غلطی کی ہے معافی دیدیں، عامر لیاقت

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اینکر عامر لیاقت کی توہین عدالت کے مقدمے میں معافی کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ فرد جرم عائد کی جائے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ عامر لیاقت دوسروں کو بل سے باہر آنے کا کہتے تھے اب خود بل سے باہر نکلیں ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے عامر لیاقت کے خلاف شاہ زیب خانزادہ اور جیو ٹی وی کی توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے عامر لیاقت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اٹارنی جنرل کو فرد جرم تیار کرنے کا حکم دیا تھا، چارج شیٹ کہاں ہے؟ ۔

بول نیوز کی جانب سے عامر لیاقت کے وکیل شہاب سرکی نے عدالت سے استدعا کی کہ مدعا علیہ نے ایک بار پھر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے خود کو عدالتی رحم و کرم پر چھوڑا ہے، عدالت معافی دے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ معافی دینا چھوڑ دی ہے، اب کسی کو معافی نہیں ملے گی، یہ عدالتی حکم کی تضحیک کرتے رہے ہیں اور بار بار انہوں نے خلاف ورزی کی، عدالتی ہدایت کے باوجود اپنا رویہ نہ بدلا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ٹی وی پر دوسروں کو بل سے باہر آنے کا کہتے تھے، اب عامر لیاقت خود بل سے باہر آئیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عامر لیاقت بڑے زور و شور سے آتے ہیں ۔ عامر لیاقت نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ میں ایک بار پھر معافی مانگتا ہوں، مجھ سے غلطی ہوئی ہے معاف کیا جائے  ۔ عامر لیاقت نے کہا کہ اپنی تمام باتوں کی معافی مانگتا ہوں، غلطی ہوگئی تھی عدالت معاف کرے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اٹارنی جنرل سے فرد جرم تیار کرنے کیلئے کہا ہے، وہ آئیں گے تو فرد جرم عائد کی جائے گی ۔

بعد ازاں اٹارنی جنرل کے موجود نہ ہونے پر سماعت ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے