برطانوی ڈیپ سٹیٹ

جمہوری نظام کی جس صورت سے ہم آشنا ہیں اسے برطانیہ کے شہریوں نے برسوں کی جدوجہد کے بعد متعارف کروایا تھا۔آغاز اس جدوجہد کا اس سوچ سے ہوا کہ بادشاہ لوگوں کی کمائی پر من مانے ٹیکس عائدنہیں کرسکتا۔خلقِ خدا کے منتخب نمائندے ہوں اور وہ مل بیٹھ کر یہ طے کریں کہ ریاستی نظام چلانے کے لئے معاشرے کے کونسے طبقات سے کس شرح کے ساتھ مالیہ وصول کیا جائے۔ اس مطالبے کو "No Taxation Without Representation”کے نعرے کے ساتھ بلند کیا گیا اور بالآخر حکومتی نظام چلانے اور اس پر نگاہ رکھنے کے لئے پارلیمانی نظام کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اسی باعث برطانیہ کی پارلیمان کو دنیا بھر کی پارلیمانوں کی ماں کہا جاتا ہے ۔

دنیا بھر کی پارلیمانوں کی اس ’’ماں‘‘ میں ان دنوں حزب اختلاف کا قائد جریمی کاربن ہے ۔ وہ مزدور تنظیموں سے کئی برس وابستہ رہنے کے بعد بائیں بازو کی نمائندہ تصور ہوتی لیبر پارٹی کا رہ نما منتخب ہوا۔ گزشتہ برس برطانیہ میں جو انتخابات ہوئے تھے ان میں پارلیمانی اکثریت حاصل نہ کرسکنے کے باوجود اس کی جماعت نے اجتماعی طورپر ڈالے گئے ووٹوں میں سے 40 فی صد کی حمایت حاصل کی ۔

کاربن ایک قدیمی سوچ والا سوشلسٹ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی بدولت اسے اپنی ہی جماعت میں موجود اشرافیہ کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کاربن کے مخالفین اس پر ’’فلسطینی دہشت گردوں‘‘ کا حامی ہونے کا الزام بھی لگاتے ہیں۔

اپنی ہی جماعت میں موجود مزاحمت کے علاوہ برطانیہ کے قدامت پرست اور سرمایہ دارانہ نظام کے شدید حامی میڈیا گروہوں کی جانب سے مخالفت کے باوجود کاربن کو برطانیہ کے غریب،بے روزگار اور خاص کر نوجوانوں کی بے پناہ حمایت میسر ہے ۔

یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ برطانیہ کے دائمی ادارے جنہیں دنیا میں Deep State کہا جاتا ہے ملکی سیاست پر اثرانداز ہونے کی جرأت ہی نہیںدِکھاسکتے۔ ایسے کام ترکی یا سعودی عرب جیسے ممالک میں ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی اس رویے کی شکایت معمول کی صورت اختیار کرچکی ہے ۔ اس شکایت کو نواز شریف نے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ والے نعرے کے ساتھ عملی شکل دینے کی کوشش بھی کی تھی ۔

دنیا کی قدیم ترین جمہوریت میں لیکن گزشتہ ہفتے کچھ دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں ۔ ان کی بنیاد پر وہاں کے کئی اخباروں میں یہ سنسنی خیز خبر شائع ہوئی جس کے مطابق برطانیہ کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بجٹ سے روس کی جانب سے برطانیہ اور یورپ میں ابتری اور بحران پھیلانے والی بے بنیاد اور جھوٹی خبروں (Disinformation) کا مقابلہ کر نے کے نام پر قائم ہوئی ایک ’’فلاحی تنظیم‘‘کو تین لاکھ کے قریب پائونڈ فراہم کئے۔”The Institute for Statecraft”کے نام سے قائم اس تنظیم کا ہیڈکوارٹرسکاٹ لینڈ کے ایک شہرمیں ہے ۔ اس نے ’’دیانت داری‘‘ کے تحفظ کے نام پر ایک خصوصی سیل بنایا۔برطانیہ کی ملٹری انٹیلی جنس کا ایک ریٹائرڈ کرنل اس کا سربراہ مقرر ہوا۔یہ کرنل برطانیہ کے مشہور فوجی کالج سینڈھرسٹ میں روسی نظام کے مطالعے کا پروفیسر بھی رہا ہے ۔

