عدالت میں عمران خان کے فلیٹ کا مقدمہ

ہائیکورٹ کے فیصلے میں غیر قانونی قرار دیے گئے اسلام آباد کے ٹون ٹاورز کی تعمیراتی کمپنی بی این پی کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عمارت تو نہیں گرے گی، تعمیراتی کمپنی اگر لیز کی اضافی رقم سی ڈی اے کو دیدے تو عمارات ریگولرائز ہو سکتی ہے ۔ واضح رہے کہ غیر قانونی قرار دی گئی اس عمارت میں عمران خان اور سابق چیف جسٹس ناصرالملک سمیت کئی ریٹائرڈ جرنیلوں نے بھی فلیٹ خرید رکھے ہیں ۔
سی ڈی اے نے جولائی دو ہزار سترہ میں بی این پی کے تیرہ ایکڑ سے زائد پلاٹ کی ننانوے سالہ لیز منسوخ کر دی تھی۔ کمپنی نے بلڈنگ کے مرکزی حصے میں لیز معاہدے کے مطابق فائیو سٹار ہوٹل تعمیر کرنے کی بجائے اپارٹمنٹ بنا کر فروخت کر دئیے ۔ دوران سماعت پوچھا گیا کہ سروسڈ اپارٹمنٹس کس طرح ننانوے سالہ لیز پر دے دئیے گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ننانوے سالہ لیز کا مطلب فروخت ہی ہوتا ہے۔ بی این پی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ قانون میں سروسڈ اپارٹمنٹ کی کوئی تعریف نہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے سروسڈ اپارٹمنٹ کی تعریف بین الاقوامی قوانین سے مستعار لی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جتنے حصے پر سروسڈ اپارٹمنٹس بنائے گئے ہیں ان کو چھوڑ کر باقی پلاٹ کی نیلامی کر دیتے ہٰیں، اب اگر دوبارہ نیلامی ہوگی تو بہت پیسے آئیں گے ۔ چیف جسٹس نے بی این پی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کا موکل ریگولرائزیشن کی مد میں پندرہ ارب دینے کو تیار ہیں۔ اس پر وکیل نے کہا کہ انہیں اپنے موٴکل سے ہدایات لینا پڑیں گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سوائے کورنگ نالے میں قائم تجاوزات کے عدالت نے کہیں بھی عمارتوں کے انہدام کی ہدایت نہیں کی بلکہ ریگولرائزیشن پالیسی کا کہا ہے۔

چیف جسٹس نے سی ڈی اے اور بی این پی کے وکلاء سے کہا کہ تیسرے فریق کے مفاد کو مدنظر رکھ کر حل بتائیں۔ لوگ فلیٹس کی سو فیصد رقم ادا کر چکے ہیں وہ تو فلیٹس کی چابیوں کا انتظار کر رہے تھے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے سرمایہ کاری کی ان کا کیا قصور ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ گرینڈ حیات کے اشتہار پر لکھا تھا سی ڈی اے سے منظور شدہ ہے۔ سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کی ہدایت پر لیز منسوخ کی گئی، کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے