احتساب عدالت میں کیا ہوتا رہا، کچھ یادیں

فیاض محمود

دوسری قسط

ہاں تو بات ہو رہی تھی صغیر چوہدری صاحب کی آمد کی ۔۔ چوہدری صاحب اکیلے کبھی نہیں آتے، منصوبہ، مشورہ سب ساتھ لاتے ہیں سو یہاں بھی یہی ہوا۔۔ آْتے ہی حکم دیا کہ صحافیوں کو چونکہ باہر روکا گیا ہے تو دھرنا بنتا ہے اور یوں جوڈیشل کمپلیکس کے مرکزی گیٹ پر دھرنے کا باضابطہ آغاز ہوا۔ ایسا دھرنا چشم فلک نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ مظاہرین کے لبوں پر نعرے ضرور مگر چہروں پر مسکراہٹ پھسلتی چلی جاتی تھی، کچھ شرمیلی سی آوازیں بھی تھیں ، غالبا ان کی صحافتی زندگی میں پہلے بیپر، پہلی رپورٹ کی طرح یہ پہلا دھرنا تھا جو انہیں دینا پڑ گیا تھا۔۔خیر چند ہی منٹوں میں یہ دھرنا کم اور فوٹوسیشن زیادہ بن گیا۔ اسد ملک صاحب نے دھرنا دیکھا تو گئے دھرنوں کی یادیں تازہ کرنے بیٹھ گئے ۔ اب وہ پرانے قصے سنائے جاتے تھے اور سب قہقہے لگائے جاتے تھے ۔ یہ وہ موقع تھا جب صغیر چوہدری صاحب پنجابی میں گویا ہوئے ’’ایداں نی ہوندا‘‘ (اس طرح نہیں ہوتا جیسے آپ کرتے ہو)۔ چوہدری صاحب نے تھوڑے دھرنے کو بہت جانا اور انتظامیہ سے رابطوں کی کاوشیں تیز کیں کہ کوئی حل نکالا جا سکے ۔ انہیں کوششوں کا نتیجہ تھا کہ انتظامیہ نے محدود تعداد میں صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت دینا شروع کی اور پندرہ ماہ تک بہترین انداز میں کوریج ممکن ہو پائی ۔۔

ہنسی مذاق یہ سلسلہ چلتا رہا اورخوب چمکا۔ ضیغم نقوی بیپر پر ناشتے کو ترجیح دینے میں اپنی مثال آپ تھے۔۔ جیسے ہی گیارہ بجتے یار لوگ کھوکھے پر ان گنت پراٹھوں پر ہاتھ صاف کرنے پہنچ جاتے ۔ اتنے پراٹھے کھائے کہ مجھے وزن کم کرنے کے لیے باقاعدہ جم جوائن کرنا پڑ گیا۔ نواز شریف کا ٹرائل چل رہا تھا اور ہماری محفلوں کا ذریعہ بن رہا تھا۔ کمپلیکس کے کیفیٹریا کی طرف قدم بڑھاتے ہی اندر ہونے والی گرما گرم بحث کی گرمی محسوس ہونے لگتی ۔۔ دروازے پر پہنچتے ہی سامنے دیکھئے ۔ احتشام کیانی کا تجزیہ کم مباحثہ جاری ہے ۔ کبھی ابرار کیانی تو کبھی عادل تنولی کے ساتھ ٹاکرا ۔ موضوع عدلیہ کو ہی بنایا جاتا اور وہ بھی ایسا کہ اگر ان مباحثوں کو رپورٹ کیا جاتا تو شاید توہین عدالت کے دو ڈھائی درجن نوٹس تو کیانی صاحب کو بھی آہی جاتے

کمپلیکس کے اندر احاطہ عدالت میں دن بھر کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا ہی رہتا کہ قہقہے پھوٹتے رہتے ۔۔ ٹکا خان ثانی اپنی لائیو موبائل اپلیکیشن کو ہیڈ آفس کے ساتھ لائیو ملا کر چیک کروا رہے تھے ۔ غلطی ان سے یہ ہوئی کہ یاسر ملک کی جانب کیمرہ رکھ کر پوچھا کہ کیا آپ کو یہ لڑکا نظر آرہا ہے؟ اس پر یاسر ملک نے جس موٹی گالی کے ساتھ جواب دیا ٹکا خان ثانی سر پیٹتے دھیمے لہجے میں یہی کہتے رہ گئے ۔۔ ’’اوہووووو۔۔۔ لائیو تھا، لائیو تھا، لائیو تھا‘‘

نواز شریف اور مریم نواز پیشی بھگت کر نکلتے تو انہیں واپسی پر عادل تنولی کو بھی بھگتنا پڑتا ۔ تنولی ہمیشہ کوئی نہ کوئی سوال صبح ہی لوڈ کر لیتا اور واپس پر داغ دیتا۔ مسئلہ مگر یہ تھا کہ کئی بار موقع پر سوال بھول جاتا۔ ایک دن تو یوں ہوا کہ جب سارا میڈیا نواز شریف کو فوکس کئے تھے فرزند ہزارہ عادل تنولی اپنا موبائل کیمرہ آن کئے مریم نواز تک پہنچنے میں کامیاب ہوا مگر وہ سوال جو پوچھنا تھا اس کا آدھا اور اصل حصہ بھول گیا ۔ لیکن مریم نواز کو وہ تقریبا غصیلے لہجے میں پکار کر روک چکا تھا اب کچھ تو پوچھنا ہی تھا سو سوال کر ڈالا

تنولی :میڈم آپ 2006 سے پہلے بھی لندن میں رہتی رہیں

مریم نواز: تو؟؟

تنولی: تو؟؟

دونوں کے درمیان ’’تو تو‘‘ کا تبادلہ ہونے لگا ۔ سہیل رشید نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مداخلت کی اور تنولی کو سچوئشن سے ریسکیو کر کے نکالا ۔

عمران منصب اور اعظم خان ڈسپلن کے پکے تھے ۔ وہ بھی ایسے کہ انہیں دیکھ کر گھڑیوں پر ٹائم ٹھیک کیا جاسکتا تھا۔ ایک کی آمد پکی پونے گیارہ تو دوسرے کی ایک بجے ہوتی ۔ اُس وقت تک میاں صاحب پیشی نمٹا کرعازم لاہور ہوچکے ہوتے ۔ اس کے باوجود مگر اعظم خان کوئی نہ کوئی ایسا اینگل نکال لیتے خبر کا کہ تین بجے کے بلیٹن میں باقی دوستوں کی ’’مسنگ‘‘ کا انتظام کر جاتے ۔ فرید صابری سے جوڈیشل کمپلیکس میں اس وقت پہلی ملاقات ہوئی جب عادل تنولی نے آواز لگائی کہ ہم ٹی وی پر چائڈ لیبر کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ محمد عمران اپنے طویل قدامت کا خوب فائدہ اٹھاتے تھے ۔ نواز شریف جیسے ہی خواجہ حارث کے کان میں گفتگو شروع کرتے تو عمران دور رہ کر اپنے کان قریب لے جاتا بس پھر ہم اس سے ساری بات پوچھ لیتے ۔ حسین چوہدری موجود تو جوڈیشل کمپلیکس میں ہوتے تھے مگر وہ کشمیر ایشو سے لیکر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی خبروں پر بھی بیپر کرواتے تھے۔ نیلم ارشد اور امبرین کی بھی کیا خوب جوڑی تھی خبروں میں سے خود کے لیے وقت بھی نکال لیتی تھیں۔ جہاں موقع ملتا ٹک ٹوک بنا کر لطف اٹھاتیں۔ ان خوشگوار لمحات کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے۔ روز روز کی پیشیوں سے ہم نواز شریف کے لیے سیکورٹی رسک نہیں رہے تھے۔ شروع میں سنجیدہ رہنے والے نواز شریف آہستہ آہستہ مزاحی کے چٹکلے بھی چھوڑنے لگے۔ کبھی کبھی شعر بھی سنا دیتے۔ خوشگوار واقعات کی یہ طویل فہرست ہے۔ ایک دفعہ نیب پراسیکوٹر سردار مظفر عباسی اور خواجہ حارث کے درمیان تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی۔ جج محمد بشیر نے مداخلت کی مگر ناکام ٹھہرے۔ غصے سے اپنی نشست سے اٹھے اور چیمبر میں چلے گئے ۔ اچانک دورازہ کھلا اور صرف منہ نکال کربولے اب جمعرات کو سماعت ہوگی۔ تب ساتھ کھڑے دوست کے کہنے پر میں نے فلم جولی ایل ایل بھی دیکھی اور خوب لطف اندوز ہوا۔ نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر پیش ہوتے مگر کیپٹن صفدر تمام رپورٹرز میں یکساں مقبول تھے۔ صبح پہنچ کر حاضری لگاتے اور موسم کی پرواہ کیے بغیر باہر آکر رپورٹرز کیساتھ گپ شپ میں مصروف ہوجاتے ۔ جب انہوں نےاپنا دفعہ تین سو بیالیس کا بیان ریکارڈ کرانا شروع کیا تو وقفے کے دوران ساری رات لگنے والی عدالت کا انکشاف کرگئے ۔ اس رات کی عدالت پر آئندہ قسط میں بات ہو گی ۔

(جاری ہے)

متعلقہ مضامین

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button