لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا، چیف جسٹس

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا، اب اپنے گھر کو درست کرنا ہے ۔

سپریم کورٹ میں فراڈ کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران انہوں نے وکیلوں اور سائلین سے کہا کہ آپ کو آج ایک کمال لطیفہ سناؤں، صبح ماتحت عدلیہ اسلام آباد کے ایک جج کو بلایا تھا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جج نے بتایا کہ دو ماہ میں صرف دو مقدمات سنے، چیف جسٹس کے مطابق جج صاحب نے کہا کہ وکلا تعاون نہیں کرتے، چیف جسٹس نے کہا کہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ جج صاحب کی تنخواہ دو لاکھ روپے ہے ۔

چیف جسٹس نے متاثرین کی مقدمات نہ سنے جانے کی شکایت پر کہا کہ لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا، اب میں اپنے گھر کو درست کرنے لگا ہوں ۔ ایک متاثرہ شخص نے کہا کہ ملزمان نے پونے چار ارب کا فراڈ کیا ہے مگر ہر جگہ سے ضمانت مل جاتی ہے کیونکہ بڑے ناموں والے وکیل کر لیتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس بات پر تبصروں نہیں کروں گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے