فوج اور عدلیہ بچت مہم سے مستثنیٰ ہیں، وزیر خزانہ

اسلام آباد سے اسد چودھری

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے موجودہ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی بچت مہم تمام سرکاری اداروں پر لاگو ہے مگر عدلیہ اور فوج کو اس سے استثنا حاصل ہے ۔ رانا ثنا اللہ کے پوچھے گئے سوال پر کہ کیا حکومتی بچت مہم/ اقدامات تمام سرکاری اداروں پر لوگو کئے گئے ہیں جن میں عدلیہ اور فوج بھی شامل ہے؟ پر تحریری جواب میں وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ یہ مہم ان تمام اداروں/ محکموں کیلئے ہے جو وفاقی بجٹ سے پیسے لیتے ہیں تاہم عدلیہ کو 1993 میں دیئے گئے ایک فیصلے کے تحت استثنا حاصل ہے ۔

وزیر خزانہ نے تحریری جواب میں بتایا ہے کہ فوج اپنے اخراجات اور ضروریات کیلئے رقم 1981 کے فنانشل منیجمنٹ سسٹم کے تحت حاصل کرتی ہے جس کو اس وقت صدر نے منظور کیا تھا ۔

اس سوال پر اس سادگی/بچت مہم سے کتنے پیسے بچائے گئے ہیں جواب دیا گیا کہ اصل رقم کا تعین مالی سال کے اختتام پر ہی کیا جا سکے گا تاہم وفاقی محکموں اور ڈویژنز کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے نتیجے میں اب تک گیارہ ارب ستر کروڑ بچائے گئے جن میں صوابدیدی فنڈز کے خاتمے سے ہونے والی بچت بھی شامل ہے ۔

وزیر خزانہ کے مطابق یہ بچت وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی نیلامی اور وزیراعظم کے گریڈ بیس کے افسر کے گھر میں رہائش اختیار کرنے سے ہوئی، اسی طرح سرکاری اشتہارات میں کمی اور سرکاری تحائف کے خاتمے سے ہونے والی بچت بھی شامل ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے