حکومتی ترجمانوں کی دھمکیاں اور حالات

تحریک انصاف کی نو زائیدہ حکومت کے وزیر اور مشیر دھرنا دیئے بیٹھے شدت پسند مذہبی تنظیم کے کارندوں کے بارے میں بیانات دے رہے ہیں اور مذاکرات کا ڈول بھی ڈالنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ دوسری جانب شر پسند عناصر نے موٹر وے سمیت بڑے شہروں کی شاہراہوں پر درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا کر خاکستر کر ڈالا ہے ۔

جمعرات کے روز جب دارالحکومت اسلام آباد سمیت پورا ملک بند پڑا ہوا تھا اور شرپسند عناصر سارا دن کھل کر عام لوگوں کی گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچاتے رہے شام کے وقت وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ریاست کو چیلنج کرنا بغاوت کے زمرے میں آتاہے، کوئی اس گمان میں نہ رہے کہ ریاست کمزور ہے ۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے  وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کے حوالے سے عدالتی فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں، گزشتہ روز  وزیراعظم عمران خان نے بھی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے خطاب کیا اور ریاست کا مؤقف پیش کیا ۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا کہا، جس پر حکومتی وفد نے ملک کے بڑے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، ہم اس حساس معاملے پر  اپوزیشن پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور ہر فیصلے میں پوری پارلیمنٹ کی مشاورت شامل ہوگی۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے