نوازشریف کو مہلت

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں بطور ملزم بیان مکمل کرانے کے لیے جمعرات تک مہلت دینے کی استدعا منظور کر لی ہے ۔اپنے دفاع میں کچھ پیش کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ اس سمیت چار آخری سوالوں کے جواب جمعرات کو ریکارڈ کیے جائیں گے۔ فلیگ شپ ریفرنس کے تفتیشی افسر پر خواجہ حارث کی جرح بھی جمعرات کو جاری رہے گی ۔جج احتساب عدالت نے کہا کوشش کریں گے کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کے بیان کیلئے سوالات کم ہوں ۔

احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز پر سماعت کی۔ جج نے خواجہ حارث کو مخاطب کر کے کہا کہ میاں صاحب کا العزیزیہ میں بیان مکمل کرالیتے تو اچھا تھا۔ خواجہ حارث نے کہا اس کے لیے تھوڑا وقت دے دیں، اس کے لیے ہمیں پھر بیٹھنا ہو گا، وقت چاہیے ہو گا۔ آج تفتیشی افسر پر جرح کرلیتے ہیں، جمعرات کو میاں صاحب باقی بیان قلمبند کرادیں گے۔ جج احتساب عدالت نے کہا کوشش کریں گے کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کے بیان کیلئے 70 سے 75 تک سوالات ہوں، تاکہ اس کے بعد حتمی بحث شروع ہو جائے ۔

تفتیشی افسر محمد کامران نے جرح کے دوران بتایا کہ تمام ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لے کر تفتیشی رپورٹ لکھی۔ نیب ہیڈ کوارٹر سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی متفرق درخواستوں کی غیر تصدیق شدہ نقول بھی مانگی تھیں جو مجھے فراہم کی گئیں۔جے آئی ٹی رپورٹ سمیت دیگر دستاویزات حاصل کی تھیں، تفتیش شروع کرنے سے پہلے حاصل ہونے والے تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا تھا۔ 11اگست2017کو ایف بی آر کو خط لکھ کر ملزمان کا ٹیکس ریکارڈ مانگا تھا۔یہ بات میرے علم میں تھی کہ نواز شریف کا ٹیکس ریکارڈ جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ تھا جو 1985سے99اور 2009 سے16تک کا ٹیکس ریکارڈ تھا۔ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ٹیکس ریکارڈ نواز شریف نے خود جے آئی ٹی کو فراہم کیا یا ایف بی آر  نے ٹیکس ریکارڈ سے متعلق دستاویزات کی تصدیق کے لیے کسی جے آئی ٹی ممبر یا ایف بی آر کے حکام کو شامل تفتیش نہیں کیا۔ دوران تفتیش نوٹس میں آیا کہ کیپیٹل ایف زیڈ ای سے متعلق دستاویزات جے آئی ٹی کو کسی ایم ایل اے کے جواب میں نہیں ملیں۔ یہ دستاویزات شہاب سلطان کی طرف سے لکھے خط کے ساتھ تھی جو یو اے ای میں نوٹری پبلک سے تصدیق شدہ نہیں تھیں تاہم ان پر جبل علی فری زون اتھارٹی کی مہر ضرور موجود تھی۔ میرے نوٹس میں آیا تھا کہ یو اے ای سے ملنے والی دستاویزات سکرین شاٹس کی صورت میں ہیں۔ یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ یہ سکرین شاٹس کس نے لئے تھے ۔

متعلقہ مضامین