ایک سال میں فوج کا موقف کیوں بدلا؟

پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کو سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر سخت سوالات، تنقید اور تبصروں کا سامنا ہے ۔ ٹوئٹر پر ہر دوسرا صارف ان سے یہ پوچھ رہا ہے کہ گزشتہ سال نومبر اور حالیہ نومبر کے فیض آباد دھرنوں اور اہم شاہراہیں بند کرنے والوں میں کیا فرق ہے جو ان کا موقف پچھلے سال مختلف تھا اور حالیہ بیانات مکمل طور پر اس سے متضاد ہیں ۔

سوشل میڈیا صارفین فوجی ترجمان کے گزشتہ برس کے ٹویٹ، ٹی وی چینلز کے اسکرین شاٹس اور ویڈیوز بھی شیئر کر رہے ہیں جن میں انہوں نے اس وقت کی حکومت کو مظاہرین سے بات چیت کرنے کیلئے کہا تھا ۔

واضح رہے کہ حالیہ دھرنے میں پاکستان کی فوج کے سربراہ کے بارے میں مولانا افضل قادری اور خادم رضوی نے کافی سخت زبان استعمال کی ہے اور وزیراعظم نے اپنی تقریر میں اس کی تفصیل بھی بتائی تھی ۔

اس کے بعد فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے گزشتہ رات سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو میں اپنا موقف دیا تاہم ان کے لہجے اور الفاظ کے چناو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ فوجی ترجمان نے کہا تھا کہ ’حکومت کے پاس فیصلے کرنے کے مختلف آپشنز ہوتے ہیں اور پہلے پولیس، رینجرز اور پھر فوج کے استعمال کا فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ اور اگر حکومت فوج بلانے کا فیصلہ کرتی ہے تو پھر فوج کے سربراہ اس پر وزیراعظم کو اپنا مشورہ دیتے ہیں یا اگر وزیراعظم اپنے حکم کے تحت فوج کو طلب کر سکتے ہیں۔ البتہ ہماری پوری خواہش ہے کہ قانونی تقاضہ پہلے پورے ہونے دیں۔‘

سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے افواج پاکستان کے خلاف بات کرنے کو نہایت افسوسناک قرار دیا ۔ ان کے الفاظ تھے کہ ’فوج نے دو دہائیوں سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور اب ہم اس جنگ کو جیتنے کے قریب ہیں۔‘

میجر جنرل آصف غفور نے مولویوں کے دھرنے کے دوران استعمال کی گئی زبان پر کہا کہ ’اس میں بھی فوج نے برداشت کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کیس میں تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی ہماری خواہش ہے کہ انصاف کیا جائے اور ہمیں ایسا کوئی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے جس کی ہمیں آئین اور قانون اجازت دیتا ہے۔‘

میجر جنرل آصف غفور نے موجودہ صورتحال کے بارے میں کہا کہ’میں نے مولانا خادم رضوی صاحب کا بیان دیکھا ہے، فوج کے خلاف باتیں ہوئی ہیں۔ ایک صورتحال بنی ہوئی ہے جس کو حل کرنے کے لیے حکومت کا وفد گیا ہوا ہے جس میں آئی ایس آئی کا افسر بھی شامل ہے۔ آئی ایس آئی کا افسر وزیر اعظم کی ٹیم کا حصہ ہوتا ہے اور گذشتہ سال کی طرح بھی وہ اس بار گئے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کبھی کبھار اونچ نیچ ہو جاتی ہے اور اس قسم کے فیصلے لینے بہت مشکل ہوتے ہیں اور ہمیں اس صورتحال کو قابو میں کرنا ہوتا ہے۔‘

یاد رہے کہ گزشتہ رات ناکام مذاکرات کے بعد خادم رضوی کے اکاونٹ سے نہایت سخت زبان میں ٹویٹ کی گئی تھی اور اس کے بعد ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیض حمید کے بارے میں کہا تھا کہ انہوں نے ہمیں دھمکی دی ہے ۔ فوجی ترجمان نے اسی ویڈیو کے حوالے سے وضاحت کی کہ مذاکرات میں کبھی کبھار اونچ نیچ ہو جاتی ہے ۔

دوسری جانب اس تمام صورتحال میں ملک کے بڑے شہروں میں دن بھر سیلولر فون سروس بند رکھی گئی ۔ اہم شاہراہیں اور چوک بند رہے جبکہ بہت سے مقامات پر شہری گھروں میں محصور رہے ۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے شرپسندوں کی کچھ ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں جن میں وہ عام شہریوں کی گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے