اعظم سواتی کا سفارشی وکیل

سپریم کورٹ میں جس وقت وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی سخت مشکل کا شکار تھے اور ان کے وکیل علی ظفر بھی چیف جسٹس ثاقب نثار کے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے مناسب الفاظ تلاش کر رہے تھے اس وقت اچانک روسٹرم پر ایک آواز گونجی ۔

یہ آواز وکیل امان اللہ کنرانی کی تھی جو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نئے صدر ہیں، یہ کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے وکیل علی احمد کرد کو شکست دی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق امان اللہ کنرانی نے چیف جسٹس کو بار بار باسٹھ ون ایف کا ذکر کرتے سنا تو ان سے کہا کہ اس کیس کو اگر اگنور کر دیں کیونکہ اس میں آپ کا غصہ نظر آئے گا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میرا کوئی غصہ نہیں، یہ حاکم اور رعایا کا معاملہ ہے، کیا اعظم سواتی کا طرز عمل درست تھا؟ امان اللہ کنرانی نے کہا کہ مانتا ہوں کہ غلط ہوا ہے مگر جتنا بڑا گناہ ہوا ہے اس سے یہ سزا بڑی ہوگی ۔

چیف جسٹس نے سخت لہجے میں پوچھا کہ آپ کس حیثیت میں پیش ہو رہے ہیں؟ وکیل کی یا بار ایسوسی ایشن کے صدر کی؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل کنرانی نے کہا کہ سواتی میرے کولیگ رہے ہیں اس لئے عدالت میں حاضر ہوا ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سواتی نے تو کبھی وکالت نہیں کی ۔ کنرانی نے جواب دیا کہ سینٹ میں میرے کولیگ رہے ہیں ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ پھر آپ بتائیں ان کا ٹرائل کہاں کیا جائے؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق کنرانی نے کہا کہ اس کو اخلاقی قسم کا معاملہ بنایا جائے، ان کے ساتھ کافی ہو گیا ہے، اخلاقی طور پر معاملہ اٹھانے سے معاشرے میں شعور آئے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شعور اس وقت آئے گا جب یہ اپنی سزا بھگتیں گے، یہ ارب پتی آدمی ہیں، چھوٹے موٹے آدمی نہیں، غریبوں کے ساتھ اس طرح کیا، وہ ان کے مقابلے کے لوگ تھے؟ معافی شافی کا کیا؟ سزا ہوگی، پارٹی نے ان کے خلاف کیا ایکشن لیا؟ اس کیس میں تو ہر کسی پر دبائو آیا، اتنا پریشر آیا کہ سلیم صحافی (چیف جسٹس نے صحافی ہی کہا تھا) صاحب آئے ہوئے تھے اب وہ بھی نہیں آتے ۔

وکیل امان اللہ کنرانی نے اعظم سواتی کی حمایت میں مزید بحث کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کوئی قربانی بھی دیں نا، انہی سے پوچھ لیتے ہیں، کیا انہوں نے اپنے لئے خود کوئی سزا تجویز کر لی ہے؟ کنرانی نے کہا کہ کسی قومی مقصد کیلئے ان سے کام لے لیتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے اشارہ فورا سمجھتے ہوئے کہا کہ ان کے پیسے ڈیم کیلئے بھی نہیں چاہئیں ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق مقدمے کے اختتام پر جب چیف جسٹس نے کہا کہ امان اللہ کنرانی نے معافی دینے کی استدعا کی اور اس کو آرڈر کا حصہ بنانا چاہا تو وکیل کنرانی فورا بولے کہ میں نے معاف کرنے کیلئے نہیں کہا، میں اس کیس سے پیچھے ہٹ جاتا ہوں ۔

عدالت کے باہر اور اندر سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی کا کنڈکٹ وکیلوں اور صحافیوں میں زیر بحث آیا ۔ کئی رپورٹرز نے اس پر حیرت کا اظہار کیا اور کنرانی کے گروپ کے سربراہ حامد خان ایڈووکیٹ سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے بھی افسوس اور حیرت ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئیے، کسی وکیل یا کسی بار کے عہدیدار کو اس طرح کسی مقدمے میں سامنے نہیں آنا چاہیئے مگر اس کو فیصلہ ہر وکیل کی اپنی صوابدید پر ہوتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button