افغان کمبل اور پاکستان

اظہر سید

افغانستان میں کرائے کے فوجی بننے سے انکار کا ہر گز یہ مطلب نہیں اسٹیبلشمنٹ کے مفکر اچھے بچے بن گئے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے چین اور روس ایسے نئے ہم سفر ساتھ چلنے کی خواہش مند ہیں اور ہم وہ ہیں جوعشق میں توحید کے قائل ہی نہیں ۔جو لوگ کہتے ہیں امریکی افغانستان سے بغیر بندوبست کےنہیں جائیں گے ان کے دلائل ناقص ہیں ۔امریکیوں نے 30 ملکوں کی ناٹو فوج اور بے پناہ مالی وسائل سے افغانستان میں جدید ترین اسلحہ استمال کر لیا ۔امریکیوں نے بھارتیوں کو پاکستان سے اپنے پرانے حسابات برابر کرنے کے بے پناہ مواقع فراہم کئے ۔امریکیوں نے افغان طالبان کو سبق سکھانے کیلئے داعشی لانچ کر کے دیکھ لئے ۔امریکیوں نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستانی طالبان کو جنرلوں کیلئے خوفناک خواب بنا دیا ۔امریکیوں نے افغانستان سے قابل عزت واپسی کیلئے کھربوں ڈالر آگ میں جھونک دئے لیکن گوہر مقصود ہاتھ نہیں آیا ۔
جو مفکر کہتے ہیں چین روس اور پاکستان پر نظر رکھنے کیلئے امریکی افغانستان میں رہیں گے انکی دلیل میں اگر کوئی جان ہوتی امریکی بھارتیوں کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوتے اور ماضی قریب میں افغانستان بھارتیوں کو سونپنے کی پیشکشیں نہ کرتے ۔بھارتی بنیا بہت کایاں ہے اس نے سی پیک کو امریکیوں سے متنازعہ علاقہ کا منصوبہ قرار دلا لیا اور حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم بھی کہلا لیا لیکن فوج بھیجنے کی بجائے صرف افغان فوجیوں کو تربیت دینے تک خود کو محدود رکھا ۔
امریکی چاہتے ہیں افغان طالبان کو نتیجہ خیز مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کرے ۔پاکستان اس وقت تک امریکیوں کو بیل آوٹ نہ کرے جب تک پاکستان مخالف افغان حکومت کی بجائے پاکستان دوست افغان حکومت کی ضمانت حاصل نہیں ہوتی ۔پاکستانی اس وقت تک امریکیوں کو بیل آوٹ نہ کرے جب تک افغانستان میں بھارتیوں کی بلا ضرورت موجودگی کے خاتمہ کی ضمانت حاصل نہیں ہوتی۔ پاکستان امریکہ کو کیوں بیل آوٹ کرے ؟آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب کی کامیابی کے ساتھ بلوچستان میں بھی بلوچ عسکریت پسندوں کو ماضی قریب کی طرح استمال کرنا ممکن نہیں رہا۔پاکستان کیوں بیل آوٹ کرے اب چین اور روس بھی افغانستان میں ایک فریق ہیں اور پاکستان اکیلا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ۔پاکستان کو افغانستان میں ایران کی صورت میں ایک نیا حلیف بھی مل چکا ہے ۔افغان حکومت کے سالانہ بجٹ کی فراہمی کے مسلہ پر جھگڑوں کا آغاز بھی ہو چکا ہے ۔طالبان ماضی کی نسبت زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں ۔داعشی اپنا وزن اور اہمیت کھو بیٹھے ہیں تو ان حالات میں پاکستان امریکیوں کو ہرگز بیل آوٹ نہ کرے لیکن یہ تڑی ضرور لگائے "ہم اب کرائے کے فوجی نہیں بنیں گے” کر لو جو کرنا ہے۔
امریکیوں کو افغانستان سے قابل عزت واپسی کیلئے پاکستانی تحفظات پر توجہ دینا ہو گی ۔پاکستان کا بازو مڑوڑنے کی کوشش چاہے پاکستانی طالبان کے ذریعے ہو ،بلوچ نوجوانوں کو افغان سرزمین سے اسلحہ اور تربیتی سہولتوں کی فراہمی سے ہو، بلوچ نوجوانوں کی برین واشنگ اور پاکستان مخالف افغان حکومت کے ذریعے ہو چاہے بھارتیوں کو افغانستان میں واک اوور دینے اور پاکستان پر خوفناک اندرونی جنگ مسلط کرنے سے ہو سخت جان پاکستان ان تمام حملوں سے بچ نکلا ہے اور اب نئی طاقتور پوزیشن سے لطف اندوز ہو رہا ہے جس میں سینٹ کام کا نیا سربراہ کہتا ہے "افغانستان کے قابل عمل حل کیلئے پاکستان کو پرکشش ترغیبات دینا ہونگی” اور زلمے خلیل افغان صدر سے یقین دہانیوں کے بعد پاکستانیوں کو یقین دلاتا ہے "اب پاکستان کہ تمام تحفظات دور ہونگے” ۔
پاکستان کو ہر گز بیل آوٹ نہیں کرنا چاہے ان کمینوں نے 50 ہزار پاکستانی خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں دہشت گردوں سے مروا دئے اور اب ناکامی کے بعد قابل عزت واپسی کیلئے مدد مانگتے ہیں ۔خود جاتے ہیں تو جائیں ، انکی واپسی کے بعد روس اور چین کے ساتھ مل کر افغانستان میں تمام فریقوں کیلئے قابل قبول حکومت کا قیام کوئی بہت مشکل ہدف نہیں ۔

متعلقہ مضامین