مجھے کیوں نکالا

اظہر سید

”نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں ” سی پیک کے خلاف سازشیں پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ عالمی چوہدریوں کی چین کے خلاف ہیں پاکستان اور میاں نواز شریف تو ویسے ہی گندم کے ساتھ پس رہے ہیں ،تصویر تو اسٹیبلشمنٹ کی نظر آ رہی ہے پس آئینہ امریکی اور عالمی معیشت پر قابض یہودی ہیں جو کھل کر پاکستانی حکام کو سی پیک ترک کر دینے کا مشورہ دے چکے ہیں جنرل باجوہ ،آئی ایس آئی کے چیف اور دیگر متعلقہ حکام جن میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی شامل ہیں اس بات سے واقف ہیں کہ امریکی سی پیک ترک کرنے کیلئے دباو ڈال رہے تھے ،امریکی کانگرس کا ایک اعلی سطحی وفد پاکستان کے دورہ پر آیا تھا اس وفد نے جی ایچ کیو میں چیف صاحب سے بھی ملاقات کی تھی اور اس سے قبل وزیر اعظم نواز شریف سے بھی یہ لوگ ملے تھے اس وفد کے دورہ کے دوران پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر یہ بات سامنے آئی تھی کہ امریکی سی پیک ختم کرنے کیلئے دباو ڈال رہے ہیں ۔اور اب گوادر سے ایک گھنٹہ کے فاصلے پر اومان کی بندر گاہ اسرائیل نے لیز پر لے لی ہے ،یہ بات زیادہ معنی خیز ہے جس اسرائیل طیارے کی پاکستان آمد کا غلغلہ بلند ہوا اس سے 10 گھنٹے قبل اسرائیل وزیراعظم نے اومان کا دورہ کیا اور بندرگاہ کی لیز کا معاہدہ کیا۔
پاکستان کی طرف سے سی پیک پر امریکی دباو مسترد کردیا گیا تھا اور نتایج کا سامنا میاں نواز شریف نے کیا ۔امریکی سینٹ کام اور کانگرس کے اعلی سطحی وفد کے ناکام دورہ پاکستان کے بعد پناما انکشافات سامنے آئے اور پھر جس کھیل کا آغاز ہوا اس کے نتایج معاشی تباہی اور ملک کے واحد بچ رہنے والے مضبوط اور طاقتور ادارہ پاک فوج کے خلاف پنجاب اور کے پی کے میں نعروں کی صورت میں پوری قوم نے دیکھے ۔
اس سے بھی پہلے ایک وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے امریکیوں کے دباو پر ایٹمی پروگرام ترک کرنے سے انکار کیا تھااس نے بھی نتایج کا سامنا کیا اور پھانسی اس کا مقدر بنا دی گئی ،اس کے بعد ایک وزیر اعظم محترمہ بینظر بھٹو تھیں انہوں نے شمالی کوریا کو کچھ ٹیکنالوجی کی ڈارئینگ دیں اور بدلے میں شمالی کوریا نے بھی مزائل ٹیکنالوجی کے کچھ نایاب تحائف پاکستان کو دئے اور پاکستان جسے دنیا کے تمام ممالک لڑاکا طیارے دینے سے انکار کر رہے تھے اسے ایٹمی ہیتھیاروں کے استمال کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل مزائل حاصل ہو گئے اور دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا انہیں دو مرتبہ سزا دئی گئی انکی دو حکومتیں کرپشن کا نام لے کر فارغ کی گئیں ۔
بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں جب ریٹائرمنٹ کے بعد امریکہ کے ایک تھینک ٹینک سے بھاری مشاہرہ پر منسلک ہونے والے چیف جہانگر کرامت تمام امریکی دباو وزیر اعظم کے کاندھوں پر ڈال چکے تھے اس وقت میاں نواز شریف نے امریکی دباو قبول کیا اور ایٹمی دھماکے کر ڈالے انہیں اس کی سزا دی گئی ،حکومت بھی گئی ،جیل بھی ہوئی اور جلاوطن بھی ہوئے۔
اس سے بھی بہت پہلے پاکستان کے ایک وزیر اعظم تھے فیروز خان نون انہوں نے گوادر بندر گاہ سلطنت اومان سے خرید کر پاکستان میں شامل کر دی بعد ازاں اومانیوں نے امریکی دباو پر سودہ منسوخ کرنے کی کوشش کی وزیر اعظم نے صاف انکار کر دیا اور اپنے بعض جنرلوں کی سفارش بھی قبول نہ کی ،انہوں نے بھی نتایج بھگتے انکی حکومت کرپشن کے نام پر برطرف کر دی گئی ۔
ایک جنرل ایوب خان تھے چین بھارت جنگ ہوئی کشمیر حاصل کرنے کا سنہری موقع تھا چپ سادھ لی اور چینیوں کے مشورے پر بھی عمل نہیں کیا کیونکہ صدر کیندی اور اس کی خوبصورت اہلیہ جیکولین کینڈی کا جادو سرچڑھ کر بول رہا تھا ۔
ایک جنرل مرد مومن مرد حق ضیا الحق تھا بھارتیوں نے اسی طرح سیاچن پر قبضہ کر لیا جس طرح پاکستانیوں نے کارگل پر کیا تھا ،بھارتیوں نے تو بقول جنرل مشرف over reaction کر کے کارگل واپس لے لیا جبکہ مرد مومن مرد حق کا کہنا تھا ”سیاچن ” وہاں تو گھاس بھی نہیں اگتی یہ وہی مرد مومن مرد حق ہے جس نے ایک ایرانی اخبار کو انٹرویو میں کہا تھا” آئین کیا ہے چند صفحات کی کتاب جسے جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں ”
جنرل غدار نہیں ہوتے بس موقع پرست ہوتے ہیں اور موقع ملتے ہی فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور حکومت پر ملک کے بہترین مفاد میں قبضہ کر لیتے ہیں وہ جنرل ضیا الحق کی طرح ایٹمی پروگرام بھی مکمل کر لیتے ہیں اور جنرل مشرف کی طرح امریکیوں کو دھوکہ دے کر افغانستان میں انہیں قدم بھی جمانے نہیں دیتے اور جنرل ایوب کی طرح ؛؛فرینڈر ار ناٹ ماسٹر ” لکھ کر کفارہ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انکی کی موقع پرستی اور اقتدار پر قبضہ کی ہوس کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے جو ملک و قوم کو ادا کرنا ہوتی ہے۔
جنرل ایوب کی قیمت مشرقی پاکستا نکی علیحدگی تھی ،غضب خدا کا 1964 میں مجیب الرحمنٰ مشرقی پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی الیکشن کی مہم چلا رہا تھا اور جنرل ایوب کی طرف سے فاطمہ جناح کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا جا رہا تھا اور 1971 میں مجیب الرحمنٰ بنگلادیش کی آزادی کی تحریک کا راہنما تھا ۔
جنرل ضیا الحق کے اقتدار کی قیمت مجاہدین ،ہیروئین ،تقسیم اور کلاشنکوف تھی جو تاحال ادا کی جا رہی ہے ۔
جنرل مشرف کی ہوس اقتدار کی قیمت جی ایچ کیو پر حملہ 60 ہزار معصوم پاکستانیوں جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں جوان اور افسران بھی شامل ہیں تھی یہ قیمت بھی تاحال ادا کی جا رہی ہے ۔
فاطمہ جناح بھارتی ایجنٹ تھیں ،بینظیر بھٹو سیکورٹی رسک تھیں ،آصف علی زرداری ”پاکستان کھپے ” کے نعرہ کے باوجود کرپٹ اور مسٹر 100 فیصد تھا اور نواز شریف بھی مودی کا یار اور سیکورٹی رسک تھا منتخب وزرا اعظم میں سے کسی نے پاکستان کی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچنے دیا بلکہ ملکی دفاع کے استحکام کی جو قابل رشک منزلیں پاکستان حاصل کر چکا ہے جن میں ایٹمی صلاحیت سے لے کر مزائل ٹیکنالوجی تک شامل ہیں سب منتخب وزرا اعظم کے کارنامے ہیں ۔
70 سال سے عام عوام کو مذہب اور کرپشن کے نام پر بدھو بنایا جا رہا ہے میاں نواز شریف کے معاملہ پر خیر سے مذہب اور بد عنوانی دونوں کو دل کھول کر استمال کیا گیا ہے ،تمام منتخب حکومتیں کرپشن کے نام پر برطرف کی گئیں اور ان خلاف آئین برطرفیوں کو آئینی جواز دے کر اعلی عدالتیں اس جرم میں برابر کی شریک رہیں ،بھٹو کے خلاف مذہب کو استمال کیا گیا اور اب نواز شریف کے خلاف برطرفی کے باوجود تاحل کرپشن اور مذہب کو استمال کیا جا رہا ے ۔
سی پیک کے خلاف امریکی ہی نہیں بھارتی بھی ہیں جاپانی بھی ہیں اور اسٹریلوی بھی سی پیک کے خلاف دوبئی والے بھی ہیں جن کی بندر گاہ گوادر بندر گاہ اپریشنل ہونے سے ویران ہو جائے گی ،سی پیک کے خلاف ایران بھی ہے جس کی
بندر گاہ چہار بہار اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود گوادر کے سامنے کچھ بھی نہیں ،دوبئی والے سی پیک پر جنگی رفتار سے کام کرانے والے نواز شریف کے خلاف مسلسل دستاویزات فراہم کر رہےتھے ،امریکی سی پیک کے خلاف پاکستان میں اپنے خیر خواہوں کے زریعے مسلسل پیسے لگا رہے ہیں ،بھارتی سی پیک کے خلاف سرکاری سطح پر اپنے غصے کا اظہار کر چکے ہیں اور بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک اور لہر چلانے کیلئے اربوں دالر مختص کر چکے ہیں ۔
ماضی میں جن جنرلوں نے اقتدار پر قبضہ کیا انہوں نے ملکی سلامتی کے اہم معاملات پر سمجھوتے نہیں کئے لیکن ان کے غیر آئنی اقتدار کی قیمت بہت زیادہ ادا کرنا پڑھی ہمیں ماضی کے تجربات کی وجہ سے کہنا چاہیے کہ سی پیک بھی مکمل ہو گا لیکن اس کی قیمت سے ڈر لگتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے