ایران دشمنی میں عربوں کو اسرائیل قبول

اسرائیل کا خصوصی طیارہ اسلام آباد آیا ہو یا نہ آیا ہو لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اومان کے حکمران سلطان قابوس سے خفیہ ملاقات ضرور کی ہے جس کی باقاعدہ تصدیق اومانی وزیر خارجہ یوسف علاوی کا یہ بیان کرتا ہے کہ  ‘اسرائیل خطے میں ایک ملک ہے اور ہم سبھی اس بات کو سمجھتے ہیں۔’

بی بی سی کے مطابق عرب خطے میں سکیورٹی کی سربراہی کانفرنس سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عرب ممالک کو اسرائیل تو قبول ہے لیکن ایران نہیں ۔

اومان کے خارجہ امور کے وزیر یوسف بن علاوی نے کہا ہے کہ نے کہا ہے کہ ‘دنیا بھی اس حقیقت سے واقف ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اسی طرح سلوک روا رکھا جائے اور اسرائیل پر بھی وہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔’

یوسف علاوی نے کہا کہ ‘اسرائیل اور فلسطین کے معاملے میں ہم لوگ ثالث نہیں ہیں لیکن ہم دونوں فریق کو ساتھ آنے کے لیے سہولیات اور خیالات فراہم کرنے کی پیشکش کر تے ہیں۔’ انھوں نے کہا کہ ‘ہم اسرائیل اور فلسطین کے متعلق اپنی اس تجویز کے متعلق بہت پرامید ہیں۔’

اس سے قبل سعودی عرب اور اس کے قریبی حلیف بحرین نے عرب خطے میں سیکورٹی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ کہا کہ ایران کے ‘تاریکی کے وژن’ سے لڑتے ہوئے خلیجی ممالک مشرق وسطیٰ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ ریاض کو دہائیوں میں سب سے خراب سیاسی بحران کا سامنا ہے۔

بی بی سی کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبیر نے بحرین میں سکیورٹی کی ایک سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ‘ہمیں مشرق وسطیٰ میں دو وژن کا سامنا ہے۔ ایک (سعودی کا) روشنی کا وژن ہے ۔دوسرا (ایران کا) تاریکی کا وژن ہے جو پورے خطے میں فرقہ بندی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ‘تاریخ بتاتی ہے کہ روشنی کی ہمیشہ تاریکی کے خلاف جیت ہوئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح شکست دیتے ہیں ۔’

دوسری جانب بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی سکیورٹی کے لیے خلیجی بلاک ایک ستون ہوگا اور انھوں نے امریکہ، خلیجی ممالک، اردن اور مصر کے سکیورٹی اتحاد کے قیام کی تجویز پیش کیا ۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے جون سنہ 2017 میں قطر کے ساتھ سفری رابطے اور تجارت منقطع کر رکھی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ قطر ان کے قدیم دشمن ایران کی دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔ قطر ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کا بائيکاٹ اس کی خودمختاری پر حملہ ہے۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے