ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار

اظہر سید
ترکی میں نیلا رنگ غصہ اور بیزاری کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ پلانٹڈ وزیراعظم کے استقبال کیلئے اہلیان ترکی نے جو قالین بچھایا وہ نیلے رنگ کا تھا ۔ اپ پیسے مانگنے گئے ہیں اور اس دفعہ آپ کے پالن ہار بھی آپ سے بیزار نظر آتے ہیں اس لئے اکیلے ہی مانگنا ہے ۔سعودی عرب اور یو اے ای کے دورہ میں چیف آپ کے ساتھ تھے پھر بھی آپ کو صرف پانچ ارب ڈالر کا ادھار ملا وہ بھی مہنگا اور صرف ایک سال کیلئے ۔ عوامی جمہوریہ چین کے کامیاب دورہ کیلئے چیف صاحب آپ سے پہلے وہاں گئے انہوں نے استقبال کیلئے شہر کے میر اور گورنر کو بھیج کر اپنی بیزاری سفارتی انداز میں ظاہر کر دی اور چیف صاحب کے ایڈوانس دورہ سے بھی چینیوں کا دل نہیں پسیجا ، الٹا انہوں نے ایک اجلاس میں آپ کے شاندار ماضی کے بعض تقاریر سنوا دیں ۔
آپ ملائیشیا گئے انہوں نے ادھار پام آئل دینے کیلئے آپ کی کریڈٹ لائین دینے کی درخواست بھی کمال بے نیازی سے مسترد کر دی ۔
موجودہ دنیا کلجگ نہیں کرجگ ہے ،یہاں نقد سودا ہوتا ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے ۔آپ کے ہاتھ میں تو چینی وزیر خارجہ کے دورہ میں استقبال کیلئے دفتر خارجہ کے افسر کو بھیجنے کا سودا تھا تو آپ کے ساتھ بھی وہی سلوک ہونا تھا جس کے آپ مستحق تھے ۔آپ نے چینی صدر کے دورہ پاکستان کیلئے چینی سفیر کی دھرنہ ختم کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی ۔آپ نہ جانے کن محب وطنوں کا کھیل کھیل رہے تھے جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر دیا چین تو مہنگے قرضے دے رہا ہے ۔پاک چین دوستی دو ملکوں کے درمیان رشتہ تھا ۔حب الوطنی کا لباس پہنے منافقین نے نہ جانے کن قوتوں کے اشارے پر پاک چین دوستی کو اس نہج پر پہنچا دیا اب چین دو ارب ڈالر کا قرضہ بھی 8 فیصد کی قیمت پر دے رہا ہے۔
عظیم محب وطنوں نے اپنے فیصلوں سے پاک چین دوستی کو اس سطح پر پہنچا دیا ہے چین نے ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو بیل آوٹ نہیں کیا ۔ چینیوں نے برکس کانفرنس میں حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا آپ ایسے حب الوطنی کے پہاڑوں کو سمجھ نہیں آیا اور اب اسی چین کی منتیں کرتے پھر رہے ہیں ۔
ترکی کے صدر نے پارلیمنٹ سے خطاب کیا آپ نے بائیکاٹ کر دیا ۔آپ کے پالن ہار ۔۔ ملک سے محبت کرنے والوں نے آپ کو سمجھایا ہی نہیں ۔اب آپ کشکول لے کر پہنچ گئے ہیں چند سکے عطا ہوں ۔ گوگل سرچ کر لیں مودی کا یار جب ترکی کے دورہ پر گیا اس کا استقبال خود ترک صدر نے کیا تھا اور استقبال کیلئے بچھائے گئے قالین کا رنگ سرخ تھا یا نیلا ۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا ہے انٹر نیٹ پر ایک منٹ لگا لیں اور دیکھ لیں جس کو کلبھوشن یادو کا نام لے کر بدنام کیا جس کو ناموس رسالت کے معاملہ پر خراب کیا اس کے دورہ چین پر کس نے اس کا استقبال کیا تھا ۔
ملک کے اندر تو میڈیا کا گلا گھونٹ کر اور سائبر سیلوں کے ذریعے آپ کو ہیرو بنایا جا سکتا ہے بیرونی دنیا میں نہ آپ کی عزت ہے نہ کوئی احترام بلکہ آپ پاکستان کے دوست ملکوں کے ساتھ تعلقات پر بھی ایک بوجھ بن چکے ہیں ۔
آپ کے پاس کوئی کرشمہ ہوتا ،آپ مخلص ہوتے تو اپنی ناجائز پراپرٹی قانونی نہ بنواتے بلکہ قومی خزانے میں جمع کرانے کا اعلان کر دیتے ۔بھلے یہ غیر قانونی جائداد قومی خزانہ کو نہ دی جاتی کم از کم قوم کو آپ کے اخلاص کا اندازہ ہو جاتا ۔آپ اپنی بہن کی دوبئی پراپرٹی کا قوم کو جواب دیتے لوگوں کو آپ پر اعتماد ہوتا ۔آپ اپنی جماعت کو ملنے والے غیر ملکی فنڈز کا حساب دے دیتے آپ کی عزت میں اضافہ ہوتا ۔
آپ نے قوم کو بھی دھوکہ دیا اور اپنے پالن ہاروں کو بھی مایوس کیا ۔آپ نے فراڈ کیا بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈالروں کے ڈھیر لگا دیں گے ،ڈھیر تو کیا لگنا تھے الٹا بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر ہی کم ہو گئی ۔
ترک صدر کے ساتھ ملاقات کی جو تصویر سرکاری طور پر جاری کی گئی ہے وہی آپ کی اوقات ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔ ناپسندیدگی ظاہر کرنے کے بے شمار سفارتی طریقے ہیں ۔جب کوئی ایسی تصویر جاری کی جائے جس میں بیزاری جھلکتی ہو وہ ساری کہانی بیان کر دیتی ہے کہ آپ کا دورہ کتنا کامیاب ہے بھلے ہمیشہ کی طرح پروپیگنڈہ شروع کرا دیں نواز شریف کے این آر او کیلئے یہ دورہ تھا عظیم صحافیوں نے پہلے بھی تو بے شمار جھوٹوں کو سچ بتایا ہے ایک اور صیح ۔
ابھی تک کل ملا کر پانچ ارب ڈالر ملے ہیں دو ارب ڈالر چینی دیں گے یعنی سات ارب ڈالر کی بھیک ملی ہے وہ بھی کڑی شرائط پر ۔کرنٹ اکاونٹ خسارہ دو ارب ڈالر ماہانہ ہے صرف ساڑھے تین ماہ میں یہ پیسے ختم ہو جائیں گے ۔زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب ڈالر ہیں باقی پیسے بینکوں کے ہیں یعنی آپ کے پاس مزید چار ماہ ہونگے اس کے بعد آپ کی جیب خالی ۔آپ کو جو چھ ماہ دئے گئے تھے وہ بہت زیادہ ہیں آپ سے جس قدر جلد نجات حاصل کر لی جائے اداروں اور ملک کے بہترین مفاد میں ہے ۔
صرف چھ ماہ میں سب کچھ برباد ہو گیا ہے ۔ٹیکسوں میں خسارہ دو سو ارب روپیہ سے بھی زیادہ ہے آپ نے ٹیکسٹائل برامدکنندگان کے ریفنڈ روک رکھے ہیں تاکہ ٹیکس زیادہ ظاہر ہو سکیں ۔ترسیلات زر ہدف سے کم ہیں ۔برآمدات ہدف سے کم ہیں ۔عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی معاشی ریٹنگ کم کر دی ہے ۔حصص بازار میں خریداری ختم ہو چکی ہے ۔چھوٹے سرمایہ کار تاڑ میں بیٹھے ہوتے ہیں کب مارکیٹ میں اضافہ ہو وہ اپنے حصص فروخت کر کے بھاگ جائیں ۔
آپ کی تمام توجہ ماضی کی طرح کرپشن کرپشن کا شور مچانے پر ہے لیکن ملکی معیشت کے استحکام کا آپ کے پاس کوئی پروگرام نہیں ۔پاک فوج نے افغانستان میں بھارت اور امریکہ کو جو شکست فاش دی ،ملک کے اندر جس طرح دہشت گردوں کی کمر توڑی اور جس طرح کراچی کو ایک عفریت سے نجات دلائی آپ نے اپنے محسنوں کی تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔آپ کو اللہ سمجھے ۔

متعلقہ مضامین