offence is best Defence

ایک زمانہ تھا جب سنتے تھے کہ جمہوری حکومت کا کام معاملات سنبھالنا، خود کو تنقیدسے بچائے رکھنا اور ایسا نرم رویہ اختیار کرنا ہے کہ جس سے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلا جائے تاکہ اپوزیشن کوئی ایسا انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کرے جس سے ’نظام‘ کو کوئی خطرہ لاحق ہو ۔ مشرف کے دور حکومت کے بعد آنے والے دونوں جمہوری ادوار کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ بات درست بھی معلوم ہوتی ہے لیکن 25 جولائی 2018 کے انتخابات کے بعد ’نیا پاکستان‘ بنانے کی دعویدار حکومت کے ابتدائی ایام کی پالیسیوں کا جائزہ لیں تو معاملہ برعکس نظر آتا ہے، نہ صرف ایوانوں میں دیئے گئے وزراء کے بیان بلکہ خود وزیراعظم عمران خان کے بیانات مفاہمتی پالیسی کے اس اصول کی نفی کرتے نظر آتے ہیں ۔ لگتا ایسا ہے کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اپوزیشن کو اکٹھا ہونے دیا جائے اور سچ پوچھیں تو بیچاری اپوزہشن کوشش بھی کر رہی ہے کہ ایسا کچھ کر جائے کہ حکومت کے ہوش ٹھکانے لگ جائیں اور حکومت ناکوں چنے چبانے پہ مجبور ہو جائے لیکن سردست ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا ۔

سوال یہ ہے کہ حکومت ایسا سخت رویہ کیوں اختیار کیے ہوئے ہے تو اس حوالے سے واقفان حال کا یہ کہنا ہے کہ موجودہ حکومت ’offence is best defence‘ کے مقولے پر عمل پیرا ہے ۔ اہم حکومتی عہدے پر بیٹھے ایک رہنما کے بقول پاکستانی قوم کو ورلڈ کپ کا تحفہ دینے والے کپتان اس دفعہ بھی جارحانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مرکز اور پنجاب کے اہم وزراء ایوانوں کے اندر اور باہر سخت اور جارحانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔
واقفان حال کے مطابق اسمبلی میں معمولی اکثریت کے بعد عنان اقتدار سنبھالتے ہی کپتان کا پہلا فیصلہ یہ تھا کہ اپوزیشن پر جارحانہ اور تابڑ توڑ حملے کیے جائیں کہ اپوزیشن سنبھل ہی نہ پائے…. نیب اور عدالتوں میں لگے اپوزیشن کے اہم رہنماؤں کے کیسز نے بظاہر مظبوط نظر آنے والی اپوزیشن کی رسی کے رہے سہے بل بھی نکال دییے، اور آج اپوزیشن کا ہر اہم رہنما عدالتوں یا نیب دفتروں کے چکر کاٹتا نظر آتا ہے اور اس کے ساتھ حکومتی رہنماؤں کی جانب سے کیے گیے تابڑ توڑ حملوں سے اپنے دفاع میں بھی مصروف ہے اور شاید موجودہ حکومت کے اسی offensive رویے کی بدولت ہی کچھ روز قبل متحدہ اپوزیشن تشکیل دیکر موجودہ حکومت کو گرانے کا خواب دیکھنے والے زرداری بھی قومی اسمبلی میں 20سال بعد کی گیی یادگار تقریر میں موجودہ حکومت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا بیٹھے… اگرچہ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ اسکی واحد وجہ زرداری اینڈ کمپنی کے گرد نیب کا مسلسل تنگ ہوتا گھیرا ہے تاہم حکومت کی offence is best defence,, کی پالیسی کو بھی یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا…. برسبیل تذکرہ کہ اگرچہ زرداری کے حکومت کی طرف دوستی کے ہاتھ بڑھانےکو دارلحکومت کے کچھ حلقے این آر او کے لیے ایک کوشش بھی قرار دے رہے ہیں تاہم پیپلز پارٹی اس طرح کے کسی بھی لفظ سے خود کو یکسر انجان ظاہر کر رہی ہے .
تاہم سوال یہ ہے کہ offensive پالیسی کے باعث اپوزیشن کو بیک فٹ پر دھکیلنے میں کامیاب نظر آنے والی حکومت پاکستانی قوم کو کس طرح دلاسا دے گی . نیا پاکستان کے نام پر بننے والی اس حکومت کو ووٹ دینے والے نوجوان جو ڈیڑھ کروڑ نوکریوں کے خواب آنکھوں میں سجاuے بیٹھے ہیں اور 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے بعد اپنے گھر کا سہانا سپنا دیکھنے والی آنکھیں شاید موجودہ حکومت کو زیادہ وقت دینے پر راضی نہ ہوں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے