امریکا افغانستان سے کیوں دستبردار ہوگا؟

شوکت عزیز صاحب کو جب یہ احساس ہونا شروع ہوگیا کہ وہ تھوڑے بہت اختیار والے وزیراعظم بن چکے ہیں تو سفارتی محاذ پر بھی کچھ جلوہ دکھانے کی خواہش میں امریکہ کے دورے پر روانہ ہوگئے۔ صدر بش سے ان کی دوستانہ ملاقات ٹیکساس کے اس گھر میںہوئی جو ان کی آبائی Ranchکا حصہ تھا۔ کونڈالیزارائس ان دنوں امریکی صدر کی مشیر برائے قومی سلامتی امور ہوا کرتی تھیں۔ صدر بش اسے خاندان کے ایک رکن کی طرح رکھتے تھے۔ واشنگٹن سے ویک اینڈ گزارنے اور ٹیکساس آتے تو کونڈالیزا بھی ان کے ہمراہ ہوتیں۔ کونڈا کی رہائش کے لئے ان ہی کے گھر میں ایک انیکسی مختص کردی گئی۔

بہرحال امریکی صدر سے ملاقات کے دوران شوکت عزیز صاحب نے اگر مگر کے ساتھ یہ سوال اٹھایا کہ امریکی افواج کب تک افغانستان میں موجود رہیں گی۔ اس سوال کا براہِ راست جواب دینے کے بجائے بش نے مکارانہ سادگی سے اپنی مشیر کو بلندآواز میں مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا ’’کونڈی امریکی افواج کونسے برس کوریا اور جاپان گئی تھیں؟‘‘ یہ واقعہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہوا تھا اور بش کے سوال ہی سے شوکت صاحب کو ان کے اٹھائے سوال کا جواب مل گیا۔

یہ کالم لکھنے کا سبب اس واقعہ کی یاد ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک بار پھر عالمی میڈیا میں حیلے بہانوں سے یہ تاثر پھیلایا جارہا ہے کہ افغانستان میں 17برس موجود رہنے اور اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی امریکی افواج اپنے اہداف حاصل نہیں کر پائی ہیں۔ ٹرمپ اب افغانستان سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ افغان نژاد زلمے خلیل زاد کو اسی باعث اس نے اپنا خصوصی مشیر مقرر کیا ہے اور وہ ان دنوں پاکستان،روس، ازبکستان اور افغانستان وغیرہ کے سفر کرتے ہوئے کوئی ایسی راہ نکال رہا ہے جو طالبان کو ہتھیار پھینک کر افغانستان میں سیاسی استحکام کے قیا م میں حصہ ڈالنے پر آمادہ کرسکے۔

یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ جب تک امریکہ افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاء کا ایک واضح ٹائم ٹیبل مہیا نہیں کرے گا،طالبان کسی صورت بامقصد مذاکرات کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ ٹھوس معلومات تک مکمل نارسائی کے باوجود میرا قنوطی ذہن ایسے ٹائم ٹیبل کے امکانات دیکھ نہیں پارہا ہے۔

بہت عرصے تک خود کو انٹرنیٹ کے ذریعے فلمیں دیکھنے سے دور رکھنے کے بعد تین ہفتے قبل میں نے Netflixکے لئے بنائے پروگرام دیکھنے کا بندوبست کرلیا۔ وہاں تک رسائی حاصل کرنے کے بعد میں امریکہ میں وائٹ ہائوس سے جڑی کہانیوں پر بنائے اور کافی مشہورئے ہوئے House of Cardsکی اقساط دیکھ رہا ہوں۔

صرف ’’ڈرامہ‘‘‘ نظر آتے اس سلسلے میں بہت کچھ موجود ہے جو ذرا غور کے بعد ہمیں سمجھاتا ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکہ کی بین الاقوامی تناظر میں کیا ترجیجات ہوں گی۔ چین کے ساتھ جو تجارتی جنگ ٹرمپ کے دور میں شروع ہوتی نظر آرہی ہے ،اس کے لئے ہمیں اس سیریز کے ذریعے ہی تیار کردیا گیا ہے۔

اس سلسلے ہی کی بدولت دریافت یہ بھی ہوا کہ عالمی طاقتیں اب فقط تیل کے ذخائر پر اجارہ داری کی متمنی نہیں رہیں۔ "Rare Earth”کی تمنا بھی شدید تر ہوچکی ہے۔ یہ ان معدنیات پر مبنی ہے جو کمپیوٹر اور سیل فونز کے دھندے میں کلید کی حیثیت رکھتی ہیں۔ افغانستان میں اس کے ذخائر بے پناہ تصور کئے جاتے ہیں۔ ہمارے بلوچستان کے ریکوڈیک میں بھی اس کے امکانات کا ذکر ہورہا ہے۔ سوال ذہن میں فطری طورپر یہ اٹھتا ہے کہ 17برسوں کی طویل جنگ اور اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد امریکہ Rare Earthسے مالامال افغانستان سے شکست خوردہ نظر آتا ہوا دست بردار ہونے کو تیار کیوں ہوگا۔ امید کا دیا جلائے رکھنے میں ا گرچہ کچھ حرج نہیں۔

امید اور خوش گمانی مگر دو مختلف رویے ہیں۔ امید کو کسی نہ کسی صورت چند منطقی دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔خوش گمانی منطق سے بے نیاز ہوا کرتی ہے۔منطق کو بالائے طاق رکھ دینا مگر قوموں کی تقدیرکے لئے تباہ کن ہوتا ہے۔ جدید دور کا نیوز سائیکل اگرچہ ہمیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم کررہا ہے۔

گزشتہ ہفتے چھپے ایک کالم میں نیوزسائیکل کا ذکر کیا تھا اور اسی کے تناظر میں اس امر پر دُکھ کا اظہار بھی کہ پاکستانی میڈیا میں زلمے خلیل زاد کے اہداف اور انہیں حاصل کرنے کے لئے اپنائی حکمت عملی کا کماحقہ ذکر نہیں ہورہا۔ گزشتہ ہفتے کا نیوزسائیکل اعظم سواتی اور زلفی بخاری پر آئی مشکلات کی نذر ہوگیا۔ مجھے خدشہ ہے کہ نیا سائیکل یہ طے کرنے میں مگن ہوجائے گا کہ وزارتِ اطلاعات صرف راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر ہی سنبھال سکتے ہیں یا فواد چودھری کے لئے اس ضمن میں ستے خیراں ہیں۔زلمے خلیل زاد جو گیم لگارہا ہے اس پر توجہ نہیں دی جائے گی۔

زلمے خلیل زاد کی لگائی گیم بہت گہری ہے۔ اس کے ہاتھ مضبوط کرنے کو ٹویٹر پر بدکلامی کے عادی ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم کو سفارتی ذرائع سے ایک خط بھیجا ہے۔یہ کالم لکھنے تک ہم اس خط کے متن کے بارے میں بھی بے خبر ہیں۔ وہ میسر ہوتا تو خیال کو مہمیز لگاتے ہوئے چند امکانات کا تذکرہ ہوسکتا تھا۔ متن کے بغیراندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ہیں۔ محاورے والے ہاتھی کو بینائی سے محروم افراد کے ذریعے جاننے کی کاوش۔

زلمے خلیل زاد کے مشن کا تذکرہ ہو تو سوال یہ بھی اٹھانا ہوگا کہ کیا ایران کو جو افغانستان کا پاکستان ہی کی طرح قریبی ہمسایہ ہے On Boardلئے بغیر امریکہ اس خطے میں اپنے اہداف حاصل کرسکتا ہے یا نہیں۔ ایران کو افغانستان کے حوالے سے قطعاََ نظرانداز کردیا جائے تو زلمے خلیل زاد اپنے اہداف کیسے حاصل کرپائے گا۔

سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے واقعتا بالآخر خلوص دل سے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی ترجیحات اہمیت کی حامل ہیں۔بہت مکاری سے ایک بارپھر کہیں پاکستان کو یہ تاثر دینے کی کوشش تو نہیں ہورہی کہ افغانستان میں دائمی امن اور سیاسی استحکام حاصل کرنے کا ہدف پاکستان کو Outsourceکردیا جائے گا۔ ایک عام پاکستانی ہوتے ہوئے مجھے Outsourcingسے خوف محسوس ہوتا ہے۔

جنرل ضیاء اور مشرف کے ادوار میں بھی ا یسی ہی Outsourcing ہوئی تھی۔اس کا خمیازہ ہم نے کئی برس بھگتا۔ ہزاروں بے گناہ اور سیاسی حوالوں سے قطعی لاتعلق معصوم شہری مذہبی انتہا پسندی کے نام پر مسلط ہوئی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ پاکستانی فوج کو بہت Risk لے کر چند آپریشن کرنا پڑے۔ان کی بدولت ہوئی شہادتوں اور کئی اعتبار سے دی گئی مختلف النوع قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

ٹھوس معلومات تک رسائی سے محروم میرے دل ودماغ میں خواہش ابھررہی ہے تو فقط اتنی کہ پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے ترجیحات کو سفارت کارانہ مکاری سے تسلیم کرتے ہوئے Outsourcingکے بہانے امریکہ ہماری ریاست پر مزید ذمہ داریوں کا بوجھ نہ ڈالے ۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے