹس  ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل بنچ نے اومنی گروپ کی شوگر ملز سے چینی کے ذخائر غائب ہونے کی ایف آئی اے کی شکایت کو سنا ۔ عدالتی حکم پر منجمد چینی کا اسٹاک غائب ہونے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قوم کے اثاثوں کے 14 ارب روپے میں سے 11 ارب روپے کی چینی غائب کردی گئی ہے، ایف آئی اے اور پولیس کہاں تھی؟۔

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا کہ 9 شوگر ملیں اومنی گروپ کی چھتری کے نیچے چل رہی ہیں جن میں نوڈیرو شوگر مل، باندھی، کھوسکی شوگر، انصاری شوگر، ٹنڈو الہ یار شوگر مل، باوانی، نیو دادو ، لارڈ شوگر مل اور چمڑ شوگر مل شامل ہیں، جب کہ چینی غائب کرنے پر اومنی گروپ کے خلاف 9 مقدمات درج کرلیے گئے ہیں، ان شوگر ملوں کے چیف ایگزیکٹو اومنی گروپ کے مالکان ہی ہیں، اومنی گروپ کے کچھ دفاتر کراچی اور کچھ اندرون سندھ میں ہیں ۔

عدالت نے اومنی گروپ کے چیف ایگزیکٹو اور دیگر حکام کو طلب کیا ۔ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں اومنی گروپ کا تمام ریکارڈ بھی 30 اکتوبر کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ایف آئی اے حکام نے عدالت کو کیس میں پیش رفت سے آگاہ کیا ۔ عدالت میں جعلی اکاؤنٹس کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ بھی موجود تھے ۔

عدالت میں پیش ہونے کے بعد انور مجید کے بیٹے نمر مجید کو گرفتار کر لیا گیا ۔ اس سے قبل چیف جسٹس نے کہا کہ جیل میں اومنی گروپ کے لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں اور وہاں سے احکامات جاری کرتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر فوری طور پر ملزمان سے فون نہ لئے گئے تو جیل حکام کے خلاف سخت کارروائی کریں گے ۔

چیف جسٹس نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بھارتی ٹی وی چینلز بند کرنے کا بھی کہا ۔ ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں بھارتی چینلز دکھانے والے باکس آ چکے ہیں۔ ہم ان کو بند کیوں نہیں کر سکتے؟ ایک ملک ہمارا پانی روک رہا ہے تو ہم اس کے چینلز کیوں بند نہ کریں ۔

چیف جسٹس نے کراچی میں بوتل پانی بیچنے والی ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے پلانٹ کا بھی دورہ کیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے