مولانا طارق جمیل اور ” بروٹس "

عقیل الرحمان

روم کے عظیم فاتح جولیئس سیزر پر جب سازشی ٹولہ تلواریں لیکر ٹوٹ پڑا تو آخر میں بروٹس بھی اپنی تلوار کھینچ کر حملہ آور ہوا ۔ سیزر نے جب اپنے جگری دوست کو دیکھا کہ وہ بھی سازشیوں کے ساتھ ملا ہوا ہے تو مارے حیرت کے اس کے منہ سے نکلا ” بروٹس ۔۔۔۔۔۔ تُم بھی !!!
مولانا طارق جمیل صاحب کا تازہ وڈیو کلپ سامنے آیا تو بہت سے لوگ اُن پر چڑھ دوڑے ۔۔۔۔۔ مگر ہمارے ایک ہردل عزیز بلکہ مہربان دوست جب اپنا زہرآلود قلم لیکرحملہ آور ہوئے تو مارے حیرت کے میری زبان سے بھی بے ساختہ نکلا ” ۔۔۔۔۔۔ تُم بھی !!!
مَیں کوئی طارق جمیل صاحب کا وکیلِ صفائی نہیں، اورنہ ہی سکہ بند قسم کا تبلیغی ہوں ۔ جلیل مانک پوری کے الفاظ میں کہوں تو۔۔۔۔
شب کو مَے خوب سی پی،صبح کو توبہ کرلی
رِند کے رِند رہے ، ہاتھ سے جنت نہ گئی
قسم کا مسلمان ہوں ۔ اور عرب شاعر کی زباں میں ۔۔۔۔۔
احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی صلاحا
(نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں،اگرچہ اُن میں سے نہیں ہوں،شاید اللہ مجھے بھی نیکی کی توفیق دے دے) پر یقین رکھتا ہوں ۔
معلوم نہیں کیوں، جب کوئی ہماری خواہش وپسند کے خلاف بات کرتا ہے تو ہمارے اندر کا سویا ہوا پولیس افسر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے اور اسے شک بھری نظروں سے گھورنے اور طرح طرح کی بدگمانیاں کرنے لگتا ہے ۔ حالانکہ ہمارا رب ایسے موقع پرہمیں "یاایھاالذین آمنوا اجتنبوا کثیراََ من الظن” کہکر اسے بیدار کرنے سے روکتا ہے ۔ اور اس کا رسولﷺ "ظنوا بالمؤمنین خیراََ” فرما کرخوش گمانی کی تلقین کرتا ہے ۔
نہ تو یہ الجبرا کا سوال ہے اور نہ ارسطو کا فلسفہ اور نہ ہی "حاصل محصول” کی بحث ۔۔۔۔۔۔ کہ اگر مولانا نےعمران خان کو سیاسی فائدہ پہنچانا ہی تھا تو اس کا بہترین وقت انتخابات سے پہلے تھا ۔ اب جبکہ وہ برسرِاقتدار ہے اور حزبِ اختلاف بھی اسے پانچ سال پورے کرنے کا موقع دینا چاہتی ہے تو بھلا مولانا کے تعریفی کلمات عمران خان کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں یا کونسے نقصان سے بچا سکتے ہیں؟ کیا کسی مسلمان سے (بےشک گنہگار ہی کیوں نہ ہو) کسی دینی خدمت کی امید رکھنا غلط اور سیاسی وابستگی کی علامت ہے ؟ (خصوصاََ جب کسی سیاسی جماعت کی نفی بھی نہ کی جائے) کیا ذوالفقار علی بھٹو جیسے شخص نے علماء کرام کی حمایت سےختمِ نبوت کا تحفظ کرکے اسلام کی خدمت نہیں کی تھی؟ کیا رسول اللہ ﷺ کے یہ الفاظ ہمارے حافظے سے اُتر گئے ہیں کہ "ان اللہ لیؤیدھذاالدین بالرجل الفاجر” (بیشک اللہ کسی گنہگار شخص کو بھی اس دین کی حمایت کیلئے کھڑا کر سکتا ہے)حالانکہ وہ شخص اصطلاحی فاجرنہیں بلکہ حقیقی کافر تھا ۔ جہاں تک تعلق ہے کہ یہ تبلیغی جماعت کا مزاج نہیں ۔۔۔۔۔۔ تو حضور یہی تو تبلیغی جماعت کا مزاج ہے کہ "تعاونوا علی البروالتقوی ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان”۔
سمجھنے والے کیلئے بات بڑی سادہ ہے ۔ عمران خان نے اعلان کیا، مَیں پاکستان کو مدینہ کی طرز پر ویلفیئراسٹیٹ بناؤں گا۔ مولانا نے اللہ اور رسولؐ کے حکم کے مطابق خوش گمانی کرتے ہوئے اس اعلان کا خیرمقدم کیا اور عمران خان کی تعریف کی ۔ ایک بااثر عالمِ دین کی طرف سے اس اعلان کی بنیاد پر تعریف عمران خان پر اخلاقی ، مذہبی اور عوامی دباؤ کا سبب ہوگی ۔ اب عمران خان وعدہ پورا کردیتا ہے تو بھی ہمارا فائدہ ہے اور نہیں کرتا تو بھی ہمارا نقصان نہیں۔ گویا ہمارا اور عمران خان کا ٹھیک وہی تعلق ہے جو چُھری اور خربوزے میں ہے ۔ چُھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چُھری پر ۔۔۔۔۔۔ کٹنا خربوزے نے ہی ہے !!!

متعلقہ مضامین

تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے