صرف چھ ماہ

اظہر سید
کہتے ہیں حکومت عوام کا اعتماد کھو بیٹھی تو ایک دن بھی نہیں رہے گے ۔بتاتے ہیں چھ ماہ میں یا تو معیشت بہتر ہو جائے گی یا خراب ۔درخواست کرتے ہیں چھ ماہ صرف مثبت خبریں چلائیں ۔یہ ایک تیر سے بہت سارے شکار ہیں ۔پالتو حکومت پر وہ تمام پالتو اینکرز مل کر حملے کر رہے ہیں جو نواز شریف اور اصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی کی حکومت پر کرتے تھے ۔مثبت خبروں کی درخواست دے کر پاک صاف ہو گئے یعنی پالتو اینکرز کی موجودہ تنقید سے گویا کوئی تعلق اور واسطہ ہی نہیں ۔ہم نہیں مانتے کوئی پالتو اینکر اپنی مرضی سے کوئی تنقید کر سکتا ہے ۔اعظم سواتی یا پھر ذلفی بخاری کے متعلق "چوندی چوندی” ایکسکلسیو خبریں جہاں سے اینکرز کو مل رہی ہیں وہی مقام محمود ہے جہاں سے نواز شریف کے لندن فلیٹ یا 35 ارب ڈالر کے اضافی قرضوں کی دستاویزات فراہم ہوتی تھیں ۔
کسی رپورٹر کو خواب نہیں آتے محنت اور ذرائع سے خبریں ملتی ہیں ۔اینکرز کو خواب میں خبریں ملنا تو ویسے ہی ممکن نہیں کیونکہ بےچارہ رپورٹر بھی نہیں ہوتا ۔خبریں سرکاری اجلاسوں کے شرکا سے بات چیت سے ملتی ہیں ۔فوٹو کاپی کرانے والے نائب قاصد سے ،کسی چھوٹے سرکاری ملازم کے مالی مسائل حل کرنے سے یا محنت سے پیدا کردہ تعلقات سے یا پھر سرکاری اجلاسوں کے کاغذات کی چوری سے ۔باقی تمام قسم کی "بریک” متعلقہ ادارے ،افسران اور سیاسی جماعتیں مخصوص مقاصد کیلئے خود دیتی ہیں ۔جو اینکرز مخصوص اطلاعات بریک کرتے ہیں جس میں بیشتر سیاستدانوں کی کرپشن کی داستانوں کا مصدقہ ذکر ہوتا ہے یہ اینکرز نہیں بلکہ طوائفیں ہیں جو حکم ملنے پر جھوٹے پروپیگنڈے کا حصہ بھی بنتے ہیں اور دی گئی اطلاعات بھی لہک لہک کر قوم کو سناتی ہیں ۔چلائے کوئی اینکر کسی مقامی فوجی ٹھیکے میں کسی کو رشوت دینے کی خبر یا اپنے ذرائع سے کسی افسر کے خلاف ادارہ جاتی کاروائی کی خبر بریک کرے اگلے دن تشریف اتنی زیادہ سرخ ہو جائے گی کئی ہفتے خواب تو دور کی بات نیند بھی نہیں آئے گی۔
اب جو کہتے ہیں چھ ماہ مثبت خبریں چلائیں مخولیئے ہیں اور بلا کہ شرارتی بھی ہیں اپنے اینکرز کو روکتے بھی نہیں اور اوپر سے معصوم بھی بنتے ہیں ۔
نہیں خبر یہ ریاست کون سے لال بھجکڑ کونسے آئین اور کون سے قانون کے تحت چلا رہے ہیں ۔نواز شریف کی فراغت کے آپریشن کو آئین اور قانون کا کم از کم جواز تو دینے کی کوشش کی اور عام الیکشن میں شکست کے بعد نئی حکومت آئی ،یہ اور بات ہے ائین میں وزیراعظم کی فراغت کا جو طریق کار درج یے اس کی نفی ہوئی اور الیکشن کی شفافیت پر انگلیاں اٹھیں لیکن باوجود ان سب کے ائین اور قانون کا نام تو تھا ۔اب جو کہتے ہیں اعتماد حاصل نہ رہا تو حکومت ختم ہو جائے گی ‘ کیسے؟ کیا مارشل لا لگے گا ،عدالت وزیراعظم کو نااہل کرے گی تو حکومت کیسے ختم ہو گی ،کیا تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت تبدیل ہو گی ۔صرف مارشل لا میں حکومت ایک دن میں ختم ہوتی ہے باقی تمام راستے طویل ہیں ۔مڈٹرم الیکشن کے ذریعے بھی حکومت تبدیل ہو سکتی ہے لیکن تحریک انصاف مڈٹرم الیکشن کرائے گی کیوں؟
چھ ماہ میں حکومت ختم ہونے کی امیدیں بہت خوشگوار ہیں ملک کو جھوٹے اور فراڈیئے لوگوں سے نجات ملے گی لیکن حکومت ختم کیسے ہو گی یہ ملین ڈالر کا سوال ہے جس کے جواب میں آئین اور قانون کے ساتھ دیگر بہت سارے معاملات بھی شامل ہیں ۔
اگر انہیں صرف چھ ماہ کا وقت دیا ہے تو یقین کر لیں چھ ماہ بعد معیشت کی حالت مزید خوفناک ہو جائے گی ۔کیا چھ ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی درآمدات بند کر دی جائیں گی تاکہ ماہانہ دو ارب ڈالر کے تجارتی خسارہ سے بچا جا سکے ۔یہ ممکن نہیں اس لئے چھ ماہ میں بہتری کی کوئی امیدیں نہیں ۔کیا چھ ماہ میں دنیا بھر سے سرمایہ کاری آنا شروع ہو جائے گی ، جس ملک میں وزیراعظم کی سچی بہنیں اپنی سرمایہ کاری ملک میں نہ لائیں،جہاں جہانگیر ترین برطانیہ سے اپنی سرمایہ کاری ختم کر کے ملک میں نہ لائے ،جہاں زلفی بخاری اور گورنر پنجاب اپنے بیرون ملک موجود پیسے پاکستان نہ لائیں وہاں کون پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا ۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی والے تو چور ہیں وہ تو نہیں لائیں گے”یہ ہم نہیں کہتے پروپیگنڈہ مشنری کہتی ہے” تحریک انصاف والے محب وطن ہی لے آتے ۔
چھ ماہ میں برآمدات میں اضافہ ہو جائے گا ؟ روپیہ کی قیمت 140 روپیہ پر پہنچا کر تمام درآمدی خام مال مہنگا کر دیا ہے اور برآمدات کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے اس لئے چھ ماہ میں برآمدات میں اضافہ کا بھی کوئی امکان نہیں ۔
کیا دوست ملک اربوں ڈالر کی گرانٹس اور قرضے دیں گے یا آئی ایم ایف والے بغیر شرائط کے پیکیج فراہم کریں گے ۔کچھ بھی ممکن نہیں سعودیوں سے ،چینیوں سے کچھ نہیں ملا ۔انہیں تو ملائیشیا والوں نے ادھار پام آئل نہیں دیا تو چھ ماہ میں کہاں سے تبدیلی آنا ہے ۔
ملک کو مزید معاشی بربادی سے بچائیں اگر چھ ماہ بعد مارشل لا لگانا ہے تو ابھی لگا دیں اور اگر چھ ماہ بعد مڈٹرم الیکشن کا ڈول ڈالنا ہے تو ابھی ڈال دیں ابھی کنویں میں کچھ پانی موجود ہے یہ نہ ہو چھ ماہ میں کنواں ہی خشک ہو جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button