روسی پراپیگنڈہ کے مقابلے کے لئے قائم ہوئی اس تنظیم نے مگر یورپ کے لیتھوینا سے چلائے چند ٹویٹر اکائونٹس سے برطانوی پارلیمان کے قائدِ حزب اختلاف کی ذات اور سیاست کو نشانہ بنا لیا۔ اس کے خلاف آئی ہر بات کو ان اکائونٹس سے مسلسل Retweet کیاجاتا ۔ بنیادی مقصد یہ رہا کہ جریمی کاربن کو ایک ایسے ’’احمق‘‘ کی صورت پیش کیا جائے جو روسیوں کو برطانیہ اور یورپ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے ضمن میں ’’کارآمد‘‘ ثابت ہوسکتا ہے ۔”Useful Idiot”وہ لفظ ہے جو اس تنظیم کی جانب سے ہزاروں جعلی ناموں سے چلائے ٹویٹر اکائونٹس کے ذریعے جریمی کاربن کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے ۔

برطانوی پارلیمان کے قائدِ حزب اختلاف کے خلاف برطانوی ریاست ہی کے ایک ادارے سے فراہم کردہ رقوم کی مدد سے چلائی مہم والی سنسنی خیز خبر میڈیا میں آئی تو اس کی واضح تردید نہ ہوپائی ۔ برطانوی وزیر خارجہ کو بلکہ اعتراف کرنا پڑا ہے کہ سکاٹ لینڈ میں قائم ہوئی ’’فلاحی تنظیم‘‘ کو روسی پراپیگنڈہ کے مقابلہ کرنے کے لئے اس کی وزارت کے بجٹ سے واقعتا 293,500 پائونڈ ادا ہوئے تھے ۔ مذکورہ تنظیم نے مگر برطانوی پارلیمان کے قائدِ حزب اختلاف کو اپنا نشانہ کیوں بنایا اس کے بارے میں تحقیقات کا حکم جاری کردیا گیا ہے ۔

ان تحقیقات سے ذاتی طورپر مجھے کچھ برآمد ہونے کی توقع نہیں۔برطانیہ ان دنوں ویسے بھی Brexit کے حوالے سے شدید سیاسی بحران کا شکار ہے ۔ وزیر اعظم تھریسامے نے یورپی یونین سے برطانیہ کی ذرا معقول انداز میں علیحدگی کے لئے کئی مہینوں کی محنت اور طویل مذاکرات کے بعد ایک منصوبہ بنایا تھا۔ اس منصوبے کو اس نے پارلیمان سے منظوری کے لئے پیر کے روز پیش کرنا تھا۔ حکمران جماعت کی اکثریت مگر اس منصوبے سے مطمئن نظر نہیں آئی۔ اس کی حمایت کھو دینے کے خوف سے تھریسامے اپنے منصوبے کو ووٹنگ کے لئے پیش نہیں کر پائی۔ سوال اُٹھ رہا ہے کہ اب کیا ہوگا ۔

ابتری کے اس ماحول میں شاید ہی کوئی ادارہ برطانیہ کی پارلیمان کے قائدِ حزب اختلاف کے خلاف ہوئی پراپیگنڈہ مہم کے معاملے پر توجہ دے سکے۔زیادہ توجہ طلب بلکہ یہ سوال بن گیا ہے کہ برطانیہ میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان ہوگا یانہیں۔اگرچہ برطانوی وزیر اعظم کے شدید ترین مخالفین کے پاس بھی Brexit کی وجہ سے دن بدن گھمبیر تر ہوتی پریشانیوں کا مناسب حل موجود نہیں ہے۔ انتشار وخلفشار کی اس لہر کی وجہ سے برطانوی پائونڈ کی قیمت امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گررہی ہے۔ تقریباََ سارے دھندے گومگو کی حالت میں ساکت ہوئے نظر آرہے ہیں۔

ہم پاکستانیوں کے لئے اہم ترین بات البتہ یہ دریافت ہے کہ دنیا کی قدیم ترین جمہوریت کہلاتے برطانیہ میں بھی Deep State ہوا کرتی ہے ۔ اس نے قومی سلامتی کے نام پر اپنی ترجیحات کا تعین کررکھا ہے۔جو سیاستدان یا صحافی ان ترجیحات کی راہ میں رکاوٹ بنا نظر آئے اسے ریاستی خزانے سے بنائی ’’فلاحی تنظیموں‘‘ کے ٹویٹر اکائونٹس کے ذریعے بدنام کرکے بے اثر بنانے کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے ۔ Deep State والے قصے فقط ترکی یا سعودی عرب تک ہی محدود نہیں ۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے