آئی ایس آئی سڑک کیوں نہیں کھولتی؟ چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے آبپارہ سڑک مکمل طور پر کھولنے کے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر انٹر سروسز انٹیلی جنس آئی ایس آئی سے دس دن میں جواب طلب کیا ہے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ہم نے آبپارہ میں آئی ایس آئی والی سڑک کھولنے کا حکم دیا تھا، کیا عوامی استعمال والی سڑک کو کھول دیا گیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل فیض نے ہم سے سڑک کھولنے کیلئے وقت مانگا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے پورے پاکستان میں بند سڑکیں کھولنے کا حکم دیا تھا، ابھی تک آبپارہ والی سڑک مکمل کیوں نہیں کھولی گئی، آئی ایس آئی کو رعائیت نہیں دے سکتے ۔

وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے ڈائریکٹر روڈز خالد آصف نے عدالت کو بتایا کہ سڑک بارہ سال ایجنسی کے استعمال میں رہی، سڑک کے اطراف میں ایجنسی نے کچھ آلات لگا رکھے تھے ۔

ڈائریکٹر روڈز کا کہنا تھا کہ سڑک کا کچھ حصہ اب بھی ایجنسی کے پاس ہے، یہ حصہ بفر زون کے باعث ایجنسی کے پاس ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ سڑک کی کل چوڑائی کتنی ہے اور کتنا حصہ سی ڈی اے کے حوالے کیا گیا ۔ ڈائریکٹر روڈز نے بتایا کہ کل چوڑائی 84 فٹ ہے اور 34 فٹ تاحال آئی ایس آئی کے پاس ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا عدالت کے حکم پر من و عن عمل نہیں کیا گیا ۔

وزارت دفاع کے نمائندے بریگیڈیئر فلک ناز نے بتایا کہ ہم نے سڑک کھول کر سی ڈی اے کے حوالے کردی ہے ۔  چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے اور وزارت دفاع کے موقف میں تضاد ہے، ایجنسی عدالت کے حکم سے بالاتر نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ ہمیں لکھ کر دیں ہم نوٹس کریں گے ۔

چیف جسٹس نے وزارت دفاع کے نمائندے کو مخاطب کر کے کہا کہ سارے پاکستان سے تجاوزات ہٹا دی گئیں، آپ اتنے زبردست لوگ ہیں کہ سڑک نہیں کھولی ۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ 84 فٹ چوڑی دو رویہ سڑک ایجنسی کے پاس تھی، تقریبا 50 فٹ روڈ کھول دی گئی ہے، سی ڈی اے اس پر اپنی درخواست عدالت کو دے جس کے ساتھ سڑک کی تصاویر اور نقشہ منسلک ہو جبکہ آئی ایس آئی دس دن میں جواب جمع کرائے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button