انصافی وزیر نہ سننے کے عادی نہیں

اںصافی حکومت کا ہر وزیر پولیس کو اپنے تابع دیکھنا چاہتا ہے ۔ پہلے پنجاب میں تحریک انصاف کے رہنما کے بیٹے کو قابل اعتراض حالت میں پکڑنے اور اپنا کردار ادا نہ کرنے پر پنجاب کے پولیس سربراہ کو ہٹایا گیا تھا، اب اسلام آباد مین وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا فون اٹینڈ نہ کرنے پر آئی جی جان محمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔

ایکسپریس نیوز کے حیدر نسیم کی خبر کے مطابق حکومت نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کو عہدے سے ہٹا کر انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ جان محمد پی ایس پی (پولیس سروس آف پاکستان) کے گریڈ 20 کے افسر ہیں ۔ جان محمد کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا فون اٹینڈ نہ کرنے پر عہدے سے ہٹایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹر اعظم سواتی کا تنازعہ اپنے فارم ہاوٴس کے قریب خیمہ بستی میں مقیم کچھ ناپسندیدہ عناصر سے چل رہا تھا، چند روز قبل اعظم خان سواتی کے گارڈز اوران کے درمیان جھگڑا بھی ہواتھا۔ وفاقی وزیر کا ناپسندیدہ عناصر کے خلاف کارروائی کے لئے آئی جی اسلام آباد پر شدید دباوٴ تھا، جس کی وجہ سے جان محمد نے اعظم سواتی کا فون اٹینڈ کرنا ہی چھوڑ دیا تھا۔

فون اٹینڈ نہ کرنے پر اعظم خان سواتی نے وزیر اعظم عمران خان کو آئی جی کے رویے کے خلاف شکایت کی اور نتیجتاً انہیں اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑ گیا ۔ وفاقی وزیر کے ہی دباوٴ پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہفتہ وار تعطیل کے روز جان محمد کو آئی جی کے عہدے سے ہٹانے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اعظم سواتی کا آئی جی اسلام آباد کے تبادلے سے کوئی تعلق نہیں ہے، آئی جی کے تبادلے کی سمری ہفتوں سے وزیر اعظم کے پاس تھی، وزیراعظم کی مصروفیات کی وجہ سے تبادلے میں تاخیر ہوئی ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آئی جی پنجاب محمد طاہر کے علاوہ ڈی پی او پاک پتن کا بھی خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر کی شکایت پر راتوں رات تبادلہ کیا گیا تھا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے