چین میں عمران خان

بہت ضروری تھا کہ حالیہ دورہ چین کے لئے روانگی سے قبل وزیر عظم عمران خان صاحب ہمارے ملک کے ان سفارت کاروں کے ساتھ ایک طویل ملاقات کرتے جنہوں نے اپنے کیئرئیر کے بیشتر برس پاک-چین تعلقات کو گہرائی فراہم کرنے میں صرف کئے ہیں۔ ایسے افراد کے نام لے کر میں انہیں شرمندہ نہیں کرنا چاہتا۔ ان میں سے اکثر نے اگرچہ 2018ہی میں نہیں بلکہ 2013میں بھی تحریک انصاف کو ووٹ دئیے تھے۔ انہیں عمران خان صاحب سے بہت امیدیں ہیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے خارجہ امور کو چلانے کے ضمن میں لیکن ان کی خوش گمانی اب فکرمندی میں تبدیل ہو رہی ہے ۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ان کے روبرو پاکستان کی جو ”تاریخ“ بیان کی ہے، اسے چینی ثقافت کے تناظر میں خوش گوار تصور نہیں کیا جائے گا۔ چین،جاپان اور کوریا کی ثقافت میں Faceکا تصور مشترک ہے اور یہ روزمرہّ زندگی پر حاوی ہے۔

مجھے خبر نہیں کو اُردو زبان کا کونسا لفظ اس تصور کو وضاحت سے بیان کرسکتا ہے جس کا میں ذکر کررہا ہوں۔ حجاب، شرم حیا کو انا کے ساتھ جوڑتا کوئی لفظ ڈھونڈنا ہوگا یا شاید اپنی ماﺅں کی سمجھائی اس بات کا یاد کرنا کہ اپنے پیٹ کو قمیض اٹھاکر لوگوں کی نگاہ میں نہیں لانا چاہیے۔

چین یقینا اس وقت دنیا کے طاقت ور ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ کئی محققین بلکہ یہ طے کرچکے ہیں کہ آئندہ چند دہائیوں کے بعد وہ ہر حوالے سے امریکہ سے بھی بالاتر سپرطاقت ہوگا۔ ان تمام حقائق کے باوجود اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ماﺅزے تنگ کے لائے انقلاب کے بعد بھی چین کئی بار قحط سالی کا شکار ہوا۔ اس کی حکمران جماعت میں گروہ بندیاں رہیں۔ متحارب گروہوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے تقریباََ خانہ جنگی والی صورت حال پیدا کی۔

اس حوالے سے سب سے خوفناک صورت حال 1970کے آغاز میں شروع ہوئی اور تقریباََ 8برس تک جاری رہی۔ ”ثقافتی انقلاب“ کے غالب برسوں میں کمونسٹ پارٹی کے ہزاروں لوگوں ”بورژدادانشوری“ کے مرتکب ٹھہرا کر اپنے شہروں اور گھروں سے دور دراز دیہاتوں میں بھیج دئیے گئے۔ چھوٹے قصبوں میں یہ ”دانشور“ فیکٹریوں کے عام مزدوروں کی طرح کام کرتے۔ دیہاتوں میں بھیجے لوگ ہاریوں سے بدتر زندگی گزارتے رہے۔ ڈنگ سیاﺅپنگ ”خطا کار“ٹھہرائے کمیونسٹوں کی آخری امید رہا۔ بالآخر اسے اقتدار میں واپس لانا پڑا۔ماﺅزے تنگ اور چو این لائی کی وفات کے بعد اس نے قیادت سنبھالی تو چین اس شاہراہ کی جانب رواں ہوا جس کے شاندار مقامات ہم اس دور میں دیکھ رہے ہیں۔

عوامی جمہوریہ چین کے کسی رہ نما کو لیکن تحریک انصاف کے دفتر میں مدعو کرکے اپنے ملک کی ”تاریخ“ بیان کرنے کی درخواست کی جائے تو اس کی گفتگو میں ”ثقافتی انقلاب“ کے دوران چین پر نازل ہوئی ابتری اور مصیبتوں کا ذکر تک نہ ہوگا۔ وہ ساری توجہ اپنے ملک کی "Glorious”تاریخ اور روایات کو اجاگر کرنے پر مرکوز رکھے گا۔

صاف گوئی ایک قابل ستائش وصف ہے۔ چینیوں کے روبرو پاکستان کی ”تاریخ“ بیان کرتے ہوئے لیکن اس کی ضرورت نہ تھی۔ پاکستان میں لاکھ خرابیاں ہیں۔ ہم یقینا ایک غریب ملک ہیں۔ ہماری بھی لیکن چند شاندار روایات ہیں۔ ہمارے لوگوں کی ڈھیٹ ہڈی بسا اوقات ہمارے بدترین دشمنوں کو بھی حیران کردیتی ہے۔ کاش عمران خان صاحب میرے وطن کی ایسی چند خوبیوں کو بھی فخر سے بیان کرپاتے۔

1960کا عشرہ، عمران خان صاحب کو کون سمجھائے،ہمارے وطن کے لئے بہت مثالی نہیں تھا۔ جی ہاں اس عشرے میں صنعت کاری ہوئی،زراعت میں خوش حالی آئی۔ اس دور کی ساری رونق مگر ورلڈ بینک اور امریکہ کی جانب سے فراہم ہوئے قرض اور امداد کی بدولت دیکھنے میں نظر آئی۔ ملک میں صنعت کو بڑھاوادینے کے نام پر بالآخر 22خاندانوں نے تمام کاروباری شعبوں پر اجارہ قائم کرلیا۔ اس اجارے نے خوش حالی اورامارت کو سکیڑ کو چند خاندانوں تک محدود کردیا۔ چند گھرانوں تک حدود ہوئی خوش حالی نے بالآخر نومبر1968سے ایک عوامی تحریک کو جنم دیا جس کے نتیجے میں ایوب خان کو مستعفی ہوکر گھر جانا پڑا۔

اس عشرے کے دوران اپنائی پالیسیوں ہی کی وجہ مشرقی پاکستان میں یہ احساس جاگزیں ہوا کہ ترقی اور خوشحالی کا سارا عمل مغربی پاکستان تک محدود کردیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کے قیام کی بنیاد درحقیقت اس عشرے میں رکھی گئی تھی۔اسے 1965کی پاک-بھارت جنگ نے شدید تر کیا اور شیخ مجیب اس جنگ کے اختتام پر اپنے 6نکات لے کرآگیا۔ بالآخر1971میں پاکستان دو لخت ہوگیا۔ ورلڈ بینک کی مدد سے لائی رونق اس بحران میں ہمارے کام نہ آئی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بھی پاک- بھارت جنگوں کے دوران ہمارا ساتھ نہ دیا۔ ہمیں صاف الفاظ میں بتادیا گیا کہ پاکستان کو کمیونسٹ روس کے خلاف لڑنے کے لئے توانابنایا جارہا تھا۔ اس باعث 1965کی جنگ کے بعدایوب خان سوویت یونین کے شہر تاشقند جاکر جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرنے کو مجبور ہوا۔ 1971میں چین بھی ہماری تمام تر فریادوں کے باوجود پاکستان کو دولخت ہونے سے بچانے میں کوئی مدد فراہم نہ کرپایا۔

1960کے عشرے کو رشک سے یاد کرتے ہوئے عمران خان صاحب اس دور کے تلخ حقائق سے قطعاََ بے خبر سنائی دیتے ہیں۔ یہ بے خبری ان کا ذاتی حق ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے چین میں کمیونسٹ پارٹی کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے فقط اس عشرے تک محدود رہتے ہوئے پاکستان کی بقیہ ”تاریخ“ کے بارے میں شرمندگی کا اظہار مگر زیادتی تھی۔

عمران خان صاحب کو شاید یہ علم نہیں کہ جب پاکستان کا ”دیدہ ور“ ثابت ہونے کے خواہاں خود کو سیٹو اور سینٹو معاہدوں کے ذریعے امریکہ کا شاہ سے زیادہ وفادار ثابت کرنے کو مرے جارہے تھے تو پاکستان کا ایک وزیر اعظم بھی تھا۔ حسین شہید سہروردی اس کا نام تھا۔ اس شخص نے کمال ذہانت سے دریافت کیا کہ آنے والا دور چین کا ہے اور جنوبی ایشیا بھارت کی بالادستی روکنے کے لئے پاکستان کو اس سے دوستی بنانا اور بڑھانا ہوگی۔ سہروردی کو یہ خیال اس وقت لاحق ہوا جب بھارت میں ”ہندی چینی-بھائی بھائی“ کے نعرے لگائے جارہے تھے۔امریکہ تائیوان کو ”اصل چین“ شمار کرتا تھا۔

سہروردی کی دکھائی راہ پر ذوالفقار علی بھٹو نام کے ایک اور سیاست دان نے ثابت قدمی کے ساتھ سفرکیا۔ برسوں سے ہوئے کام کی بنیاد پر 1970کے بعد پاک چین دوستی گہری سے گہری تر ہوتی گئی۔ ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ اس گہرائی کو آسانی امریکہ کی اس خواہش نے بھی فراہم کی کہ چین کو سوویت یونین سے جدا کرکے کمیونسٹ کیمپ میں نفاق ڈالا جائے۔ کسنجر کے سوچے اس خیال کو امریکی صدر نکسن نے عملی صورت مہیا کی۔

حقیقت یہ بھی ہے کہ چین کی حیران کن ترقی کی اصل بنیاد امریکی سرمایہ کاری ہے جسے ڈنگ سیاﺅپنگ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد والہانہ انداز میں خوش آمدید کہا۔چین کے مزدور نسبتاََ سستی اُجرت پر بیکار کیمپوں والے ماحول میں امریکہ کی Brandedمصنوعات دُنیا بھر کی منڈیوں کے لئے تیار کرتے رہے ۔اب چین کے پاس متاثر کن مقدار میں وافر سرمایہ موجود ہے۔ وہ اس کے استعمال کے ذریعے اب اپنی بنائی مصنوعات کو دُنیا بھر کے بازاروں میں بیچنے کے لئے تیار ہے۔CPECاس تیاری کا ایک اہم مظہر ہے۔

پاکستان کی ترقی اور خوش حالی مگر صرف چین کی مدد اور دوستی پر منحصر نہیں۔ ہر نوع کے Optionہمارے لئے بھی خاطر خواہ تعداد میں موجود ہیں۔ چین کی سرزمین پر کھڑے ہوکر پاکستان کو مجبور ولاچار دکھانے کا جواز ہرگز موجود نہیں۔ قوم کی تقدیربدلنے کے دعوے دار اپنے ملک اور لوگوں کے بارے میں دنیا کے لئے ہمیشہ Feel Goodماحول بنانے کو بے چین رہتے ہیں۔”India Shining”جیسی بڑھکیں لگاتے ہیں۔اپنے ملک میں موجود غربت اورکرپشن وغیرہ پر غیروں خاص کر مشرقِ بعید کی Faceوالی ثقافت کے روبرو ندامت کا اظہار نہیں کرتے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے