رمیزہ نظامی کو جیل نہیں بھیج سکتے، چیف جسٹس

میڈیا اداروں کے کارکنوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے مقدمے میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ نوائے وقت، دی نیشن اور وقت نیوز کے ملازمین کو تنخواہیں تاخیر سے ادا کرنے پر ادارے کی چیف ایگزیکٹو رمیزہ نظامی کو جیل نہیں بھیج سکتے، وہ ہماری بیٹی ہیں ۔

اس سے قبل اپنے ادارے کی جانب سے پیش ہو کر رمیزہ مجید نظامی نے کہا کہ کارکنوں کو تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں، بہت سے ملازمین کو ستمبر تک کی تنخواہیں ادا کر دی گئی ہیں، بقایا بھی جلد ہی ادا کر دی جائیں گی، ہمیں کچھ مہلت دی جائے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ رمیزہ ہماری بیٹی ہیں ان کو جیل نہیں بھیج سکتے، 15 دن دیتے ہیں، تنخواہیں ادا کریں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت میں وقت نیوز کے سابق کارکن/رپورٹر انور عباس نے کہا کہ یہ عدالت کے سامنے غلط بیانی کر رہی ہیں، ہمیں صرف اگست تک تنخواہ ملی ہے، بغیر نوٹس کے نکالا گیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیلئے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جا سکتا ہے ۔

نوائے وقت یونین لاہور کےصدر نے چیف جسٹس کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ ان کو جیل نہیں بھیج سکتے مگر کیا یہ بغیر کسی نوٹس کے ملازمین کو نوکری سے برطرف کر سکتی ہیں؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جیل بھیج بھی سکتا ہوں مگر اس وقت نہیں بھیجوں گا، یہ مجید نظامی کی بیٹی ہے اس لئے احترام دے رہے ہیں ۔ یونین کے صدر نے کہا کہ ہم بھی ن کا احترام کرتے ہیں، یہ ہماری باس بھی ہیں ۔

عدالت نے نوائے وقت گروپ کے ملازمین کو 15 دسمبر تک تمام بقایا جات ادا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے